بٹ خیلہ ،تحریک انصاف حکومت کی تعلیمی ایمرجنسی،چوکیداروں سے 24گھنٹے ڈیوٹی لینے کا انکشاف

بٹ خیلہ ،تحریک انصاف حکومت کی تعلیمی ایمرجنسی،چوکیداروں سے 24گھنٹے ڈیوٹی ...

بٹ خیلہ ( بیورو رپورٹ)تحریک انصاف حکومت کی تعلیمی ایمر جنسی، ہائی کورٹ کے واضح فیصلے کے باوجود ملاکنڈ سمیت پورے صوبے کے پرائمری سکولزکے چوکیداروں سے24گھنٹے ہفتے کے ساتوں دن ڈیو ٹی لینے کا نکشاف ہوا ہے خلاف ورزی پر مانیٹرنگ یونٹ غریب ملازمین کی تنخواہوں سے کٹو تی کے علاوہ دوسری سخت کاروائی بھی کر تا ہے نمائندہ تنظیمیں اور متاثرہ ملازمین انسانی حقوق اور قانون کے برعکس اس ظالمانہ ڈیوٹی کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے ہیں اور دھمکی دی ہے کہ اگر ایک ہفتے کے اندر اندر اس بارے واضح فیصلہ نہ کیا گیا تو سکولوں کی تالہ بندی کرکے ہڑتال و احتجاج کیا جائے گا آل درجہ چہارم ایمپلائیز ایسو سی ایشن ملاکنڈ کے صدر پیر سعید خان تحصیل صدر قدر گل بخت محمدسلطان غنی نے پی ڈبلیو ڈی لیبریو نین کے صو بائی صدر گل زمین اور فقیر شاہ کے ہمراہ پر یس کانفر نس خطاب کر تے ہو ئے کہا کہ عرصہ دراز سے ملاکنڈ سمیت پورے صو بے کے سرکاری گرلز و بوائز پرائمری سکولوں کے چو کیدار وں سے 24گھنٹے ڈیو ٹی لی جارہی ہے جبکہ اتوار سمیت عید ین اور دیگر قومی ایام پر بھی وہ چھٹی نہیں کر تے دوسری جانب مانیٹر نگ یو نٹ نے ان کا جینا حرام کر دیا ہے دن کے اوقات میں سکول یا اساتذہ کے کاموں کے سلسلے میں باہر جانے پر بھی انھیں غیر حا ضر قرار دے کر بطور سزا نہ صر ف تنخواہوں سے بھاری کٹو تی بلکہ سخت کاروائی بھی جاتی ہے انھوں نے کہاکہ 24گھنٹے ڈیوٹی آئین و قانو ن سمیت انسانی حقو ق کی کھلم کھلا خلاف وزری ہے جس کے خلاف پشاور ہائی کور ٹ سے رجوع کیا گیا اور عدالت نے محکمے کو چوکیداروں سے 8گھنٹے ڈیو ٹی لینے کا پابندکیا جس پر کو ئی عمل درآمد نہیں کیا جارہا انھوں نے کہا کہ سکول چھٹی سے اگلی صبح سکول کھلنے تک جوکہ16گھنٹے بنتے ہیں چوکیدار بخو شی ڈیو ٹی دے رہے ہیں محکمہ تعلیم اور سکولز انچارج کی نا اہلی جبکہ مانیٹر نگ یونٹ کیہٹ دھڑمی کی وجہ سے ان غریب ملازمین کو24گھنٹے حاضری پر مجبور کیا جاراہے جوکہ ظلم و زیادتی کے مترادف ہے انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ایک ہفتے کے اند اندر اس سنگین مسئلے کا مستقل حل نہ نکا لا گیا تو ملاکنڈ کے سینکڑوں متاثرہ چوکیدار احتجاجا سکول بند کر کے ہڑتال پر مجبور ہو جائیں گے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر