حرمین شریفین کے دفاع کیلئے سعودی حکومت کے کسی بھی حکم کی تکمیل کیلئے تیار ہیں ؛مذہبی سیاسی رہنما

حرمین شریفین کے دفاع کیلئے سعودی حکومت کے کسی بھی حکم کی تکمیل کیلئے تیار ...

لاہور (نمائندہ خصوصی) مکہ مکرمہ پر میزائل حملے کی کوشش عالم اسلام کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں پر حملے کی کوشش ہے۔04 نومبر 2016ء بروز جمعتہ المبارک کو ملک بھر میں ’’یوم دفاع ارض حرمین الشریفین ‘‘ کے طور پر منایا جائے گا۔ حکومت پاکستان فوری طور پر اعلیٰ سطحی وفد سعودی عرب روانہ کرے جو حرمین الشریفین کی سلامتی، دفاع اور استحکام کیلئے سعودی حکومت کے ساتھ ہر ممکن عملی تعاون کا اعلان کرے ۔ مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے کی کوشش کرنے والے ملت اسلامیہ کی وحدت ، بقاء اور سلامتی کے دشمن ہیں ۔ یہ بات پاکستان علماء کونسل کے زیر اہتمام لاہور پریس کلب میں ہونے والی ’’دفاع ارض حرمین الشریفین کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے مختلف 28 سے زائد مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین نے کہی۔ کانفرنس کی صدارت پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کی۔ کانفرنس میں ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے حوثی باغیوں کی طرف سے مکہ مکرمہ پر حملے کی کوشش کو جرم عظیم قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ حوثی باغیوں اور ان کے سرپرستوں کا ہدف یمن یا سعودی عرب کی حکومت نہیں بلکہ مسلمانوں کے مقدسات ہیں اور مسلمانوں کے مقدسات کے دفاع کیلئے پورا عالم اسلام سعودی عرب کی حکومت ، سلامتی کے اداروں اور سعودی عرب کی افواج کے ساتھ ہے۔ مسلم نوجوان ارض حرمین الشریفین کی سلامتی اور استحکام کیلئے حکومت سعودی عرب کے کسی بھی حکم کی تکمیل کیلئے ہر لمحہ تیار ہیں۔ قرار داد میں مطالبہ کیا گیا کہ اسلامی سربراہی کانفرنس کا فوری طورپر مکہ مکرمہ میں اجلاس بلایا جائے اور حوثی باغیوں کی طرف سے مرکز اسلام مکہ مکرمہ پر ہونے والے حملے کے خلاف عالم اسلام متفقہ لائحہ عمل بنائے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمو داشرفی نے کہا کہ حکومت پاکستان ، افواج پاکستان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ارض حرمین الشریفین کے دفاع اور سلامتی کیلئے ہر ممکن اقدامات کرے ۔ مکہ اور مدینہ مسلمانوں کی وحدت کے مرکز ہیں اور مکہ اور مدینہ پر حملہ کرنے والوں کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔ حوثی باغیوں نے سرخ لائن کو کراس کر دیا ہے اور اب مسلمانوں کو اس صورتحال میں اپنے واضح لائحہ عمل کا اعلان کرنا ہے۔ کانفرنس سے جمعیت علماء اسلام کے قائم مقام سیکرٹری جنرل مولانا امجد خان نے کہا کہ اللہ کے گھر کی حفاظت کیلئے مسلمان ابابیل ہیں ۔ حکومت پاکستان سعودی عرب کی حکومت سے رابطہ قائم کرے ، اسلامی سر براہی کانفرنس کا اجلاس بلایا جائے اور ارض حرمین الشریفین کی سلامتی اور دفاع کیلئے متفقہ پالیسی بنائی جائے۔ جمعیت علماء پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا سردار محمد خان لغاری نے کہا کہ مکہ اور مدینہ مسلمانوں کی عقیدت کے مرکز ہیں اور ہم سعودی عرب کی حکومت اور عوام کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہیں ۔ حکومت پاکستان کو واضح طور پر مکہ مکرمہ پر کی جانے والی حملے کی کوشش کے خلاف اپنے لائحہ عمل کا اعلان کرنا چاہیے۔ تحریک تحفظ حرمین الشریفین کے سر براہ علامہ زبیر احمد ظہیر نے کہا کہ پاکستان سمیت پورا عالم اسلام غم کی کیفیت میں ہے ، حوثی باغیوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف اب مزید خاموشی ناقابل قبول ہو گی۔حکومت پاکستان اور اسلامی ممالک کی حکومتوں کو اب اپنا واضح لائحہ عمل دینا ہو گا۔جمعیت علماء اسلام (س) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی نے کہا کہ ارض حرمین الشریفین کے دفاع اور سلامتی کیلئے تمام مکاتب فکر متحد ہیں۔ امت مسلمہ کو حوثی باغیوں اور ان کے سر پرستوں کے خلاف متحد ہونا ہے۔ پاکستان علماء کونسل کے مرکزی سیکرٹری جنرل صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی نے کہا کہ اقوام متحدہ حوثی باغیوں کو دہشت گرد ڈکلیئر کرے ۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حملے کی کوشش سے بڑی دہشت گردی ممکن نہیں ہے ۔ حوثی باغیوں سے یمن کی حکومت مذاکرات ختم کرے اور قرآن کریم کے فیصلے کے مطابق ابراہہ کے لشکر کی طرح مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے والے حوثی باغیوں کے مکمل خاتمے یا ان کے ہتھیار پھینکنے تک جدوجہد کو جاری رکھا جائے۔ پاکستان علماء کونسل کے مرکزی وائس چیئرمین مولانا محمد ایوب صفدر نے کہا کہ مکہ اور مدینہ کا دشمن انسانیت کا دشمن ہے اور انسانیت کے دشمنوں سے مقابلہ ملت اسلامیہ پر فرض ہے ۔ شرعی طور پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تقدس کو پامال کرنے والوں کیلئے کوئی معافی نہیں ہے ۔ پاکستان علماء کونسل ارض حرمین الشریفین کے دفاع ، سلامتی اور ملت اسلامیہ کی وحدت اور اتحاد کیلئے ہر ہر لمحہ اپنی جدوجہد کو جاری رکھے گی۔

مزید : علاقائی