حکومت کیوں پریشان ہے؟

حکومت کیوں پریشان ہے؟
 حکومت کیوں پریشان ہے؟

  

مَیں نے چند روز قبل لکھا کہ میاں محمد نواز شریف بلا کے اعتماد کا مظاہرہ کر رہے ہیں، وہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع یا نئے آرمی چیف کی تقرری کا اعلان نہیں کر رہے، ہدایات جاری کر رہے ہیں کہ سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس پر دائر کی گئی رٹ درخواستوں کے سماعت کے اختیار اور جواز کو چیلنج نہ کیا جائے، وہ تحریک انصاف کی طرف سے اعلان کر دہ لاک ڈاؤن کے موقعے پر معمول کی سرگرمیاں جاری رکھتے ہوئے کرغیزستان کا دورہ بھی منسوخ نہیں کر رہے، میرا کہنا تھا کہ اگر میاں نواز شریف بارہ اکتوبر کو لگنے والے پرویز مشرف کے مارشل لاء کے تجربے کے بعد اس سیاسی کھیل سے لطف اندوز ہو رہے ہیں تویہ خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ اسی دوران بھرپور سیاسی اعتماد کے ساتھ ریاستی طاقت استعمال کرتے ہوئے حکومت نے تحریک انصاف اور عوامی لیگ کی طرف سے دی گئی احتجاج کی کال بھی ناکام بنائی، لال حویلی میں وہ احتجاجی جلسہ بھی نہیں ہونے دیاجس کے لئے محترم طاہر القادری نے بھی اپنے کارکنوں کی فراہمی کی یقین دہانی کروائی تھی۔

مَیں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی پارٹی کسی بھی شہر کو لامحدود وقت کے لئے بند رکھنے کا اعلان کر تی ہے اور وہ شہر مُلک کا دارالحکومت بھی ہوتا ہے تو حکومت کو اسے روکنے کاہرلحاظ سے مکمل اختیار حاصل ہے مگر مجھے اس امر کی سمجھ نہیں آ رہی کہ لاک ڈاؤن میں ابھی پانچ روز باقی تھے اور حکومت نے اہم شہروں کوملانے والی بڑی سڑکوں کو کنٹینر رکھ کر اور مٹی کے تودے بنا کر بندکرنا شروع کر دیا تھا گویاتحریک انصاف نے تو ایک شہربند کرنا تھا مگر حکومت نے ایک ساتھ ہی بہت سارے شہروں کو بند کرنا شروع کر دیا۔ وہ کا م جو اپوزیشن نے حکومت کو زچ کرنے کے لئے کرنا تھا وہ حکومت نے غیر سیاسی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے خود ہی کرنا شروع کر دیا، جس اقدام پر تحریک انصاف کو بُرا بھلا کہنا چاہئے تھا اس کی راہ حکومت نے خودہموار کر لی۔ کیا یہ موقف تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ خیبرپختونخوا سے مسلح افراد کا ایک جتھا اسلام آباد کی طرف آنا چاہ رہا تھا اور اس پر موٹر وے کو بند کر دیا گیا۔ حکومت کو اس وقت شدید سراسمیگی کا سامنا کرنا پڑا جب کنٹینرز سے بند سڑک پر متبادل راستہ دیکھنے کے دوران گہری کھائی میں گرنے سے لیفٹیننٹ کرنل شاہد شہید اور میجر جلال زخمی ہو گئے۔ وزیر داخلہ نے اس سانحے کی خبر آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ہونے سے پہلے ہی سڑکیں کھولنے کا حکم جاری کر دیا، مگر اس وقت تک حکومت کا ہراساں اور ناکام ہوجانا ایکسپوز ہو چکا تھا، یعنی حکومت کئی روز پہلے سڑکیں بند کئے بغیر تحریک انصاف کے چند سو یا چند ہزارکارکنوں کو روکنے میں ناکام ہو رہی ہے۔

حکومت نے دوسرا روایتی کام یہ کیا کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر اپنی سیاسی حاضری کو بڑھانے کی بجائے اشتہارات کی بھرمار کر دی۔میں اس دلیل سے انکار نہیں کرتاکہ کسی بھی مشکل وقت میں عوام کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ان کی نمائندہ حکومت ان کے لئے دن رات کام کر رہی ہے، ان کی فلاح و بہبود کے لئے منصوبوں کو عملی شکل دے رہی ہے ، میڈیاانڈسٹری کو ہونے والی آمدنی پر بھی اعتراض نہیں مگر سوال یہ ہے کہ جو مالکان اس وقت حکومت مخالف حلقوں کے لئے کام کر رہے ہیں کیا وہ حکومت کے جاری کردہ اشتہارات کے بعد اپنی خبروں اور پروگراموں میں موجود تجزیہ کاروں کو کہہ دیں گے کہ وہ غیر جانبدار ہوجائیں، ایسا ہرگز نہیں ہو گا، کارپوریٹ کلچر کے تحت قائم میڈیا گروپس ہمیشہ طاقت کے مراکز کی طرف جائیں گے اور ان کی نظر میں پاکستان میں طاقت کا حقیقی مرکز کبھی بھی ایک سیاسی اور جمہوری حکومت نہیں رہی۔ مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ اگر حکومت اشتہارات کو سودے بازی کے لئے بھی استعمال کرنا چاہتی تھی تو وہ اس میں کامیاب نہیں رہی۔

تیسرے، حکومت نے اسلام آباد لاک ڈاؤن سے محض چار دن پہلے وزیراطلاعات پرویز رشید کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا، یہ اس خبر کے سلسلے میں ہوا جو تئیس، چوبیس دن پہلے آئی تھی، یہ درست ہے کہ حکومت پر فوجی قیادت کا دباؤ تھا،مگر سوال یہ ہے کہ جہاں تین، ساڑھے تین ہفتے گزارے جا سکتے تھے وہاں ایک آدھ ہفتہ مزید انتظار بھی ہو سکتا تھا۔ اس غیر متوقع اور اچانک فیصلے نے اپوزیشن کواس حوالے سے طاقت دی کہ دشمن کا نقصان بھی اپنا فائدہ ہوتا ہے۔ایک عمومی خیال ہے کہ جب اس خبر کے حوالے سے فوج اور حکومت ایک ہی صفحے پر ہیں کہ ذمہ داروں کو ڈھونڈ نکالنا ہے توحکومتی وفد ایک ، ڈیڑھ ہفتے کی مہلت بھی مانگ سکتا تھا اور باقاعدہ اعلان سے پہلے یہ یقین دہانی کروائی جا سکتی تھی کہ پرویز رشید اس مدت میں غیر فعال رہیں گے۔مَیں نہیں جانتا کہ پرویز رشید جس اجلاس میں موجود بھی نہیں تھے اس کی خبر لیک ہونے کی ذمہ داری ان پرکیسے عائد کی جا رہی ہے، کابینہ میں ان کی واپسی کے امکانات موجود ہیں، مگر یہاں حکومت کو ایک موثر سوال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کہ جب وزیر اطلاعات کو ایک خبر کی تحقیقات کے لئے عہدے سے الگ کیا جاسکتا ہے، تو پھر پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لئے وزیراعظم کو بھی عہدے سے الگ ہونے کا مطالبہ کیوں مسترد کیا جارہا ہے۔

