محکمہ زراعت کے کنٹریکٹ ملازمین کاتیسرے روز بھی دھرنا جاری

محکمہ زراعت کے کنٹریکٹ ملازمین کاتیسرے روز بھی دھرنا جاری

لاہور(خبرنگار)محکمہ زراعت کے شعبہ واٹر مینجمنٹ کے ملازمین کا ڈیوس روڈ پر ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ افسر زراعت کے دفتر کے باہر دھرنا تیسرے روز بھی جاری رہا جس کے باعث ٹریفک کا نظام مفلوج رہا ہے۔ مظاہرین نے پنجاب اسمبلی کے باہر دھرنے کی کال دے دی۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ محکمہ زراعت کی جانب سے تسلی بخش مذکرات نہیں کیے جارہے جبکہ پنجاب بھر سے 1600 سے زائد ملازمین کا روزگار داؤپر لگایا گیا ہے۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ 12 سال سے کنٹریکٹ پر کام کر رہے ہیں۔ جب مستقل کرنے کی درخواست دی گئی تو پنجاب بھر کے 1600 ملازمین کو ٹرمینشن لیٹرز جاری کر دیئے گئے اور تنخواہیں بھی بند کر دی گئی ہیں۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ وزیر زراعت نے 2010ء میں ریگولر کرنے کا وعدہ کیا تھا جو تاحال پورا نہیں کیا گیا۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان کے مطالبات نہ مانے گئے تو احتجاج کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کیباہر بھوک ہڑتالی دھرنا دیا جائے گا، احتجاجی دھرنے کے باعث ٹریفک نظام بری طرح متاثر ہوا جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

دھرنا

مزید : صفحہ آخر