اردو، سرائیکی کے معروف شاعر سائیں نذیر حسین نذیر انتقال کر گئے

اردو، سرائیکی کے معروف شاعر سائیں نذیر حسین نذیر انتقال کر گئے

کوٹ ادو(تحصیل رپورٹر) سرائیکی واردو کے معروف شاعر صوفی منش فقیر وریٹائرڈ سکول ٹیچر سائیں نذیر حسین نذیر رحلت فرما (بقیہ نمبر19صفحہ12پر )

گئے ،مرحوم کی عمر86برس تھی،مرحوم آخری عمر تک صدارتی ایوارڈ کے خواہشمند رہے،مرحوم کی روح کو ایصال ثواب کیلئے رسم قل خوانی 2نومبربروز جمعرات 10بجے دن منڈی مویشی کوٹ ادو میں ادا کی جائے گی،سائیں نذیرحسین نذیر 15اکتوبر1931ء میں موضع ٹھٹھی حسن علی کوٹ ادو میں گورمانی خاندان کے چشم چراغ ماجد غلام محمد گرمانی کے ہاں پیدا ہوئے ،والد نے سردار کوڑا خان نام تجویز کیا،قلمی نام نذیر حسین نذیر شعور سمبھالتے ہی خود انہوں نے اختیار کیا،ابتدائی تعلیم لوئر مڈل سکول دایہ چوکھا سے حاصل کی تھی جبکہ مڈل کا امتحان سنانواں سکول سے پاس کیا،ہیڈ ماسٹر غلام حیدر خان کی شفقتوں کے طفیل گلستان بوستاں کے علاوہ دیگر اہم فارسی کتب زیر مطالعہ ر ہیں ،زمانہ طالبعلمی میں ہی شعرو شاعری کے ہنر سے آشنائی ہوئی، 1952ء سے 1979ء تک کو وہ اپنے عروج کا زمانہ گردانتے تھے،جب انہیں ملک بھر کی ادبی تقریبات میں مدعو کیا جاتا تھا، ان ایام میں انہیں حفیظ جالندھری ،جوش ملیح آبادی ،فیض احمد فیض،احسان دانش،احمد ندیم قاسمی،مجید امجد،صوفی تبسم، ساغر صدیقی،احمد فراز،افتخار عارف،جمیل ا لدین عالی،خرم بہاولپوری،کشفی ملتانی،خیال امروہی،نسیم لیہ،شکیب جلالی اور جانباز جتوئی جیسے مشاہیر کے ساتھ مشاعرے پڑھنے کے مواقع میسر آئے،1977ء میں جب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو ایک نجی دورہ پر کھر غربی کوٹ ادو میں تشریف لائے تو نذیرحسین نذیر نے ان کے سامنے ملکی استحکام اور یک جہتی کی افادیت پر مبنی ایک نظم پیش کی تو انہوں نے نذیرحسین نذیر کی حوصلہ افزائی فرماتے ہوئے تین ہزار روپیہ نقد انعام سے نوازا اور اپنے ساتھ بٹھاکر طعام میں بھی شریک کیا،مرکزی جہاد کمیٹی ڈیرہ نواب صاحب کے زیر اہتمام مسجد اقصیٰ کے موضوع پر منعقدہ آل پاکستان مشاعرہ میں نواب الحاج محمد صادق خان امیر بہاولپور کے دست مبارک سے مبلغ پانچ سو روپیہ خصوصی انعام پایا، وزیر اعلیٰ پنجاب معراج خالد کے دور میں عوامی میلہ لاہور اوررضا ہال ملتان میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے سند امتیاز وصول کی، نذیر حسین نذیر نے ایک صاحب فکر ،صاحب قلم اور صاحب دل کی حیثیت سے اس مردم خیز خطہ کی علمی خوشبو اور فکری بصیرت کو دنیا بھر میں روشناس کرانے کیلئے ایک بھر پور کردار ادا کیا تھا،مرحوم نذیر حسین نذیر کی نماز جنازہ منڈی مویشی کوٹ ادو میں ادا کی گئی جس میں سیاسی،سماجہ،دینی وشہری حلقوں کے علاوہ استاتذہ تنظیموں اور شعراء کرام کی کثیر تعداد نے شرکت کی،مرحوم کی روح کو ایصال ثواب کیلئے رسم قل خوانی 2نومبربروز جمعرات 10بجے دن منڈی مویشی کوٹ ادو میں ادا کی جائے گی،دریں اثناء بزم فکرودانش کے زیر اہتمام چےئرمین انجینئر شبیر اختر قریشی کی زیر صدارت ایک تعزیتی اجلاس منعقد ہوا جس میں خواجہ فرید لٹریسی فورم کے پروفیسر عمران میر،معروف ادیب وشاعر فیض بلوچ،معروف ادیب گیت نگار شاعر وکالم نگار تنویر شاہد محمد زئی،حنیف سیماب،شفیق انور شاز،شوکت عاجز،قاسم راز،سلیم عاقل،صادق حسین صادق،ریاض قمر،اے ڈی خالد،شبیر شرر،حافظ محمدسعید،معین خان نتکانی سمیت دیگر شعراء نے شرکت کی،تعزیتی اجلاس میں سائیں نذیر حسین نذیر کی ادبی خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا،بعد ازاں تعزیتی اجلاس میں انکے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کیلئے دعائے مغفرت بھی کی گئی.

سائیں نذیر انتقال

مزید : ملتان صفحہ آخر