اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر اہتمام سیمینار کا انعقاد

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر اہتمام سیمینار کا انعقاد

اسلام آباد (این این آئی) ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان نے ایکسپورٹرز کو ریکس (رجسٹرڈ ایکسپورٹرز) سسٹم میں رجسٹر کرنا شروع کیا ہوا ہے اور ایسے تمام ایکسپورٹرز جو یورپی یونین، سویٹزرلینڈ اور ناروے کو برآمدات کر رہے ہیں وہ 30دسمبر 2017تک لازمی طور پر ریکس سسٹم میں اپنا اندراج کرائیں تا کہ دسمبر کے بعد ایکسپورٹرز کو ان ممالک کے ساتھ برآمدات کو فروغ دینے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ ان خیالات کا اظہار ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے ایڈوائزر برائے سٹریٹیجک پلاننگ اینڈ ریسرچ کمال شہریار نے ایک سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا انعقاد ٹی ڈی اے پی نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اشتراک سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ یکم جنوری 2018سے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان یورپی یونین، سویٹزرلینڈ اور ناروے کی طرف برآمدات کرنے والے پاکستانی ایکسپورٹرز کو سرٹیفیکیٹ آف اوریجن یا فارم اے جاری کرنا بند کر دے گی اور صرف ریکس سسٹم میں درج ایکسپورٹرز کو یہ اختیار ہو گا کہ وہ ان ممالک کی طرف برآمدات کیلئے خود ہی سٹیٹمنٹ آف اوریجن جاری کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی ایکسپورٹرز ریکس سسٹم میں جلد رجسٹریشن کیلئے ویب سائٹ لنک پر جا کر اپنا اندراج کر سکتے ہیں لہذا وہ اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں۔ کمال شہریارنے کہا کہ یورپی یونین نے جی ایس پی پلس سہولت کے تحت برآمدات کیلئے پاکستان سمیت دیگر متعلقہ ممالک کیلئے یکم جنوری 2017سے سرٹیفیکیٹ آف اوریجن کیلئے ریکس کے نام سے ایک نیا نظام متعارف کرایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ نیا نظام پاکستانی ایکسپورٹرز کو یہ سہولت فراہم کرتا ہے کہ وہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے ذریعے ریکس میں رجسٹر ہو کر یورپ کے ساتھ برآمدات کیلئے سرٹیفیکیٹ آف اوریجن کی بجائے خود ہی سٹیٹمنٹ آف اوریجن جاری کریں۔ انہوں نے کہا کہ ریکس سسٹم گڈز آف اوریجن کو طے کرنے کیلئے رولز پر اثر انداز نہیں ہوتا بلکہ اس کا تعلق مصنوعات کی اصل حیثیت کی تصدیق کرنے سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کیلئے دسمبر کے اختتام تک ریکس نظام پر منتقل ہونا لازمی ہے لہذا انہوں نے یورپ کی طرف برآمدات کرنے والے تمام برآمدکنندگان پر زور دیا کہ وہ یکم جنوری 2018کے بعد یورپ کے ساتھ برآمدات کو فروغ دینے کیلئے 30دسمبر 2017تک اس نظام میں لازمی اپنا اندراج کرائیں۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ عامر وحید نے اس امید کا اظہار کیا کہ ریکس نظام برآمدکنندگان کو جی ایس پی پلس کے تحت یورپ کے ساتھ برآمدات کو فروغ دینے میں سہولت فراہم کرے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان پورے ملک میں ریکس نظام کے بارے میں ایکسپورٹرز میں مزید آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کرے تا کہ وہ برآمدات کے فروغ کیلئے اس نظام سے بہتر استفادہ حاصل کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے بہت سی اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھا دی ہے جس سے خاص طور پر کمرشل امپورٹرز کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی ایسی اشیاء پر بھی ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھا دی گئی ہے جو پیداواری سرگرمیوں میں خام مال کے طور پر استعمال ہوتی ہیں ۔ انہو ں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت نجی شعبے کی مشاورت سے ریگولیٹری ڈیوٹی پر نظرثانی کرے تا کہ ملکی صنعت کومزید نقصانات سے بچایا جا سکے۔اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر محمد نوید اور نائب صدر نثار مرزا نے کہا کہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان بیرونی ممالک کیلئے تجارتی وفود تشکیل دیتے وقت اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو بھی ایسے وفود میں مناسب نمائندگی دے تا کہ اس خطے کی تاجر برادری ملکی تجارت و برآمدات کو فروغ دینے کے نئے مواقع تلاش کر سکے۔

مزید : کامرس