روہنگیا مسلمان: پس منظر اور پیش منظر

روہنگیا مسلمان: پس منظر اور پیش منظر
روہنگیا مسلمان: پس منظر اور پیش منظر

  



برما (موجودہ نام میانمار) میں سکونت پذیر روہنگیا مسلمان گزشتہ کئی دہائیوں سے بدھ مت کے پیروکاروں کے ظلم وستم کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ان پر جبر و استبداد کا سلسلہ وقفہ وقفہ سے ایک تواتر سے جاری ہے، اس خونریزی میں کبھی تو تیزی آجاتی ہے اور کبھی یہ ہولناک منظر نامہ وقتی ٹھہراؤ کی عکاسی کرتا ہے۔

روہنگیا مسلمان کون ہیں؟ دنیا کی اس مظلوم ترین اقلیت کا مستقبل کیا ہے؟ یہ وہ معنی خیز سوالات ہیں جن کا جواب معلوم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، وطن عزیز میں یوں تو مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کی حمایت و تائید میں احتجاجی ریلیوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے، مگر اس نازک مسئلے کے صحیح پس منظر اور ممکنہ حل کی بابت لاعلمی کا رویہ نظر آتا ہے۔

یہ امر ذہن نشین رہے کہ روہنگیا کسی مخصوص علاقہ کا نام نہیں بلکہ ایک نسل سے وابستہ افراد روہنگیا سے موسوم ہیں، ان میں سے کچھ افراد ہندو مت کے پیروکار بھی ہیں، تاہم روہنگیا نسل کی غالب ترین اکثریت اسلام سے وابستہ ہے۔

میانمار کے صوبہ اراکان میں (جس کی سرحد بنگلہ دیش سے ملتی ہے) تقریباً 13 لاکھ روہنگیا نسل کے فرزندان توحید آباد ہیں، اور اتنی ہی تعداد میں راخائن نسل کے افراد بھی اراکان میں آباد ہیں۔ راخائن نسل بدھ مت کی پیروکار ہے۔

یہی لوگ روہنگیا مسلمان آبادیوں کو تہہ تیغ کرنے میں میانمار کی ملٹری فورسز کے شانہ بشانہ افسوسناک کردار ادا کررہے ہیں۔ در اصل راخائن کو اپنی نسل کے ناپید ہونے کا خود ساختہ خوف لاحق ہوچکا ہے، حالانکہ روہنگیا کو میانمار حکام کی جانب سے 2 سے زائد بچے پیدا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

روہنگیا کی تیزی سے نسل کشی ہونے کے باوجود ان کی نسل میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے، ان سارے خونریز فسادات کی بنیاد ہی اکثریت کا اقلیت میں بدل جانے کا وہ خود ساختہ نفسیاتی ڈر ہے جو آج انتہا پسند راخائن بدھ مت کو لاحق ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق میانمار میں تقریباً 10- لاکھ افراد رہبانیت کی زندگی بسر کررہے ہیں، وہ گوتم بدھ (سدھارتھ) کی تعلیمات کے مطابق تارک الدنیا ہوکر بھکثوؤں اور بھکثونیوں (جو عورتیں بھکثو بننے کا فیصلہ کرتی ہیں) کی حیثیت سے اپنے شب و روز گزار رہے ہیں، یہ لوگ نارنجی رنگ کے کپڑوں میں ملبوس نظر آتے ہیں ان کے ہاتھوں میں کشکول ہوتے ہیں، بھیک مانگ کر اپنی ضروریات زندگی پوری کرتے ہیں، اس سے ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ میانمار میں رہبانیت کے فروغ پذیر رجحان کی بناء پر شادیوں کا رجحان بہت کم ہے، ان تمام امور کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے یہ عیاں ہے کہ اکثریت آبادی راخائن بدھ مت کو روہنگیا مسلمانوں کے میانمار پر بڑھتی ہوئی آبادی کی بناء پر قابض ہونے کاخطرہ در پیش ہے۔

