چارسدہ‘ کھنڈرے اور کرکنے اقوام کے مابین جاری قبرستان تنازعہ کا ڈراپ سین

چارسدہ‘ کھنڈرے اور کرکنے اقوام کے مابین جاری قبرستان تنازعہ کا ڈراپ سین

چارسدہ (بیورورپورٹ)پانچ افراد کے قتل اور تین جوانوں کے زخمی ہونے کے بعد کھنڈرے اور کرکنے اقوام کے مابین جاری قبرستان تنازعہ کا ڈراپ سین ۔دونوں اقوام کے مابین دو سال سے جاری تنازعہ کی وجہ سے بیشتر مکینوں نے نقل مکانی کی تھی جبکہ دونوں علاقوں میں طلباء و طالبات کی تعلیمی سرگرمیاں ختم ہو چکی تھی ۔جرگہ نے مقتولین کے ورثا ء کیلئے لاکھوں روپے نقدی اور آراضی دینے کا فیصلہ کیا۔ ہزاروں افراد اور جرگہ مشران کی موجودگی میں فریقین شیر وشکر ہو گئے ۔ تفصیلات کے مطا بق یونین کونسل بٹگرام کے دو دیہات کھنڈر ے اور کرکنے کے اقوام کے مابین دو سال سے قبرستان کی ملکیت پر تنازعہ چلا آرہا تھا جس میں پانچ افراد قتل جبکہ تین افراد زخمی ہوئے تھے ۔ کشیدگی کی وجہ سے دونوں اقوام کے بیشتر لوگوں نے نقل مکانی کی تھی جبکہ علاقے میں طلباء اور طالبات کی تعلیمی سرگرمیاں بھی ختم ہو چکی تھی ۔ دونوں اقوام کے مابین کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے سرکاری ملازمین گھر بیٹھ چکے تھے جبکہ زرعی زمینیں بنجر ہو چکی تھی ۔دوسال تک مسلسل کشیدہ صورتحال کے حوالے سے دونوں اقوام کے مابین راضی نامہ کیلئے کئی بار کوشش کی گئی مگر کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہ سکا۔سابقہ مشیر وزیر اعلی خیبر پختون خواسید معصوم شاہ باچہ کی قیادت میں جرگہ مشران شہریار خان پختون یار کرکنی ،مفتی طاہر اللہ ، اقبالی شاہ اور دیگر نے خونی دشمنی ختم کرنے اور نوجوان نسل کے مستقبل کو بچانے کیلئے دونوں اقوام سے مسلسل ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا اور بالا آخر اللہ کی مددسے دونوں اقوام خونی دشمنی ختم کرنے پر راضی ہوئے اور اس حوالے سے جرگہ کو اختیار دیا ۔ اتوار کے روز سید معصوم شاہ باچا کی رہائش گاہ پر دونوں اقوام کے مشران مدد خان اور تاویر خان کے قیادت میں دونوں اقوام کے ہزاروں افراد سمیت دیگر علاقوں کے سینکڑوں عمائدین کی موجودگی میں فریقین نے قرآن پاک پر حلف لیکر آئندہ کیلئے بھائیوں کی طرح زندگی گزارنے اور غمی خوشی کے رسومات اکھٹے ادا کرنے کا حلف لیا۔جرگہ فیصلے کے روسے قبرستان تنازعہ کے خونی دشمنی میں جان بحق ہونے والے پانچ افراد کیلئے لاکھوں روپے نقد اور آراضی دینے کا اعلان کیا گیا۔ اس موقع پر سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے ۔ جرگہ میں مختلف پولیس تھانوں کے ایس ایچ اوز اور ڈی ایس پی سرکل محمد فیاض خا ن بھی موجود تھے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر