دو ماہ کے دوران حوثیوں کی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں

دو ماہ کے دوران حوثیوں کی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں

صنعاء(یو این این)یمن میں انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والے گروپ (غیر سرکاری) نے اگست اور ستمبر کے دوران انسانی حقوق کی پامالی کے 1082 واقعات کا پتہ چلایا ہے۔ ان واقعات میں ہلاکتوں ، ماورائے عدالت قتل ، من مانی گرفتاریوں ، جبری روپوشی ، بچوں کی بھرتی اور جبری ہجرت کی کارروائیاں شامل ہیں۔ ان میں زیادہ تر کارروائیوں کا ارتکاب باغی حوثی اور معزول صالح کی ملیشیاؤں نے کیا۔گروپ نے ہفتے کے روز جاری ایک اخباری بیان میں انکشاف کیا کہ باغی ملیشیاؤں نے گزشتہ دو ماہ کے دوران 102 شہریوں کو ہلاک کیا۔ اس دوران مختلف علاقوں بالخصوص تعز اور البیضاء4 صوبوں میں شہریوں کے مجموعوں کو اندھادھند گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا اور نشانچیوں کا بھی وسیع پیمانے پر استعمال کیا گیا۔اس عرصے میں تعز ، صنعاء4 اور کئی دیگر صوبوں میں شہریوں کے خلاف ماورائے قانون قتل کی 234 کارروائیوں کا ارتکاب کیا گیا جن میں 40 بچے اور 21 عورتیں بھی شامل ہیں۔گروپ کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں بارودی سرنگوں کا نشانہ بننے والے ایسے درجنوں افراد ہیں جن کے پاس گروپ کی ٹیم نہیں پہنچ سکی کیوں کہ ان علاقوں میں ابھی تک مسلح تنازع جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق حوثی ملیشیا نے اگست اور ستمبر کے دوران 349 افراد کو زبردستی گرفتار کی جن میں 13 بچے اور دو 2 عورتیں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ایک بچے سمیت 27 افراد کو غائب کرایا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ دو ماہ کے دوران حوثیوں کی جانب سے عمران ، حجہ اور صنعاء4 کے صوبوں میں جبری طور پر بھرتی کیے جانے والے کْل 11 بچوں میں سے 7 بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

مزید : علاقائی