ایسے ایسے واقعات

ایسے ایسے واقعات
 ایسے ایسے واقعات

  

پہلے تجارتی خسارے کا ہوا کھڑا کر کے اسحٰق ڈار کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا جا رہا تھا ، اب نواز شریف کو ناقابل قبول قرار دے کر شہباز شریف کو پارٹی قیادت سنبھالنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، نون لیگ مجبور محض جماعت بن چکی ہے ، اس کے خیر خواہ او ر اس کے حریف مل کر نون لیگ کے نون سے نقطہ اڑالینا چاہتے ہیں ، مرکزی نقطہ !

حریف نون لیگ کو نون غنہ لیگ میں تبدیل کردینا چاہتے ہیں، وہ اس کو پیپلز پارٹی جتنی مہلت بھی دینے کو تیار نہیں ہیں۔ پاکستان میں سیاسی جماعتوں میں توڑ پھوڑ اندر اور باہر دونوں جانب سے ہوتی رہتی ہے کیونکہ سیاسی جماعتیں محدود اختیار کے ساتھ کام کرتی ہیں ، ان کو کھل کھیلنے کا موقع دیا جاتا ہے نہ ملتا ہے کیونکہ بین الاقوامی قوتیں بھی پاکستان میں غیر جمہوری قوتوں سے زیادہ آسانی محسوس کرتی ہیں ۔

اسحٰق ڈار گیا نہ شہباز شریف آیا کیونکہ نواز شریف ابھی تک ایک سیاسی طاقت کے طور پر موجود ہے اور نون لیگ کے حریفوں کو رہ رہ کر مروڑاٹھتے ہیں کہ کیوں موجود ہے ، ابھی تک اس کی طاقت کے حصے بخرے کیوں نہیں ہوئے ہیں۔نواز شریف کے مخالفین جانتے ہیں کہ اسحٰق ڈار اور شہباز شریف کے چلے جانے سے نواز شریف کے امیج پر صحیح زد پڑے گی ، تبھی تو وہ اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ دراڑ اندر سے آنی چاہئے ، باہر سے آئی تو لوگ اس کو جوڑنے کے لئے گھروں سے نکل آئیں گے۔

احمدنورانی پر حملہ صحافت پر حملہ ہے ،صحافت پر حملہ سیاست پر حملہ ہے اور سیاست پر حملہ ریاست پر حملہ ہے ، ریاست پر حملہ ریاست مخالف یا ریاست سے بڑی طاقت والا کر سکتا ہے ، ریاست پاکستان میں سیاست حملے کی زد میں ہے، صحافت حملے کی زد میں ہے ، خوف پھیل رہا ہے یا پھیلایا جا رہا ہے ، عام آدمی پہلے سنتاتھا ، اب دیکھتا بھی ہے ، ٹی وی سکرین پر اسے دکھائی بھی دیتا ہے اور سنائی بھی دیتا ہے ، حالات وہ نہیں جو پہلے تھے ، پہلے ہر بات کو حالات کا رنگ دیا جاتا تھا ،اب عوام ایسے ویسے واقعات کو حالات ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے ، وہ واقعات کی بنیاد پر رائے نہیں بلکہ ٹھوس رائے کی بنیاد پر حالات بنانا چاہتے ہیں ، یہ مشکل کام ہے ، نواز شریف کو اقامے میں نکال باہر کیا تو عوام گھروں سے نکل آئے ، وہ نواز شریف کے کہنے پر گھروں میں واپس گئے لیکن اس یقین دہانی پر کہ اگر نواز شریف نے دوبارہ نکلنے کا کہا تو وہ نکلیں گے !

نواز شریف جیسے پاپولر لیڈر کو اقتدار سے نکال باہر کرنا جنرل مشرف جیسے آمر کو ملک سے باہر جانے سے روکنے کی طرح مشکل کام تھامگر ہماری عدلیہ نے دونوں کارنامے کر دکھائے ، بین الاقوامی میڈیا میں اس پر جو کارٹوں شائع ہوئے اس پر پاکستانی عوام کا سر شرم سے جھکا رہا۔ دکھ تو یہ ہے کہ احمد نورانی پر حملے پر خالی حکومت ہی نہیں ، عدالت بھی خاموش ہے حالانکہ وہ چاہے تو سویو موٹو ایکشن لے سکتی ہے مگر حکومت کی طرح وہ بھی ایکشن کے ری ایکشن سے ڈر تی ہے !

اس ملک میں سیاستدان عدالتی ٹرائل سے کم اور صحافتی ٹرائل سے زیادہ خوف زدہ رہتے ہیں مگر جب صحافی خو د ٹرائل پر ہوں تو اس صورت حال کا نفسیاتی اثر معاشرے پر پڑتا ہے کیونکہ جب سچ خطرے میں ہوتو اس کا پہلا شکار عام آدمی ہوتا ہے جس کی ساری امید اس بات پر قائم ہوتی ہے ایک دن سچ ضرور آشکار ہوگا۔

اس کے باوجود کہ نواز شریف اقتدار سے باہر ہو گئے ہیں ، عمران خان اور شیخ رشید کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی ہے ، وہ اس ملک میں انارکی پیدا کرنا چاہتے تھے ، وہ اس ملک میں انارکی پیدا کرنا چاہتے ہیں ، عمران خان کا مسئلہ تو پھر بھی سمجھ آتا ہے کہ وہ وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں لیکن شیخ رشید کس برتے پر جان ہتھیلی پر دھرے پھر رہے ہیں کیونکہ سارا گاؤں مر جائے تو بھی وہ وزیر اعظم بننے والے نہیں ، بہرحال ان کی استقامت کو بھی سلام پیش کرنا پڑتا ہے اگرچہ ان کی یہ بات ابھی تک سچ ثابت نہیں ہوئی ہے کہ اس ملک سے نواز شریف کی سیاست ختم ہو جائے گی کیونکہ نواز شریف اب مریم نواز بن کر کھڑا ہوگیا ہے ، مریم نواز کے لہجے میں وہی تلخی ہے جو بے نظیر بھٹو کے لہجے میں ہو اکرتی تھی ، اس ملک میں بیٹیاں باپ کی ہوتی ہیں مگر ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف نڈر اور بے خوف بیٹیوں کے باپ ہیں ، پاکستانی پاکستان کے مستقبل کے بارے میں پرامید ہیں!

مزید : کالم