کراچی کے ڈپٹی میئر نے استعفا دے کر ڈاکٹر فاروق ستار کو مشکل میں ڈال دیا

کراچی کے ڈپٹی میئر نے استعفا دے کر ڈاکٹر فاروق ستار کو مشکل میں ڈال دیا
کراچی کے ڈپٹی میئر نے استعفا دے کر ڈاکٹر فاروق ستار کو مشکل میں ڈال دیا

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے جوشِ خطابت میں کہہ تو دیا تھا کہ اگر ہمارے ارکانِ اسمبلی توڑے گئے اور کسی دوسری جماعت میں شامل کروائے گئے تو ہم قومی اسمبلی، سینٹ، سندھ اسمبلی اور بلدیاتی اداروں کی نشستوں سے مستعفی ہوجائیں گے، اس اعلان یا دھمکی کا ارتعاش ابھی فضا ہی میں تھا کہ کراچی کے ڈپٹی میئر ارشد وہرہ نے ایم کیو ایم پاکستان کی رکنیت سے استعفا دے دیا اور پاک سر زمین پارٹی میں شامل ہوگئے لیکن تادمِ تحریر کسی رکن قومی اسمبلی، سینیٹر یا سندھ اسمبلی کے رکن نے استعفا نہیں دیا، پارٹی چھوڑتے وقت ارشد وہرہ نے ڈاکٹر فاروق ستار کو یہ یاد دہانی کرانا ضروری سمجھا تھا کہ وہ اب اپنا وعدہ پورا کریں لیکن ڈاکٹر صاحب ابھی خاموش ہیں ہوسکتا ہے چند دن تک استعفوں کی بارش شروع ہوجائے لیکن یہ استعفے ان ارکان کے بھی ہوسکتے ہیں جو ڈاکٹر فاروق ستار کا ساتھ چھوڑ جائیں گے، یہ سلسلہ ابھی مزید کچھ عرصے تک جاری رہے گا اور بہت سے ارکان تیاری کرکے بیٹھے ہیں بس وقت کا انتظار کررہے ہیں ابھی زیادہ عرصے کی بات نہیں یہ سب حضرات ایک ہی پارٹی میں تھے اور ایک ہی قائد کی محبت کا دم بھرتے تھے، یہ تو مصطفےٰ کمال تھے جنہوں نے بیرونِ ملک سے واپس آکر ٹھہرے پانی میں پتھر پھینک کر ارتعاش پیدا کردیا، انہوں نے جو باتیں کہیں ممکن ہے ان پر بہت سے حضرات کا رد عمل یہ ہو۔ ’’میں نے یہ جانا گویا یہ بھی مرے دل میں ہے‘‘ لیکن کوئی صاحب بھی دل کی بات زبان پر لانے کی ہمت نہیں کر پارہے تھے یہ کریڈیٹ تو بہرحال مصطفےٰ کمال کو دینا پڑے گا کہ انہوں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر مہرِ سکوت توڑی، یہ وہ وقت تھا جب یہ نعرہ ابھی معنی رکھتا تھا کہ ’’قائد کا جو غدار ہے وہ موت کا حق دار ہے‘‘ اور مصطفےٰ کمال نے باتیں ہی ایسی کردی تھیں کہ کراچی میں ان کا چلنا پھرنا مشکل تھا، لیکن جو کام انہوں نے کیا اس کی وجہ سے زبانوں سے خوف کے پہرے ہٹ گئے، ڈاکٹر فاروق ستار نے تو بہت بعد میں اپنے راستے لندن سے الگ کئے جب ایک ایسی تقریر ہوئی جس کا دفاع بقائمی ہوش و حواس نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس تقریر کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار الگ ہوئے تو ایم کیو ایم کے ساتھ پاکستان کا لاحقہ بڑھا دیا گیا جبکہ جو لوگ بانی کی محبت کے سحر سے نہ نکل پائے، انہوں نے اپنے ساتھ لندن بڑھا لیا، اب تو اس میں سے بھی بہت سے لوگ الگ ہوگئے ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان کے اس بحران کو جو سیاسی جماعتیں اپنے لئے مفید سمجھ رہی ہیں وہ خوش ہیں کہ جو کام ان سے نہ ہوسکا وہ مصطفےٰ کمال کررہے ہیں، لیکن اگلے الیکشن میں کراچی کی نمائندگی کا اعزاز کسے حاصل ہوگا، یہ بات ابھی وثوق سے نہیں کی جاسکتی، ابھی چند ماہ تک یہی صورتحال رہے گی اور منظر اس وقت واضح ہوگا جب آئندہ الیکشن قریب تر اور نئی گروہ بندیاں وجود میں آجائیں گی۔

