دو عملی کی سیاست کا وقت گیا

دو عملی کی سیاست کا وقت گیا
دو عملی کی سیاست کا وقت گیا

  

بڑے نام والی سیاسی جماعتیں جس تیزی کے ساتھ اپنی مقبولیت کھو رہی ہیں، حیرت ہوتی ہے۔ مقبولیت نہ بڑھے یہ اور بات ہے، مگر جو عوامی حمایت حاصل تھی، وہ اگر ختم ہونے لگے تو سیاسی جماعتیں اس وقت قصہ پارینہ بن جاتی ہیں۔ میں جماعتِ اسلامی کو ایسی جماعت نہیں سمجھتا تھا جو ہزاروں ووٹوں سے سینکڑوں ووٹوں تک آ سکتی ہے۔

باوجود اس حقیقت کے کہ سراج الحق بہت عوامی باتیں کرتے ہیں، انقلاب برپا کرنے کے دعوے بھی ان کی ہر تقریر میں ہوتے ہیں، غریبوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کی مُذّ مت بھی ان کا من پسند موضوع ہے، تاہم ان سب باتوں کے باوجود جماعت اسلامی ہے کہ تنزلی کی طرف جا رہی ہے۔

لاہور کے بعد پشاور میں بھی اس کی کارکردگی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ جماعتِ اسلامی بہت مقبول جماعت نہ سہی، ایک بڑی سیاسی جماعت ضرور ہے، جس کی جڑیں چاروں صوبوں میں موجود ہیں۔ اب وہ کہاں کھڑی ہے؟ اس کا اندازہ سبھی کر سکتے ہیں۔ دوسری بڑی سیاسی جماعت پیپلزپارٹی ہے،جو اس گئے گزرے حالات میں بھی دوسرے یا تیسرے نمبر پر ضرور آتی رہی ہے، لیکن اب کچھ ایسے شواہد سامنے آ رہے ہیں جو حیران کر دینے والے ہیں۔

سب سے بڑا دھچکا تو حلقہ 120 لاہور کا ضمنی انتخاب تھا، جس میں پیپلزپارٹی کے امیدوار کی ضمانت ضبط ہوگئی۔ پشاور میں بھی کہ جہاں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری بہت ساوقت صرف کر آئے تھے، پیپلزپارٹی کی کارکردگی توقعات سے بہت کم رہی۔

سیاسی جماعتوں کی پاکستان میں یوں تو بہتات ہے، لیکن چند سیاسی جماعتیں ایسی ہیں جو اپنی ملک گیر پہچان رکھتی ہیں، ان سیاسی جماعتوں کا ہونا غنیمت ہے، کیونکہ اس سے وفاق کا بہترین تاثر اُبھرتا ہے، جو علاقائی سیاسی جماعتیں ہیں، ان کی سیاست بھی علاقائی ہوتی ہے۔

وہ قومی دھارے میں آ بھی جائیں تو ان کی سوچ علاقائی ہی رہتی ہے، جیسے خیبر پختونخوا کی اے این پی اور سندھ کی ایم کیو ایم پاکستان جن سیاسی جماعتوں کا دائرہ وفاق کے چاروں صوبوں میں پھیلا ہوا ہے وہ چاہیں بھی تو علاقائی سیاست نہیں کر سکتیں،کیونکہ ایسا کرنے سے ان کی قومی سیاسی جماعت ہونے کا معاملہ مشکوک ہو جائے گا۔

پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کی گرتی ہوئی مقبولیت در حقیقت پاکستانی سیاست میں آنے والی تبدیلیوں کا اشارہ ہے۔ پاکستان کا سیاسی منظر نامہ اس وقت مسلم لیگ اور تحریک انصاف کے گرد گھوم رہا ہے۔ جہاں بھی مقابلہ ہوتا ہے، ان دونوں کے درمیان ہار جیت بانٹ دی جاتی ہے۔

لاہور میں مسلم لیگ (ن) نے تحریک انصاف کو پچھاڑا تو خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف نے بدلہ لے لیا۔ تحریک انصاف بڑی تیزی سے ایک وفاقی جماعت بن کر ابھری ہے۔ اگر اس پر بھی خیبرپختونخوا کا لیبل لگ جاتا اور وہ وہیں تک محدود رہتی تو پیپلزپارٹی کے سکڑ جانے سے جو خلا پیدا ہوا، وہ وفاق کی اکائیوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتا۔

اب بھی چھوٹے صوبوں کی طرف سے پنجاب پر الزام لگایا جاتا ہے کہ بڑا صوبہ ہونے کی و جہ سے وفاق میں اقتدار بھی اس کا ہوتا ہے اور سب سے زیادہ وسائل بھی اسے ہی ملتے ہیں۔ یہ تو اچھی بات ہے کہ مسلم لیگ (ن) صرف پنجاب کی جماعت نہیں اور اس کی جڑیں باقی تینوں صوبوں میں بھی موجود ہیں، اس لئے یہ کہنا آسان نہیں کہ پنجاب کی جماعت ملک پر حکمرانی کرتی ہے، تاہم اب تحریک انصاف نے چاروں صوبوں میں اپنی نمائندگی کو ظاہر کر کے ایک مرتبہ پھر آنے والے انتخابات میں دو سیاسی جماعتوں کے درمیان معرکہ آرائی کو یقینی بنا دیا ہے۔

پیپلزپارٹی بدقسمی سے تینوں صوبوں میں اپنی مقبولیت کھو رہی ہے، سندھ میں بھی اس کے لئے کافی چیلنج موجود ہیں، ان سے وہ کیسے نبرد آزما ہوتی ہے۔ اس کا فیصلہ تو وقت کرے گا، تاہم فی الوقت تو اسے یہ چیلنج درپیش ہے کہ سندھ کے علاوہ باقی تینوں صوبوں اور وفاقی علاقے میں اپنی مقبولیت کو کیسے بڑھائے؟ دیکھا جائے تو موجودہ حالات میں پیپلزپارٹی کے پاس کوئی ایسا داؤ پیج نہیں جسے آزما کر وہ کالے کو سفید کرسکے، کوئی ایسا ایشو بھی نہیں جس کی بنیاد پر زرداری یا بلاول کوئی جادو کی چھڑی گھما سکیں۔

آصف علی زرداری کا یہ کہنا کہ وہ پنجاب میں انتخابی مہم کی نگرانی خود کریں گے اور بلاول ہر حلقے میں جائیں گے۔ ایک اچھا اقدام تو ہو سکتا ہے، مگر کیا اس طریقے سے پیپلزپارٹی کے بارے میں عوام کے اندر پائی جانے والی مایوسی کو امید میں بدلا جا سکے گا؟

سیاسی جماعتیں خود رو پودوں کی طرح نہیں اُگتیں، ان کے لئے بڑا لمبا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ تحریک انصاف کو بائیس تئیس سال لگے ہیں اس سطح تک پہنچتے ہوئے، اب بھی اگر ذرا سی لغزش کا مظاہرہ کیا گیا تو یہ مقبولیت زمین بوس ہو سکتی ہے۔

مسلم لیگ (ن) نے بڑے سرد و گرم دیکھے ہیں۔ جب شریف فیملی کو پرویز مشرف نے جلا وطن کیا تو کسی کو یقین نہیں تھا کہ یہ پارٹی زندہ رہے گی۔ ایک مخدوم جاوید ہاشمی تھے جو قائم مقام صدر کے طور پر اس جماعت کو زندہ رکھے ہوئے تھے۔

اس جماعت کے حصے بخرے کر کے پرویز مشرف نے مسلم لیگ (ق) بنائی اور اسے پنجاب سمیت وفاق کی حکومت بھی دی۔ یہ بہت اچھا موقع تھا کہ مسلم لیگ (ق) اپنا سیاسی وجود منوا لیتی، مگر بدقسمتی سے وہ صرف ایک حکومتی جماعت ہی رہی۔

جونہی حکومت سے نکلی اس کے ٹکڑے ہوگئے۔ چودھری برادران نے اسے لاکھ سنبھالنے کی کوشش کی، مگر چند ایک کے سوا سارے پنچھی ایک ایک کر کے اڑ گئے، آج مسلم لیگ (ق) کو صرف گجرات میں ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ اب یہ باتیں ہو رہی ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے کئی دھڑے بن جائیں گے۔

میں سمجھتا ہوں دھڑے جتنے بھی بن جائیں جو اصل مسلم لیگ (ن) ہے اور جس کی صدارت شریف خاندان کے پاس ہے، برقرار رہے گی، جیسا کہ پہلے بھی ہو چکا ہے۔

اب یہ سوال بھی کیا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی جماعتیں اقتدار میں آ کر زندہ ہوتی ہیں، وگرنہ ان کی حالت مردوں جیسی ہو جاتی ہے۔

یہ بات کسی حد تک صحیح بھی ہے اور کسی حد تک صحیح نہیں بھی۔ نوازشریف اور بے نظیر بھٹو دونوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ اقتدار کے بغیر بھی ان کی مقبولیت برقرار رہی ہے اور انہوں نے دوبارہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیابی بھی حاصل کی ہے۔

یہ ماجرا تو صرف آج کی پیپلزپارٹی کے ساتھ ہو رہا ہے کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد اقتدار میں آنے کے باوجود وہ نہ صرف یہ کہ اقتدار میں غیر مقبول ہوئی، بلکہ اس کے بعد اس پر زوال ہی آتا چلا گیا۔ آصف علی زرداری نے پورے پانچ سال اقتدار میں گزارے، چاہئے تو یہ تھا کہ اس کی بنیاد پر وہ پیپلزپارٹی کو پہلے سے زیادہ مقبول بناتے، لیکن کرپشن کی داستانوں اور ترقیاتی منصوبوں کے فقدان، نیز بجلی جیسے اہم معاملے کو پس پشت ڈالنے کی وجہ سے پیپلزپارٹی کا یہ دورِ حکومت ایک بڑے زوال کا سبب بن گیا۔ پھر نوازشریف دور میں پیپلزپارٹی نے خود کو ایک بہتر اپوزیشن جماعت ثابت کرنے کی بجائے مسلم لیگ (ن) کی بی ٹیم کے طور پر میدان میں اتارا، جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ جو مسلم لیگ (ن) کی ناکامیاں تھیں، وہ بھی پیپلزپارٹی کے حصے میں ڈالی جاتی رہیں۔

پنجاب میں صرف وہی جماعت مقبول ہو سکتی ہے جو مسلم لیگ (ن) کو للکارے، جو اس کے ساتھ کھڑی ہو، وہ مقبول کیسے ہو سکتی ہے؟ پھر تو عوام کے پاس بہتر چوائس یہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ رہیں۔

تحریک انصاف نے مسلم لیگ (ن) کو للکارنے کی پالیسی اپنائی تو آج اس کی مقبولیت کا گراف کہاں سے کہاں جا چکا ہے۔سیاسی جماعتوں کو اب یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ عوام کا سیاسی شعور بھی چند برسوں میں بہت بڑھا ہے۔

الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی وجہ سے عوام اب بہتر طور پر سوچنے اور فیصلے کرنے لگے ہیں۔ اب صرف روائتی باتوں اور گھسے پٹے نعروں، نیز وعدوں سے انہیں بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا۔ سراج الحق اور آصف علی زرداری کی مثالیں سامنے ہیں۔

ان کی لچھے دار باتیں سنیں تو لگتا ہے اُن سے بڑا لیڈر کوئی نہیں، مگر سیاست پر نظر ڈالیں تو دونوں واضح طور پر مصلحت کا شکار نظر آتے ہیں۔ بھلا ایسی دو عملی عوام کی نظر سے آج کل کیسے چھپ سکتی ہے؟

مزید : کالم