چولستان میں پانی کا بحران سنگین‘ مکین نقل مکانی پر مجبور

چولستان میں پانی کا بحران سنگین‘ مکین نقل مکانی پر مجبور

ہیڈراجکاں (نمائندہ پاکستان )چولستان کے بیشتر علاقوں میں پانی کی صورتحال سنگین حد تک پہنچ چکی ہے ۔ پانی کی کمی اور چولستان میں موجود ٹوبوں کے خشک ہونے سے مقامی لوگوں کے سروں پر موت کے سائے منڈلانے لگے ہیں ۔ٹوبوں میں موجود پانی نہ ہونے سے مقامی لوگ جو پہلے ہی اپنے (بقیہ نمبر36صفحہ12پر )

علاقوں سے دوسری جگہ منتقل ہو چکے ہیں ۔ اب بچ جانے والے افراد بھی نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں ۔ چولستان میں تقریبا4/5سال سے بارشیں معمول سے کم ہونے پر چراگاہیں بھی اجڑ چکی ہیں ۔ ہریلی ختم ہو چکی ہے ۔ جبکہ چولستان میں موجود لانا ٗ پھوگ ٗ جھنڈ وغیرہ محکمہ جنگلات کا عملہ انہیں بے دردی سے فروخت کررہا ہے ۔ محکمہ جنگلات اور ٹمبر مافیا کی مبینہ ملی بھگت سے پورے چولستان کا صفایا ہو چکا ہے ۔ زیادہ تر شکار گاہ کے علاقے سے کاروبار ہورہا ہے ۔ چولستان میں موجود ٹمبر مافیا جنگلات عملے کو فی ٹرالی 20000ہزار سے 30000روپے میں مک مکا کرکے کٹوا رہا ہے ۔ چولستان سمیت دیگر ٹوبہ جات میں بھی دور دور تک سائے کا نام ونشان نہیں ۔ شدید گرمی اور لو نے چولستان میں قیامت برپا کردی ہے ۔ جبکہ سی ڈی عملہ چولستان بھی کاغذی کاروائیوں تک محدود ہے ۔ کمشنر بہاولپور اور ایم ڈی چولستان کی طرف سے درختوں کی کٹائی سمیت لانا پھوگ ٗ جنگلی جھاڑیوں پر پابندی لگائی گئی تھی ۔ پابندی ہونے کے باوجود ٹمبر مافیا چولستان کا صفایا کر چکے ہیں ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر