دیرالزور میں شامی فوج اور داعش کے درمیان لڑائی میں 73 ہلاک

دیرالزور میں شامی فوج اور داعش کے درمیان لڑائی میں 73 ہلاک

 دمشق(این این آئی)شام کے شہر دیر الزور میں بشار کی سرکاری فوج نے داعش تنظیم کے ساتھ شدید جھڑپوں کے بعد مزید دو علاقوں کا کنٹرول واپس لے لیا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد نے بتایا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہونے والی ان جھڑپوں میں فریقین کے 73 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔المرصد کے ڈائریکٹر کے رامی عبدالرحمن کے مطابق حالیہ جھڑپیں شامی فورسز کی جانب سے شہر کا محاصرہ توڑ دینے کے بعد یقیناًشدید ترین لڑائی تھی۔ اس دوران شدت پسند تنظیم داعش کے کم از کم 50 اور بشار کی حکومتی فورسز اور اس کے ہمنوا ملیشیاؤں کے 23 ارکان مارے گئے۔شامی سرکاری فورسز اس وقت دیر الزور شہر کے زیادہ تر حصے پر کنٹرول رکھتی ہیں۔ ساتھ ہی وہ داعش تنظیم کے گرد گھیرا تنگ کرتی جا رہی ہیں البتہ اس دوران شدید ترین مزاحمت کا سامنا ہے۔عراق کی سرحد کے نزدیک واقع شامی صوبہ دیر الزور جو تیل اور گیس کی فیلڈز سے مالامال ہے اس وقت دو مختلف کارروائیوں کا منظرنامہ پیش کر رہا ہے۔ ان میں پہلی کارروائی شامی سرکاری فورسز روس کی معاونت سے دریائے فرات کے مغربی کنارے کی جانب کر رہی ہیں جب کہ دوسری کارروائی سیریئن ڈیموکریٹک فورسز امریکی سپورٹ کے ساتھ دریا کے مشرقی کنارے کی جانب کر رہی ہیں۔ دریائے فرات دیر الزور صوبے کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔اس وقت داعش تنظیم کو دیر الزور صوبے کے آدھے سے کم رقبے پر کنٹرول حاصل ہے۔مارچ 2011 میں انقلابی تحریک کے آغاز کے بعد سے شام میں خونی تنازع جاری ہے جس میں اب تک 3.5 لاکھ کے قریب افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں جب کہ آدھی سے زیادہ آبادی بے گھر ہو کر اندرون یا بیرون ملک منتقل ہو چکی ہے۔

مزید : عالمی منظر