اس خوف کے پیش نظر وہ روہنگیا مسلمانوں پر پے در پے خونریز حملے کررہے ہیں۔ علاوہ ازیں راخائن بدھ مت کی روہنگیا کی بابت شدید نفرت و عناد کو پروان چڑھانے میں ایک مذہبی انتہا پسندانہ واقعہ نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

طالبان کے دور اقتدار میں افغانستان کے صوبہ بامیان میں گوتم بدھ کے دیو قامت مجسمے ’’بت شکنی‘‘ کے نام پر بمباری سے تباہ کردیئے گئے تھے، افغانستان حضرت سیدنا عثمان غنیؓ کے دور خلافت میں صحابی رسولؐ حضرت عبدالرحمن بن سمرہؓ نے فتح کیا۔

صحابہؓ کی مقدس جماعت وہاں وارد ہوئی، مگر انہوں نے ان مجسموں کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ ان مجسموں کی مسماری کے اس فعل نے بھی میانمار کے بدھ مت عوام کے اہل اسلام کے خلاف غیظ و غضب میں اضافہ کرکے رکھ دیا۔ گویا ’’کرے کوئی بھرے کوئی‘‘ کے مصداق بدھ مت کے بانی کے مجسموں کی تباہی کا بدلہ روہنگیا مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل کر لیا گیا، در حقیقت یہ واقعہ میانمار کے بدھ مت کے اذہان و قلوب پر اسلام اور مسلمانوں کی بابت شدید نفرت و کدورت پر مبنی گہرے اور دور رس اثرات کے مرتب ہونے کا سبب بنا حالانکہ طالبان کا یہ غیر دانشمندانہ اور جذباتیت پر مبنی اقدام اسلام کی حقیقی روح کی ترجمانی نہیں کرتا۔

میانمار طویل عرصہ کمیونسٹ فوجی حکمرانوں کے زیر تسلط رہا ہے، اور 1962ء کے بعد 2012ء میں جمہوریت حکومت کو ملک میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کا موقع ملا ہے، ان دنوں وہاں کی سربراہ مملکت آنگ سان سوچی ہیں، یہ جمہوریت اور انسانی حقوق کی علمبردار وہ خاتون ہیں جو طویل عرصہ تک میانمار آمریت کے خلاف برسر پیکار رہی ہیں۔ بالآخر وہاں جمہوریت حکومت کے قیام کے لئے کی جانے والی انتھک کاوشوں کی بنا پر نوبل امن انعام کی مستحق ٹھہرائی گئیں، حالیہ دلخراش واقعات میں ان کا روہنگیا کی بابت یہ بیان کہ ’’میانمار میں مسلمانوں کا قتل و غارت محض ایک پروپیگنڈہ ہے‘‘ نہایت افسوسناک امر ہے۔ یہ بیان ان کی انسانی حقوق کے لئے کی جانے والی جدوجہد پر گویا پانی پھیرنے کے مترادف ہے۔ میانمار کی فوجی کمیونسٹ حکومت نے 1982ء کے ظالمانہ سٹیزن شپ لاء کے تحت وہاں سکونت پذیر روہنگیا نسل کے 8 لاکھ سے زائد مسلمانوں جبکہ چینی اور بنگالی نسل کے دوسرے 10 لاکھ مسلمانوں کو میانمار کی شہریت سے محروم کردیا گیا، حکومت کی جانب سے غیر ملکی قرار دیئے جانے کی بناء پر یہ مظلوم ترین طبقہ میانمار میں کسی قسم کی جائیداد خریدنے کا بھی حقدار نہیں ہے۔ وہاں گزشتہ 30 برسوں سے نئی مسجد بنانے کی اجازت نہیں ہے، میانمار حکومت انہیں غیر ملکی بنگالی گردانتی ہے، جبکہ بنگلہ دیشی انہیں بنگالی تسلیم کرنے سے یکسر انکاری ہیں۔

