ایمبولینس کو راستہ دیں، زندگی کو راستہ دیں

ایمبولینس کو راستہ دیں، زندگی کو راستہ دیں

سائرن کی آواز تڑپتے انسان کی پکار اور اُوندھے منہ پڑے زخمی کی فغاں لگتی ہے

(محمد ارشد شیخ )

شاہرائیں خواہ کتنی ہی کشادہ، ہموار اور شاندار کیوں نہ ہوں اگر ان پر دوڑتی گاڑیوں میں موجود انسانوں کے دِل احساس سے خالی اور دوسروں کی مصیبت پر توجہ سے عاری ہوں تو کوئی بھی چیز معنی خیز نہیں رہتی اور پھر ان اخلاقی فرائض پرعمل نہیں ہوتا جن کا مذہب بھی ہمیں حکم دیتا ہے ، حتیٰ کہ قصافت قلبی اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ ’’ایمبولینس‘‘ کو راستہ دینا بھی گراں گزرتا ہے اور یہ احساس اجاگر نہیں ہوتا کہ اس میں تڑپتا مریض زندگی پالے، زخمی معذوری سے بچ جائے، کوئی ماں بروقت ہسپتال پہنچ کر چند سانسیں مزید پا لے، کوئی بہن، بیٹی نومولود کو پردے میں سہولتوں سے آراستہ وارڈ میں جنم دے دے، لیکن المیہ یہ ہے کہ ڈرائیوروں کو زندگی کی قیمت اور اہمیت سے متعلق شعور جو نہیں، شعور روشنی ہے، شعور ہی علم ہے، شعور سے بند دریچے وا ہوتے ہیں، قُفل ٹوٹتے ہیں، کواڑوں کے کواڑ کھلتے ہیں۔ راقم کا مدعا یہی ہے کہ ’’ایمبولینس کو راستہ دیں، زندگی کو راستہ دیں‘‘ کی صدا گونجے، ایمبولینس کو راستہ دو کی تعلیم عام ہو۔ ایمبولینس خالی ہو تو بھی اُسے راستہ ملے ہوسکتا ہے وہ کسی مریض، کسی زخمی ، کسی آگ سے جلے کو اُٹھا لانے جارہی ہو۔یقین کریں مجھے تو ایمبولینس سائرن کی آواز اس میں تڑپتے انسان کی پکار لگتی ہے، اُوندھے منہ پڑے زخمی کی فغاں لگتی ہے۔ اکثر ایمبولینس ٹریفک ہجوم میں پھنس کررہ جاتی ہیں۔سرکاری نوعیت کے روٹس بھی ایمبولینس کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات معمولی نوعیت کی توتکار پر بھی ٹریفک بلاک کردی جاتی ہے۔آئے روز کے مظاہرے، جلوس، مذہبی اجتماعات کے باعث بھی ٹریفک کی روانی میں خلل ڈالا جاتا ہے۔اگر ایمبولینس کیلئے ایک لائن مختص کردی جائے تو بہتر ہوگا۔ایمبولینس سروسز کے اداروں اور ٹریفک حکام کے مابین وائرلیس سسٹم پر منسلک ہونا بھی خوش آئند ہوگا، کسی بھی ایمبولینس کے نکلتے وقت سارجنٹ کو وائرلیس پیغام دے دیا جائے تاکہ وہ ٹریفک کو ایک طرف موڑ کر ایمبولینس کیلئے رستہ کلیئر کردے۔ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ ایمبولینس کے سائرن یکساں کیے جائیں تاکہ پہچان میں آسانی ہو۔ بعض سکیورٹی پر مامور گاڑیوں پر ایمبولینس والے سائرن لگے ہوتے ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ کسی کی جان بچانے یا کسی کو معذوری سے بچانے کیلئے پہلا گھنٹہ ہی اہم ہوتا ہے۔ ہنگامی حالات میں بیمار، زخمی کو بروقت ہسپتال پہنچانے میں ایمبولینس کا اہم کردار ہے۔ بروقت یہ ہسپتال پہنچ جائے تو کسی کی جان بچ سکتی ہے ، نہ پہنچے تو کسی کی جان جا بھی سکتی ہے۔ ایمبولینس کے سامنے بعض اوقات سگنل پر موٹر سائیکل سوار دیوارِ چین بن جاتے ہیں۔بعض دیگر گاڑیوں والے ایمبولینس کی آڑ میں آگے جانے کی کوشش میں لائن لگا دیتے ہیںیہ بھی درست نہیں۔سڑک پر موجود گاڑیوں میں بیٹھے ہوئے افراد ایمبولینس کی پکار سن کر اگر چند ثانیوں کے لیے اپنے سفر کو موخر کردیں اور اپنی رفتار کو دھیمی کرلیں اور عقب سے آنے والی ایمبولینس کو راستہ دے دیں تو شاید انہیں اندازہ نہیں کہ انہوں نے کیسی نیکی کی ہے۔ اپنی منزل پر پہنچنے میں تھوڑی سی تاخیر کسی اور کی زندگی کو بچالینے کا ذریعہ بن گئی ہے اور یہ ادا انسانوں کو ہی نہیں بلکہ انسانوں کے خالق کو بھی بہت بھاتی ہے۔ پھر یہ بھی سوچیں کہ کل خدانخواستہ کسی ایمبولینس میں اس طرح آپ یا آپ کا کوئی پیارا گھر سے تڑپتے ہسپتال کا رُخ کررہا ہو اور سڑک پر موجود لوگ ایمبولینس کے سائرن کو سنی ان سنی کردیں اور آپ کا راستہ روکے کھڑے ہوں تو آپ اور آپ کے لواحقین پر کیا بیتے گی؟ ایمبولینس کے سائرن کو درد سے تڑپتے مریض کی کراہ سے تعبیر کرنا غلط نہ ہوگا۔ مریض کی تکلیف، اس کی آہیں، اس کا کرب، ایمبولینس کے سائرن کی آواز میں ڈھل کر آپ کے کانوں تک منتقل ہونا چاہیے۔ آپ سائرن کی آواز کو مریض کے کرب کے قائم مقام سمجھیں گے تو احساس کی اس منزل پر فائز ہوں گے جہاں آپ کے قدم از خود رک جائیں گے۔ آپ کا پاؤں بریک پر دباؤ بڑھانے لگے گا اور آپ کے اندر سے آواز ابھرے گی کہ میں اس مریض کو راستہ ضرور دوں گا۔ اسے جلد ہسپتال پہنچانے کے فرض کی ادائیگی میں بھی حصہ ڈالوں گا۔ جب جب معالج اس کے زخموں پر مرہم رکھے گا تب تب میرا اللہ مجھے بھی اس نیکی پر اجر دے گا اور جیسے جیسے اس کے زخم بھریں گے ویسے ویسے مجھے بھی اللہ تعالیٰ اطمینان قلب کی دولت سے نوازے گا۔اس پر قیاس کرلیں کہ اگر آپ سڑک پر ایمبولینس کی راہ کا پتھر بن گئے، اسے روکنے اور آگے نہ جانے دینے کا ذریعہ بن گئے تو آپ کی یہ بدی بھی اپنا نتیجہ پیدا کرکے رہے گی۔ آپ کی بے حسی ایک طرف تو آپ کے اندر اضطراب پیدا کرے گی اور دوسری طرف ایمبولینس میں موجود کسی زخمی یا مریض کی زندگی کے لیے خطرات بڑھیں گے جو ہوسکتا ہے کہ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں اس کی زندگی کے خاتمے پر منتج ہو۔اسی لیے انسانوں کے راستوں، تمام گزرگاہوں اور شاہراہوں کو صاف ستھرا اور کھلا رکھنے کا اصول ساری دنیا میں یکساں طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ زندگی اُصولوں کا دوسرا نام ہے۔ قواعد وضوابط کی پاسداری کا عکس ہے، دوسروں کیلئے قربانی اور ایثار کا جذبہ ہے۔ اِس زندگی کو آزاد نہ بنائیں بعض اوقات ایمبولینس ڈرائیور کے ساتھ لڑائی جھگڑا بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ صحتِ عامہ سے منسلک لوگ پیار اور قدر کے لائق ہوتے ہیں۔ ان کی قدر کرنا سیکھیں، جھگڑوں سے دور رہیں، جب موت زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے تو زندگی بچانے کیلئے آپ کی مدد کرنے والا کیونکر قصور وار ہو سکتا ہے۔ پولیو ویکسین پلانے والے ورکرز ہوں یا ایمرجنسی وارڈ کا عملہ، ڈاکٹر ہو یا نرس ایمبولینس ڈرائیور ہو یا گیٹ کیپر سب سے خندہ پیشانی سے پیش آئیں۔ اخلاقی قدروں کو فروغ دیں۔یہ بات پورے وثوق سے کی جاسکتی ہے کہ سڑکوں پر بے ہنگم ٹریفک روانی کو متاثر کرتی ہے۔ غیر منظم اور منتشر انداز میں گاڑیوں کو دوڑانا، اپنا ٹریک چھوڑ کر دوسری طرف تیز رفتاری سے نکلنے کے لیے ٹریفک اصولوں کی پامالی جیسے اقدامات بھی ایمبولینس کے سفر کو مشکل بناتے ہیں۔’’ایمبولینس کو راستہ دیں، زندگی کو راستہ دیں‘‘ یہ ہر ڈرائیور کا سبق بن جائے تو ہم ایک اندازے کے مطابق سالانہ 18 ہزار انسانوں کی زندگیاں بچاسکتے ہیں۔ ایمبولینس ڈرائیور اور اس میں موجود طبّی عملہ کی تربیت کیلئے ہلالِ احمر پاکستان نے نیشنل ایمبولینس سروس کالج قائم کیا ہے، جہاں پری ہاسپیٹل کیئر کی ایک سالہ تربیت دی جاتی ہے۔انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈکراس اور ہلالِ احمر پاکستان 36 مختلف پارٹنرز کے ساتھ مل کر ’’ایمبولینس کو راستہ دیں، زندگی کو راستہ دیں‘‘ کی مہم ملک بھر میں شروع کردی ہے۔اِ س مہم کا مقصد عوام الناس کو اِس بات کا احساس دلانا ہے کہ کسی کی زندگی کی سانسیں سڑک پر دوڑتی ایمبولینس کی رفتار پر منحصر ہیں۔یہ مہم 3 ماہ تک جاری رہے گی اور مختلف ذرائع ابلاغ اور رضاکاروں کے ذریعے ہر فرد تک پیغام پہنچانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ آنے والے دِنوں میں ہم شاہراہوں پر ایک واضح تبدیلی محسوس کریں۔ یہ رویوں میں تبدیلی کی عکاسی کرے گی اور جب رویے مثبت ہونا شروع ہو جائیں گے تو ہمارے سماجی اور معاشرتی اقدار کی بہتری میں اہم کردار ادا کریں گے۔شاہراہوں کے نظام کو رواں رکھنے کے لیے ٹریفک پولیس کو ہمیشہ مستعد رہنا چاہیے۔ ٹریفک اصولوں کی پابندی کا کلچر اور اس کی نگرانی کا موثر نظام ٹریفک جام جیسے مسائل کو پیدا ہونے سے پہلے ہی روک دیتا ہے۔ بیماروں اور زخمیوں کو ہسپتال اور ہسپتال سے گھر پہنچانے کے لیے یہ ایمبولینسیں جو کارِ خیر انجام دے رہی ہیں اس کا شعور معاشرے میں اجاگر ہوتے رہنا چاہیے۔اس بات کی بھی اَشد ضرورت ہے کہ ’’ایمبولینس سروس‘‘ کو باقاعدہ رجسٹرڈ کیا جائے۔ کوئی اتھارٹی اِس کی منظوری دے۔فلاح کے نام پر تجارت کا راستہ روکے بغیر ہم کامیاب نہیں ہوسکتے۔’’ایمبولینس کو راستہ دیں، زندگی کو راستہ دیں‘‘ کا ایک باب پرائمری نصاب کا حصہ بنا کر ہم مہذب دنیا کا حصہ بننے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ میں نے زنجیر ہلا دی ہے۔ اپنے حصے کی شمع جلا دی ہے، بلاشبہ میڈیاکوآرڈینیٹر حلال احمر خالد بن مجید کی مذکورہ گفتگو کے تمام پہلو نہ صرف معاشرتی اصلاح کا پیغام ہیں بلکہ انکے معاشرتی تجربات کی نظیر بھی ہیں جن پر غور کرکے اگر انہیں مشعل راہ بنایا جائے تو ہم انسانی جانوں کی محفوظ کرنے اور بیمار افراد کو فوری علاج کیلئے علاج گاہوں تک پہنچانے میں حائل مشکلات کا تدارک کرسکتے ہیں، مگر بات یہیں ختم نہیں ہوتی اور ارباب اختیار کی بھی بہت سی ایسی ذمہ داریاں ہیں جنہیں ادا کیا نہیں جارہا جن میں سرکاری ہسپتالوں کی ایمبولنسوں کی حالت زار ، ان کی دیکھ بھال کیلئے موثر لائحہ عمل کا فقدان، ڈرائیورز کا ڈرائیونگ معیار اور ان سرکاری ایمبولنسز کے ذریعے لوگوں کو منتقل کرنے کی آڑ میں رقم ہتھیائے جانے جیسی خامیوں کا خاتمہ بھی ناگزیر ہے جن پر توجہ دینے کی بجائے نئی ایمبولنس سروس کا آغاز پنجاب حکومت کی طرف سے کیا گیا ہے جس کے ہم ناقدنہیں مگر یہ تحفظات ضرور رکھتے ہیں کہ پرانی خامیاں اگر دور نہ ہوئیں تو نئی اصلاحات بھی غیر موثر ہونے کا خدشہ بندھا رہے گا جس سے ایک طرف ان حکومتی اقدامات پر سوالات اٹھیں گے تو دوسری طرف کرپشن و بدعنوانیوں کے نئے قصے زباں زد عام ہوں گے جس کے ہم متحمل نہیں مگر بدقسمتی سے اس حقیقت کا سامنا کیا نہیں جارہا کہ ایمبولنس سروس جیسی ناگزیر معاشرتی ضرورت کو سرکاری ہسپتالوں کی سطح پر موثر اور قابل ریلیف بنانے کی ضرورت ہے جس کیلئے اقدامات اٹھایا ارباب اختیار کی ذمہ داری ہے اور جتنا جلدممکن ہو موثر اقدامات کااطلاق یقینی بنایا جانا چاہئے۔

مزید : ایڈیشن 2