شکریہ سری لنکن حکومت ،کرکٹ ٹیم

شکریہ سری لنکن حکومت ،کرکٹ ٹیم
 شکریہ سری لنکن حکومت ،کرکٹ ٹیم

  

سری لنکا کرکٹ ٹیم پاکستان کے دل لاہور آئی۔ میں سری لنکا کی حکومت اس کے کرکٹ بورڈ اور سری لنکا کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کا اہل پاکستان کی جانب سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور سری لنکن حکومت اور کرکٹ ٹیم کی جرات بہادری کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے پاکستان میں تیسرا ٹی ٹونٹی انٹر نیشنل میچ کھیلنے کا فیصلہ کیا، ان شاء اللہ اب بہت جلد دیگر ممالک کی کرکٹ ٹیمیں اور دیگر ممالک بھی پاکستان میں کھیلوں کے ایونٹس کے لئے آئیں گے۔

دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور کوئی بھی ملک اس سے محفوظ نہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام ممالک صرف پاکستان کو غیر محفوظ ملک سمجھیں اور اپنے آپ سے چشم پوشی اختیار کرلیں۔ دہشت گرد سب ممالک اور اقوام کے مشترکہ دشمن ہیں، ہمیں باہمی تعاون سے ان کا قلع قمع کرنا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ وہ آئی سی سی کو پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے حوالے سے قائل کرنے میں کامیاب ہوگیا، ٹی ٹونٹی میچ کے لئے سری لنکن ٹیم ساڑھے آٹھ سال بعد آئی۔کرکٹ سری لنکا کے صدر سوما تھی پالا نے کہا کہ لاہور آکر ہمارے جذبات بیان سے باہر ہیں، سری لنکا کی ٹیم جلد دوبارہ پاکستان آئے گی۔ ہماری انڈر 19 ٹیمیں بھی پاکستان آئیں گی، اگر کرکٹ میں پاکستان کمزور ہوگا تو پورے ایشیائی ملک کمزور ہو جائیں گے۔

پاکستان کرکٹ کا بڑا ملک ہے، اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، قذافی اسٹیڈیم گراؤنڈ میں ہی ہم نے ورلڈ کپ جیتا تھا، آج ہم اپنے سچے دوست ملک کی مدد کے لئے آئے ہیں، سوماتھی پالا کا کہنا تھا کہ ہمارے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ ہم پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کا حصہ ہیں۔ سری لنکا کرکٹ کے صدر کے جذبات کا ہم دل کی اتھاہ گہریوں سے خیر مقدم کرتے ہیں، ہم بھی سری لنکا کی حکومت اورعوام سے ایسے ہی جذبات کا اظہار کرتے ہیں کہ پاکستانی عوام محسن نواز ہیں، میں آئی سی سی کے صدر اور ممبران سے التماس کرتا ہوں کہ وہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے سحر سے باہر آجائے اور کھلی حقیقت کا ادارک کرتے ہوئے دنیائے کرکٹ کی دیگرٹیموں کو پاکستان بھجوائے۔ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ دہشت گرد سب کا مشترکہ دشمن ہے۔

کیا امریکہ یورپ افریقہ، ایشیائی براعظم کون سا ملک ہے جو دہشت گردی کے نا سور سے محفوظ ہے، لیکن کیا یورپی و دیگر براعظموں کے ممالک میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد کھیلوں کے مقابلے بند ہو جاتے ہیں، ہرگز نہیں تو پھر پاکستان کو کیوں تعصب کا نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ دنیا پاکستان کے خلاف اب تعصب کی عینک اتار پھینکے۔

لاہور کی ضلعی انتظامیہ، کمشنر لاہور ڈویژن محمد عبد اللہ خان سنبل ان کے زیر سایہ دپٹی کمشنر لاہور سمیر احمد سید نے لاہور کو بڑی خوبصورتی سے سجایا اور سری لنکا کرکٹ ٹیم کے دل جیت لئے ۔پولیس اور دیگر اداروں نے بھی سیکیورٹی کے حوالے سے بہترین انتظامات ترتیب دئیے۔

کمشنر لاہور محمد عبد اللہ سنبل کی جانب سے شائقین کرکٹ کے لئے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے لئے فری پارکنگ، اس کے ساتھ سپیڈو بس سروس کی فری شٹل سروس کی سہولت فراہم کر کے اعلیٰ ظرفی کا اقدام کیا کمشنر لاہور بذات خود بھی کرکٹ کے اچھے کھلاڑی ہیں، وہ غالبا لاہور جمخانہ کرکٹ کلب کی طرف سے کرکٹ کھیلتے ہیں، اسی لئے سپورٹس ایونٹس کے لئے وہ نوجوان نسل کو صحت مند تفریح کے موقع بہتر انداز میں فراہم کر نے کے لئے کوشاں رہتے ہیں، حکومت کو چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ سپورٹس گراؤنڈ بنائے تا کہ ہمارے کھیلوں کے میدان شاد آباد رہیں اور ملک و قوم کو قومی و بین الاقوامی سطح پر کھلاڑی مل سکیں اور کھیلوں میں پاکستان اپنا وقار بلند کرسکے۔

آخر میں ایک ضروری عرض ہے کہ کرکٹ میچ کے انعقاد پر جس طرح ضلعی انتظامیہ ،ٹریفک انتظامیہ، سیکیورٹی انتظامیہ کے باہمی اشتراک سے سیکیورٹی و ٹریفک پلان ترتیب دیا جاتا ہے، اس سے پورے شہر کی ٹریفک جام ہونے سے نظام زندگی مفلوج ہو جاتا ہے، ایسے لگتا ہے کہ شہری محصور ہو کر رہ گئے ہیں، حکومت اور ریاستی ادارے اس کا ادراک کریں، کیونکہ فیروز پورروڈ،کینال روڈ، جیل روڈ کو ٹریفک کے لئے بند کرنے کا مطلب ہے کہ پورے لاہور کو جام کر دیا گیا۔ ایسا اقدام شہریوں کی خوشی کو فت میں بدلنے کے مترادف ہے۔

مزید : کالم