علاوہ ازیں عید قربان پر روہنگیا مسلمانوں کو قربانی دینے کیلئے حکومت کو ٹیکس بھی دینا پڑتا ہے، 2013ء میں اقوام متحدہ نے روہنگیا مسلمانوں کو دنیا کی ان مظلوم ترین اقوام میں شامل کیا جن کی سب سے زیادہ نسل کشی کی جارہی ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران میانمار میں سینکڑوں مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کیا جاچکا ہے، ان کے سینکڑوں مکانات اور دیگر املاک بھی نذر آتش کی جاچکی ہیں۔ ان انسانیت سوز مظالم کی بناء پر یہ بے آسرا لوگ آراکان سے نکل کر دوسرے ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں، اس وقت روہنگیا بنگلہ دیش میں 3 لاکھ (حالیہ خونریز فسادات کی وجہ سے اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے) پاکستان میں 2 لاکھ، تھائی لینڈ میں ایک لاکھ جبکہ ملائیشیا میں 24 ہزار کی تعداد میں آباد ہیں۔ 5 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میانمار میں اکثریت ’’بدھ مت‘‘ سے تعلق رکھتی ہے جبکہ 22 لاکھ سے زائد مسلمان کئی نسلوں سے میانمار میں آباد ہیں۔ دراصل اراکان کا علاقہ 1430ء سے اٹھارویں صدی کے آخر تک ایک آزاد، خود مختار، خوشحال مسلم ریاست کی حیثیت سے قائم رہا ہے۔ جس کا اب میانمار حکومت نے نام بدل کر ’’راکھین‘‘ رکھ دیا ہے۔

1784ء میں برما کے بدھ مت باشاہ ’’بودھا پھیا‘‘ نے مسلمانوں کی اس خود مختار ریاست آراکان پر قبضہ کرکے اس علاقے کو زبردستی برما کا حصہ بنا دیا، بعد ازاں 1826ء میں انگریزوں نے برما فتح کرلیا اور یوں یہ علاقہ انگریزوں کے قبضہ میں آگیا۔ 1948ء میں برطانوی غلامی سے نجات ملنے کے بعد آراکان (اردو میں لفظ ارکان مستعمل ہے) بدھ مت کے دوبارہ زیر تسلط آگیا۔

1947ء میں تحریک پاکستان کے دوران روہنگیا مسلمانوں کے سیاسی زعماء نے آراکان کے علاقے کو مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) سے الحاق کرانے کے لئے بھرپور کاوشیں بھی کی تھیں، بد قسمتی سے ان کی یہ جدوجہد بے سود ثابت ہوئی اور آراکان ایسٹ پاکستان کا حصہ نہ بن سکا۔

حالیہ عیدالاضحیٰ سے شروع ہونے والے ان خونریز فسادات میں تقریباً 2 ہزار کے قریب روہنگیا مسلمانوں کے گھروں اور جھونپڑیوں کو نذر آتش کرکے ان میں سکونت پذیر مظلوموں کو زندہ جلا دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اب تک 1400 سے زائد مسلمانوں کو قتل اور ہزاروں کو زخمی کیا جاچکا ہے۔ جبکہ 73 ہزار سے زائد مسلمان بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے

ایمنسٹی انٹرنیشنل رپورٹ کے مطابق میانمار کی سرکاری حکومت مکمل طور پر اس قتل و غارت میں راخائن نسل بدھ مت کی پشت پناہی کررہی ہے۔ روہنگیا کے خلاف آپریشن میں راخائن کے شانہ بشانہ میانمار کی سکیورٹی فورسز بھی مصروف عمل ہے۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ میانمار کی فورسز بنگلہ دیشی سرحد کے ساتھ ساتھ بارودی سرنگیں بھی بچھا رہی ہے تاکہ روہنگیا مسلمان بحفاظت بنگلہ دیش نہ پہنچ سکیں۔ مسلمانوں کی نسل کشی کرنا میانمار کی آرمی اور راخائن نسل کے بدھوں کا دلچسپ مشغلہ بن چکا ہے، موجودہ صورتحال نہایت تشویشناک اور توجہ طلب ہے، 2015ء میں ایک امریکی تنظیم کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ روہنگیا مسلمانوں کی نسل بالکل نا پید ہونے کے قریب ہے، امن و آشتی اور عدم تشدد کے پر چارک ’’بُدھ ‘‘ مذہب کے پیروکاروں کی جانب سے انسانیت سوز مظالم مہاتما بدھ کی امن پر مبنی تعلیمات پر سوالیہ نشان ہیں، ان نامساعد حالات میں یہ لوگ سمندری اور خشکی راستے سے بے سرو سامانی کے عالم میں بنگلہ دیش وارد ہورہے ہیں۔ بد قسمتی سے ہنوز بنگلہ دیش حکومت بھی ان کو اپنی معیشت پربو جھ گردانتے ہوئے خوش دلی سے پناہ دینے سے گریزاں نظر آرہی ہے۔

یہ ستم زدہ لوگ بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں میں قائم امدادی کیمپوں میں بے چارگی اور بے یارو مددگار حالت میں زندگی کی آخری سانسیں لینے پر مجبور نظر آتے ہیں۔ ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ یہ مظلومیت کی عملی تصویر بنے اپنی تباہ حالی پر نوحہ کناں ہیں۔

عالم اسلام میں صرف ترکی صدر جناب رجب طیب اردوان ہی روہنگیا مسلمانوں کے لئے عالمی سطح پر آواز بلند کررہے ہیں، انہوں نے یہ تاریخی اعلان کیا ہے کہ اگر بنگلہ دیش روہنگیا کو اپنے ملک میں پناہ دے دے تو وہ ان کا خرچہ مکمل طور پر اٹھانے کو تیار ہیں۔

اس ضمن میں ترکی کی خاتون اول نے حال ہی میں بنگلہ دیش میں روہنگیا مسلمانوں کے لئے قائم ریلیف کیمپوں کا دورہ بھی کیا ہے۔ وہ اس طبقہ کی آہ و زاری اور بے چارگی کے دل فگار مناظر دیکھ کر فرط غم سے آبدیدہ بھی ہوگئی تھیں۔ ترک حکومت گزشتہ پانچ برسوں کے دوران تقریباً 70 ملین ڈالر کی خطیر رقم روہنگیا مسلمانوں کی امداد کے لئے روانہ کرچکی ہے، یہ امر ترکوں کا اس مظلوم قوم کے لئے نیک تمناؤں اور مساعئی جمیلہ کا آئینہ دار ہے، اس تمام منظر نامہ میں عالمی استعماری قوتیں خاموشی سے روہنگیا کی نسل کشی دیکھ رہی ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ چین خطے میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام رکوائے، عالمی سامراجی طاقتوں کی کوشش یہ ہے کہ اس ناگفتہ بہ صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اقوام متحدہ کے امن فوجی دستوں کے نام پر میانمار میں چین کے خلاف فوجی اڈہ قائم کیا جاسکے۔

بہر حال روہنگیا مسلمان نہایت کسمپرسی اور پر خطر حالات کا سامنا کررہے ہیں۔ آزادی کتنی عظیم نعمت ہے، یہ میانمار میں مقیم مسلمان ہی سمجھ سکتے ہیں، روہنگیا کی دالخراش اور ظلم و جبر کی ہولناک داستانیں قیام پاکستان کی حقانیت کی بھرپور تائید کررہی ہیں۔ یہ دل سوز واقعات ان بد طینت افراد کے منہ پر طمانچہ ہیں جو تخلیق پاکستان کو غلط گردانتے ہوئے قائداعظمؒ کی شخصیت پر ہرزہ سرائی کرتے نظر آتے ہیں، اللہ تعالیٰ روہنگیا مسلمانوں کا حامی و ناصر ہو (آمین)

مزید : کالم