کشمیر جنت نظیر جدوجہدِ آزادی کے 70برس

کشمیر جنت نظیر جدوجہدِ آزادی کے 70برس

کشمیر کے عوام کو آزادی کی جنگ لڑتے ہوئے 70برس گزر چکے ہیں۔ اس طویل عرصہ میں بھارتی غاصب حکومت کا ظلم و جبر ختم ہوا ہے نہ اہل کشمیر کی ہمت و جرات سُست پڑی ہے۔ قدرت کی خوبصورت ترین وادیوں میں سے ایک دھویں، آگ اور خون کی بولئے ہوئے ہے۔ بھارت نے جتنی فوج کشمیر میں اپنے تسلط کی خاطر تعینات کررکھی ہے، دنیا کے کسی ملک میں غاصبانہ قبضے کے حوالے سے اس قدر فوج اکٹھی نہیں کی گئی۔ ظلم کے ماحول اور جبر کی فضا میں کشمیریوں کی جونسل تیار ہوئی ہے اب ایک سخت جان قوم ہے۔ عظیم ہیں وہ مائیں جو اپنے شہید بیٹوں کے ماتھے چومتی ہیں لیکن اُن کے حوصلے نہیں ٹوٹتے۔ جدوجہدِ آزادی کی تاریخ میں 70 برس کا عرصہ معمولی نہیں ہوتا۔ ہم نے بھی اپنا وطن بے شمار قربانیوں کے عوض حاصل کیا تھا لیکن اہل کشمیر اپنی آزادی کی خاطر جو ابھی تک انہیں نہیں ملی، قربانیاں ہنوز دے رہے ہیں۔ ہم کشمیریوں کا دکھ درد سمجھتے ہیں۔ ہمارا اُن سے زمینی ہی نہیں قلبی رشتہ بھی ہے۔ کشمیرپاکستان کی شاہرگ ہے۔ پاکستان کشمیر کے بغیر نامکمل ہے۔

70برس گزرجانے کے باوجود کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں ضعف واقع نہیں ہوا۔ صرف ایک طبقہ آزادی کی جنگ نہیں لڑرہا۔ پوری وادی کے باشندے اس تحریکِ بے مثال میں شامل ہیں۔ بچے، نوجوان، بوڑھے اور خواتین سبھی دل سے چاہتے ہیں کہ بھارتی غاصب اُن کی وادی کو فی الغور چھوڑ دیں۔ کشمیری کسی صورت نہیں چاہتے کہ ان کی وادی کی پاک و معطر فضا بھارتیوں کی عفونت سے متاثر ہو۔

لیکن بھارتی فوجی اس وادئ جنت نظیر میں کیا کررہے ہیں؟ بھلا ہو باضمیر صحافیوں اور خبر گیروں کا جو آئے دن اُن کے سیاہ اعمال کو دنیا کے سامنے لاتے رہتے ہیں۔ سب سے زیادہ مظالم اور جرائم بھارتی بی ایس ایف کے خلاف چارج شیٹ میں درج و نمایاں ہیں۔ یہ مظالم صرف مردوں ہی پر نہیں ٹوٹے بلکہ ان کا زیادہ تر نشانہ معصوم بچیاں اور بے بس عورتیں تھیں جو بھارتی فوجیوں کا آسان ہدف تھیں۔

میں اپنی پڑھی لکھی خواتین سے اس ضمن میں ایک کتاب کا ذکر ضرور کروں گی جسے وہ اپنی پہلی فرصت میں پڑھیں۔ سری نگر کے ایک فرزند بشارت پیر نے ایک کتاب ’کرفیو والی رات‘(Curfewed Night)لکھی ہے جو 1980ء سے لے کر مظفر آباد سری نگر بس سروس کے اجراء کے دنوں کی روداد پر مشتمل ہے۔ بشارت پیر میں ہمت تھی جو اُس نے کشمیری نوجوانوں پر بھارتی ظلم کی داستانوں کے ساتھ ساتھ اُن مظلوم خواتین سے ملاقاتوں کا ذکر کیا جو بھارتی فوجیوں کی درندگی کا نشانہ بنی تھیں۔ اُن میں ایک لڑکی مبینہ تھی جس کی بارات پر بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے درندوں نے دھاوا بولا اور عورتوں کو دلہن سمیت بے آبرو کیا تھا۔ یہ روداد اس قدر ہولناک ہے کہ میں نے مبینہ کی کہانی آنسووں بھری آنکھوں سے پڑھی۔ سلام ہے اس پر عزم اور پُر ہمت خاتون کو کہ جس نے ظلم کی بھیانک صورت دیکھی لیکن اپنی روح کو امید کی خوبصورتی سے محروم ہونے نہیں دیا۔

کشمیر کی صورت حال سے میں اس لئے باخبر نہیں رہتی کہ بطور صحافی یہ میرا پیشہ ورانہ تقاضا ہے بلکہ میں خود کو کشمیر سے وابستہ اس لئے رکھتی ہوں کہ یہ میرے قلبی و ذہنی احساسات کا اساسی محور ہے۔ خالد حسن مرحوم ایک قابلِ قدر سِول سرونٹ اور اعلیٰ پائے کے صحافی تھے۔ کشمیر کے ایک سفر کے بعد امریکہ واپسی پر پاکستان میں اپنے چند روزہ قیام کے دوران ایک تقریب میں بڑے دکھ کے ساتھ بولے تھے ’’ کشمیر میں میں نے صرف ایک ہی کاروبار کو پھلتے پھولتے ہوئے دیکھا ہے اور وہ ہے پھیلتے قبرستانوں کا کاروبار‘‘۔ میں بہت آزردہ ہوئی لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ غلامی سے نجات پانے کے لئے اب کشمیریوں کی جدوجہد میں پہلے سے زیادہ جوش و خروش ہے اور عورتیں مردوں سے کسی طور پیچھے نہیں ہیں۔ ان کا احتجاج ویسی ہی گرم جوشی لئے ہوئے ہے اور ان کے پُر نور چہرے ویسی ہی امید سے دمک رہے ہیں جیسی میں اپنے قلب میں محسوس کرتی ہوں۔

پاکستان کی خواتین اپنی کشمیری بہنوں کی جدوجہدِ آزادی میں برابر کی شریک ہیں۔ اپنی دعاؤں اور نالہ ہائے نیم شبی میں وہ اپنی پُر احتجاج بہنوں کو کبھی نہیں بھولتیں۔ تحریک آزادی کے 70برس گزر چکے ہیں۔ منزل اب قریب ہے۔ اہل کشمیر آزادی ضرور پائیں گے چاہے بھارت کتنا ہی جبر اور اقوامِ عالم کتنی ہی چشم پوشی کیوں نہ کرلیں۔ آزادی کا سورج انشاء اللہ ضرور طلوع ہوگا۔

مزید : ایڈیشن 1