سینیٹ ، صحافی احمد نورانی پر حملے کی مذمت ، واقعہ کی تحقیقات کیلئے معاملہ قائمہ کمیٹی داخلہ کو ارسال

سینیٹ ، صحافی احمد نورانی پر حملے کی مذمت ، واقعہ کی تحقیقات کیلئے معاملہ ...

اسلام آباد(آئی این پی) چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے سینئرصحافی احمد نورانی پر قاتلانہ حملے سمیت ملک بھر میں دیگر صحافیوں پر حملوں کی شدید مذمت اور صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے سینیٹ کی تاریخ میں پہلی دفعہ اجلا س کی کارروائی پانچ منٹ کیلئے معطل کر تے ہوئے احمد نورانی پر حملے کے واقعہ کی تحقیقات کیلئے معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بھیج دیا اور20 دنوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ،انہوں نے حکومت کو ہدایت کی کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے زیر التوا بل کو ایک ماہ کے اندر پارلیمینٹ میں پیش کریں، چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا احمد نورانی پر قاتلانہ حملہ درحقیقت آزادی صحافت پر حملہ ہے ، پارلیمینٹ آ زادی صحافت پر کسی قسم کی قدغن نہیں لگنے دے گی اور نہ ہی صحافت پر کسی قسم کی قدغن کی کو شش برداشت کرے گی ، ریاست کے چوتھے ستون کو بھی تحفظ فراہم کریں گے ۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبد الغفور حیدری،سینیٹر مشاہد ا للہ خان ،تاج حیدر ،عثمان کا کٹر،جہانزیب جمالدینی،اعظم سواتی ،طاہر حسین مشہدی و دیگر نے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ احمد نورانی پر قاتلانہ حملہ اقدام قتل تھا اورشائد انہیں روداد صداقت سنانے پر سزا دی گئی ہے،سینیٹ ارکان نے کہا کہ واقعہ سے لگتاہے کہ مجرموں کے ہاتھ لمبے ہیں ان کو لگتا ہے اندر سے حمایت حاصل تھی۔انہوں نے کہا کہ صحافیوں نے غیر جمہوری رویوں کے خلاف مسلسل جدوجہد کی ہے اور ان کی قربانیاں ملکی تاریخ کا روشن باب ہیں ۔ارکان سینیٹ نے کہا کہ حملوں کے باوجود صحافی خبریں دے رہے ہیں جبکہ احمد نورانی کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے ملک کے حالات کے تحت درست رپورٹنگ کی۔انہوں نے کہا کہ میڈیا پر قدغن کی وجہ سے ملک بدنام ہوچکا ہے لہٰذاپارلیمینٹ قدم اٹھائے۔ارکان سینیٹ نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی جوڈیشل انکوائری کروا کرچوتھے ستون کے تحفظ اور عزت کا خیال رکھا جائے ۔قبل ازیں جب اجلاس شروع ہوا تو صحافیوں نے سینئر صحافی احمد نورانی پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے خلاف مذمت اور احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا ۔

سینیٹ

اسلام آباد (صباح نیوز) سینیٹ میں گزشتہ روزپاکستان بیت المال ترمیمی بل 2017ء متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا، خودکشی کے واقعہ میں بچ جانے والے شخص کیلئے قانونی سزا تحلیل کرنے کا بل اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے نہ آنے پر موخر۔سوموار کو اجلاس میں دو بلز ایجنڈے پر تھے۔ پہلے مرحلے میں سینیٹر کریم احمد خواجہ نے پاکستان بیت المال ترمیمی بل پیش کیا۔ وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے بل کی مخالفت نہیں کی۔ بل کے تحت ذہنی و جسمانی طور پر معذور بچوں کے لئے تعلیم و تربیت اور بحالی کے انسٹیٹیوٹ قائم ہو سکیں گے۔ سینیٹر کریم خواجہ کے خودکشی سے بچ جانے والے شخص کیلئے مروجہ سزا کو منسوخ کرنے کے بل پر چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ انتہائی حساس معاملہ ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے لی گئی ہے۔ وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ خودکشی اسلام میں حرام ہے۔ محرک یا تو بل سے دستبردار ہو جائیں یا قائمہ کمیٹی کو واپس بھیج دیا جائے۔چیئرمین سینیٹ نے قائمہ کمیٹی داخلہ کے چیئرمین رحمان ملک سے بل کو اسلامی نظریاتی کونسل کو ارسال نہ کرنے کے بارے میں پوچھا ۔ چیئرمین کمیٹی اس حوالے سے کوئی واضح جواب نہ دے سکے ۔ چیئرمین نے برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ماہرین نفسیات کا نہ بتایا جائے ۔ سوال یہ ہے کہ اسلامی سکالرز کو کیوں نہیں بلایا گیا تھا ۔ انہوں نے یہ حساس بل آئندہ پرائیویٹ ممبر ڈے تک موخر کرتے ہوئے قائمہ کمیٹی داخلہ کے اجلاس کے منٹس طلب کرلیے ۔

بیت المال ترمیمی بل منظور

مزید : صفحہ اول