مجھے سوال کرنا ہے کہ جب حکومت نے عوام کو پریشان کئے بغیر اور ریاستی طاقت کا بے جا استعمال کئے بغیر تحریک انصاف کے دھرنوں کو ناکام بنایا تو یہاں کم سے کم ریاستی طاقت استعمال کرنے کی حکمت عملی اختیار کرنے میں کیاحرج ہے کم از کم وہاں تو بہت زیادہ احتیاط کی جانے چاہئے جہاں عوام اس سے براہ راست متاثر ہو رہے ہوں۔ حکومت کو سڑکیں بند کرنے کی بجائے انہیں بند کرنا چاہئے،جو شہر بند کرنا چاہتے ہیں کہ اس کی لڑائی تحریک انصاف کے ساتھ ہے، ان عوام کے ساتھ نہیں جو اپنی خوشی، غمی، مجبوری اور ضروریات کے تحت ان سڑکوں کوا ستعمال کرتے ہیں اور یہ ان کا بنیادی آئینی اور قانونی حق بھی ہے۔ یہ درست ہے کہ ان گرفتاریوں کے خلاف تحریک انصاف کے رہنما عدالتوں سے رجوع کر سکتے ہیں اور ضمانتیں بھی حاصل کرسکتے ہیں، مگر حکومت کے پاس اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کرتے ہوئے وقت حاصل کرنے کاآپشن بھی موجود ہے۔ عدالت کو بتایا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی سیاسی جماعت پُر امن رہنے اور عوامی حقوق برقرار رکھنے کی یقین دہانی نہ کروائے تو اس کے خلاف کارروائی حکومت کا حق ہی نہیں، بلکہ فرض بن جاتا ہے، مگر یہ کوئی دلیل نہیں کہ ایک سیاسی جماعت ایک شہر بند کرنا چاہتی ہو تو دوسری سیاسی جماعت اسے روکنے کے لئے پورے صوبے کو ہی بند کر دے۔ یہ اس کے خوفزدہ ہونے کا کھلم کھلا اظہار ہے۔

حکمرانوں سے کہنا ہے کہ وہ انصاف اور مساوات پر قائم رہ کر ہی عوام میں اپنا اعتماد قائم رکھ سکتے ہیں۔ اگر دفعہ144 کا نفاذ صرف تحریک انصاف کے لئے ہے، اس دفعہ کے نافذ ہونے کے باوجود دفاع پاکستان کونسل کے رہنماوں کو اسلام آباد اور جماعت اسلامی کو لاہور میں اجتماع اور مارچ کی اجازت دی جا سکتی ہے تو پھر تحریک انصاف کو روکے جانے پر سوالات پیدا ہو گئے ہیں، قانون سب سیاسی جماعتوں کے لئے یکساں ہونا چاہئے، اس کی وضاحت یہ دی جا رہی ہے کہ دفاع پاکستان کونسل یا جماعت اسلامی قانون کو ہاتھ میں لینے نہیں جا رہیں، وہ کسی شہر کو بند نہیں کر رہیں، ان کے اجتماعات اور جلوس پُر امن تھے،مگر دفعہ144تو بہت صاف اور واضح ہے، وہ نیت کے بارے میں نہیں پوچھتی،یہ اجتماعات بھی نماز جمعہ کے ناگزیر مذہبی اجتماعات نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے تھے۔ حکومت کی یہ چھوٹی چھوٹی غلطیاں اس کی پریشانی کو ظاہر کر رہی ہیں اور میرا سوال یہ ہے کہ آپ کو پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے، کیااس وقت12اکتوبر ننانوے سے بھی بری صورت حال پیدا ہو رہی ہے؟

میری رائے ہے کہ حکومت کو اس وقت پریشان ہو کر غلطیاں کرنے کی کوئی ضرورت نہیں جیسے دو نومبر سے کئی روز پہلے سڑکیں بند کردینا یقینی طور پر غلط اقدام رہا۔ اطلاعات موجود ہیں کہ لاہور میں بھی انتظامیہ نے بڑی تعداد میں کنٹینر پکڑ لئے ہیں جن کے ذریعے راستوں اور سڑکوں کو بلاک کیا جائے گادوسری طرف تحریک انصاف نے اپنے کارکنوں کوگرفتاریوں سے بچتے ہوئے ایک ، ایک کی صورت اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کر دی ہے۔ حکومت کیوں پریشان ہو رہی ہے کہ تحریک انصاف اسلام آباد بند کر پائے یا نہ کرپائے، ہر دو صورتوں میں ا س کی ناکامی اور نقصان ہے۔

مزید : کالم