انصاف اور اوپن ٹرائل لازم و ملزوم

انصاف اور اوپن ٹرائل لازم و ملزوم
 انصاف اور اوپن ٹرائل لازم و ملزوم

  

ایک منصف دہائی دے رہا ہے، فریاد کررہا ہے، انصاف طلب کرنے کے لئے آواز بلند کررہا ہے۔ اس کا مطالبہ پاکستان کے آئین کے عین مطابق ہے۔

جب پاکستان کے کسی بھی شہری کے سول حقوق کا مسئلہ ہو یا پاکستان کے کسی شہری کے خلاف کوئی الزام ہو تو منصفانہ ٹرائل اس کا بنیادی حق ہے۔ قانون اور انصاف کے معروف تقاضوں کو پورا کئے بغیر کسی کو سزا دے ڈالنا ظلم اور ناانصافی کے مترادف ہے۔

قانون اور عدل کے روبرو تمام شہریوں کو ایک جیسے، یعنی مساوی حقوق حاصل ہیں۔ قانون سب کو یکساں تحفظ فراہم کرتا ہے اور پاکستان کا آئین اس کا ضامن ہے۔

پھر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی اس استدعا کو کیسے رد کیا جاسکتا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ان کے خلاف شروع کی گئی کارروائی کو خفیہ نہ رکھا جائے۔

عدالت میں اوپن ٹرائل اور انصاف ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزم ہیں۔ اوپن ٹرائل نہ کئے جانے کا مطلب کچھ چھپانا ہوتا ہے، اگر معاملہ کچھ ایسے قومی رازوں سے متعلق ہو، جن کے ظاہر ہو جانے سے ملکی اور قومی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہو تو اس سے متعلق کارروائی کو خفیہ رکھا جاسکتا ہے، لیکن جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف جو الزامات ہیں، وہ ان کی ذات سے متعلق ہیں۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی اگر اپنے خلاف کسی بدعملی یا بد انتظامی کے الزامات کی انکوائری اوپن ٹرائل کی شکل میں کروانے کا مطالبہ کررہے ہیں تو یہ آئینی اور قانونی طور پر بھی جائز ہے اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے بھی ناگزیر ہے۔ جس طرح انصاف کے لئے ایک غیر جانبدار اور آزاد عدلیہ ضروری ہے، اسی طرح اوپن ٹرائل بھی انصاف کا لازمی جزو ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ جسٹس شوکت صدیقی نے سپریم جوڈیشل کونسل کے جاری کئے ہوئے کوڈ آف کنڈکٹ کی کوئی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں؟ اس کا جائزہ لینے کے لئے اوپن ٹرائل نہ کرنے سے کون سے مقاصد حاصل کئے جاسکتے ہیں؟ آخر سپریم جوڈیشل کونسل کو کیا پریشانی لاحق ہے کہ جسٹس شوکت صدیقی کی یہ درخواست مسترد کردی گئی ہے کہ ان کے خلاف اوپن ٹرائل کیا جائے۔ ہمارے خیال میں جسٹس شوکت صدیقی کی یہ خواہش اور عمل قابلِ تحسین اور لائقِ تقلید ہے کہ وہ اپنے خلاف اوپن ٹرائل کی استدعا کررہے ہیں۔جسٹس شوکت صدیقی کو پنجاب زمانۂ طالب علمی کے دور سے جانتا ہوں۔ شوکت صدیقی کے حوالے سے یہ دعویٰ تو نہیں کروں گا :

تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو

دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

تاہم میں یہ ضرور عرض کروں گا کہ شوکت صدیقی اپنے بھرپور عہد شباب میں بھی سیرت و کردار کے اعتبار سے ہمارا ایک قابل رشک ساتھی تھا۔ پھول کتنا بھی خوبصورت کیوں نہ ہو، اگر وہ خوشبو سے محروم ہو جائے تو فقط رنگ رہ جاتا ہے۔ کسی آدمی کی رعنائی وخوبصورتی اور معاشرے میں احترام بھی اس کے کردار کی وجہ سے ہے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا یہ قانونی موقف اخلاقی اعتبار سے بہت زیادہ وزن رکھتا ہے کہ ان کی کسی غلطی کی وجہ سے بطور جج ہائی کورٹ ان کا حُسنِ کردار متاثر ہوا ہے تو پھر ان کا احتساب برسرِ عام ہونا چاہیے۔ ایک سچا اور بہادر آدمی ہی خود کو اوپن ٹرائل کے لئے پیش کرسکتا ہے۔

جسٹس شوکت صدیقی نے اپنے احتساب کے لئے اوپن ٹرائل کی درخواست کرکے ایک مثال قائم کردی ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے ان کی درخواست منظور نہیں کی۔ اب جسٹس شوکت صدیقی نے سپریم کورٹ کے دروازے پر دستک دی ہے۔ احتساب کا شفاف، قابلِ اعتماد اور اس سے بہتر راستہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ جس شخص پر الزام ہے، وہ خود مطالبہ کررہا ہے کہ میرے احتساب سے متعلق کارروائی کو خفیہ نہ رکھا جائے۔ سب کو معلوم ہو کہ مجھ پر الزامات کیا ہیں اور ان الزامات کے جواب میں اپنی بے گناہی کو ثابت کرنے کے لئے میرے دلائل کیاہیں؟

ایک جج کے خلاف اس کے کنڈکٹ کے حوالے سے الزامات غلط ہیں یا درست، ان کو خفیہ رکھنے کا جواز کیا ہے؟ ایک عام شہری اور جج کے خلاف اگر احتساب کا طریق کار مختلف ہوگا تو ظاہر ہے، اس پر انگلیاں اٹھیں گی، اگر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے جج صاحبان میں سے کسی کا احتساب کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل اپنی تمام ترکارروائی کو خفیہ رکھتے ہوئے جج کے حق میں فیصلہ کردیتی ہے تو عوام، میڈیا، سیاست دان اور سول سوسائٹی یہ بھی سمجھ سکتی ہے کہ شاید جج کے ساتھ رعایت برتی گئی ہے، اگر وزیر اعظم پاکستان کا سپریم کورٹ میں اوپن ٹرائل ہوسکتا ہے تو سپریم کورٹ یا ہائی کورٹس کے ایک جج کا اوپن ٹرائل کیوں نہیں ہوسکتا اور پھر مطالبہ بھی اگر محترم جج خود کررہا ہو کہ میرے خلاف کارروائی اور شکایات کی سماعت اوپن عدالت میں کی جائے تو پھر اس استدعا کو مسترد کرنا کسی طرح بھی مستحسن نہیں۔ ایک جج کو خفیہ کارروائی کے نتیجے میں سزا دینا کسی بھی اعتبار سے درست نہ ہوگا اور اوپن ٹرائل کے بغیر کسی جج کو بے گناہ قرار دینے کا معاملہ بھی مشکوک سمجھا جائے گا تو پھر کیوں اوپن ٹرائل کی راہ نہ اپنائی جائے۔ میرے ایک مرحوم دوست اطہر ناسک کا ایک ناقابلِ فراموش شعر ہے:

انصاف طلب کرنے نکل آئے تھے لیکن

بستی کے کسی گھر سے ترازو نہیں نکلا

اگر اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج کو پاکستان کی سب سے بڑی عدالت بھی انصاف فراہم نہ کرسکی تو پھر پاکستان میں انصاف کے تمام اداروں سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ جسٹس شوکت صدیقی کا مطالبہ یہ نہیں کہ میری بے گناہی کو تسلیم کرلیا جائے، بلکہ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ میرا احتساب اوپن ٹرائل کی شکل میں کیا جائے۔

احتساب کا ایک ایسا عمل جو عوام کو بھی نظر آئے۔ اس سے عدلیہ کے وقار میں اضافہ ہوگا۔ خاص طور پر معاملہ اعلیٰ ترین عدالتوں کے کسی جج کے خلاف کارروائی کا ہو تو ایک حساس ترین اور نازک ترین معاملے کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ میر انیس نے کہا تھا:

خیالِ خاطرِ احباب چاہیے ہر دم

انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو

ہم صرف اتنا عرض کریں گے کہ معاملہ عام شہری کا ہو، وزیر اعظم پاکستان کا یا اعلیٰ عدلیہ کے کسی جج کا۔ انصاف کے آبگینے کو ٹھیس نہیں لگنی چاہیے اور شفاف انصاف کی شرط اوپن ٹرائل ضرور پوری کی جانی چاہیے۔

جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف مس کنڈکٹ کا الزام ایک عام شہری، جو سابق سرکاری ملازم ہے، کی طرف سے عائد کیا گیا ہے۔ یہ ایک انتہائی اہم نکتہ ہے۔

اس کے بعد تواِن کیمرہ کارروائی کا جواز ہی باقی نہیں رہتا، کیونکہ جب سپریم جوڈیشنل کونسل نے ایک عام شہری کی شکایات کو بنیاد بنا کر اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک قابل احترام جج کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا ہے تو معاملے کی راز داری تو ختم ہوگئی اور الزامات کی نوعیت سے بھی سب لوگ آگاہ ہوگئے، اس لئے اب اوپن ٹرائل اور بھی ضروری ہوگیا ہے، کیونکہ الزامات کو خفیہ رکھا ہی نہیں جاسکا۔

ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد آرٹیکل 10-A کا پاکستان کے دستور میں اضافہ ہوا ہے، اس کے بعد ایک جج ہائی کورٹ کے خلاف کسی شہری کی درخواست پر یہ پہلی انکوائری ہے جو جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف شروع کی گئی ہے۔

آرٹیکل 10-A میں منصفانہ ٹرائل پر زور دیا گیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ Due Process کا حکم دیا گیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ اعلیٰ عدالت کے ایک جج کے خلاف انکوائری کا سپریم جوڈیشل کونسل نے اپنے لئے جو طریقِ عمل وضع کررکھا ہے، وہ آرٹیکل 10-Aپر پورا اترتا بھی ہے یا نہیں؟ قتل جیسے سنگین جرم میں ملوث ملزم کے خلاف بھی عدالتی کارروائی کے لئے مختلف مراحل اور مدارج طے ہیں، پھر اس میں سزا کے بعد بھی مجرم کو اپیل کا حق حاصل ہے۔

اب یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ آئین کے آرٹیکل 10-A کے مطابق اگر سپریم جوڈیشل کونسل کسی جج کے خلاف انکوائری کو عمل میں لاتے ہوئے Due Process اختیار ہی نہیں کرتی تو کیا یہ انصاف ہوگا؟ مارشل لاء کورٹس کا بھی ایک طے شدہ طریق عمل ہے، جس سے فوجی عدالت آگے پیچھے نہیں جاسکتی، لیکن سپریم جوڈیشل کونسل کا کوئی ایسا پروسیجر (طریق عمل) موجود ہی نہیں جوفیئر ٹرائل کی میزان پر پورا اترتا ہو۔ جسٹس شوکت صدیقی کا معاملہ ہو یا کسی اور محترم جج کا، اس حوالے سے کسی کا بھی Fair Trial کا حق مجروح نہیں ہونا چاہیے۔

مزید : کالم