متحدہ پاکستان کو ارشد وہرہ نے جو چیلنج دیا ہے اسے قبول کرنے کے معاملے پر وہ شش و پنج کا شکار نظر آتی ہے اور استعفے دینے کا اعلان جس گرج دار طریقے سے کیا گیا تھا اب اس پر اتنا ہی ٹھنڈا ٹھار رد عمل ہے ویسے یہ اطلاعات تو آرہی ہیں کہ تمام ارکانِ اسمبلی نے اپنے استعفے لکھ کر فاروق ستار کے حوالے کردیئے ہیں کہ وہ جب چاہیں انہیں متعلقہ اداروں یعنی سپیکر اور چیئرمین کو بھیج دیں، لیکن تحریک انصاف کے استعفوں کے ساتھ سپیکر ایاز صادق نے جو حسنِ سلوک کیا تھا اس کے بعد ان استعفوں کی تو کوئی اوقات نہیں، 2014ء کے دھرنے کے ساتھ ہی تحریک انصاف کے ارکان کے استعفے سپیکر کے چیمبر میں پہنچ گئے، لیکن سپیکر نے یہ شرط عائد کردی کہ جب تک ہر رکن فرداً فرداً ان کے پاس یا ڈپٹی سپیکر کے پاس جاکر اس امر کی تصدیق نہیں کرے گا کہ یہ استعفا اس نے اپنی آزاد مرضی سے دیا ہے، اور اس میں کسی جبر و ا کراہ کا کوئی عمل دخل نہیں، اس وقت تک کوئی استعفا منظور نہیں کیا جائیگا اس فراخ دلانہ پالیسی کا بھرپور قائدہ تحریک انصاف کے ارکان نے اٹھایا اور ان میں کوئی ایک بھی رجل رشید نہ تھا جو سپیکر یا ڈپٹی سپیکر کے پاس جا کر اس بات کی تصدیق کرتا کہ اس سے استعفا لیا نہیں گیا اس نے خود دیا تھا، ایک دن تو یہ ہوا کہ تمام مستعفی ارکان حوصلہ کرکے ڈپٹی سپیکر کے چیمبر کے باہر ویٹنگ ایریا میں پہنچ گئے اور گپ شپ لگاتے رہے لیکن کسی رکن نے دروازہ کھول کر اندر جانے اور جاکر استعفے کی تصدیق کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی، تمام ارکان وہیں سے اُلٹے پھر گئے اور پھر اس وقت ایوان میں آئے جب انہیں خواجہ آصف سے یہ الفاظ سننے پڑے، ’’کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے‘‘ اب استعفا دیکر واپس آنے والوں کو اتنا چکنا تو ہونا چاہئے تھا کہ یہ الفاظ ان کے اوپر سے پھسل جاتے۔ آخر کئی مہینوں کی تنخواہیں اور مراعات بھی تو انہوں نے وصول کرنی تھیں، سوان چند استقبالیہ کلمات کے بعد انہوں نے غیر حاضری اور استعفوں کے ایام کی ایک ایک پائی وصول کی اور اب بھی جب انہیں ان ایام کی یاد ستاتی ہے تو ہڑ بڑا کر اٹھتے اور اعلان کرتے ہیں کہ یہ چوروں اور ڈاکوؤں کی اسمبلی ہے۔ (جس کا وہ بھی حصہ ہیں، لیکن ظاہر ہے انہیں استثنا حاصل ہے) اسلئے اب اگر ایم کیو ایم کے ارکان نے اپنے استعفے ڈاکٹر فاروق ستار کے حوالے کردیئے ہیں تو انہیں یہ اطمینان ضرور ہے کہ ان کے ساتھ بھی اسی طرح کا فراخ دلانہ سلوک ہوگا جیسا تحریک انصاف کے ارکان کے ساتھ کیا گیا تھا۔ تو عملی طور پر صورت یہ ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار کے پاس استعفے پہنچ بھی جائیں اور وہ آگے بھیج بھی دیں تو اس سے فرق نہیں پڑتا کوئی۔

فاروق ستار مشکل میں

مزید : تجزیہ