صوبائی احتساب کمیشن کو نیب نہ بنایا جائے ،جسٹس اکرام اللہ

صوبائی احتساب کمیشن کو نیب نہ بنایا جائے ،جسٹس اکرام اللہ

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس اکرام اللہ نے کہا ہے کہ صوبائی احتساب کمیشن کو نیب نہ بنایاجو اب دو ٗ دو لاکھ والے ملزموں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اوربڑے مگرمچھوں پرکوئی ہاتھ نہیں ڈالتااحتساب کمیشن کے ادارے کو چلنے دیاجائے اوراگراسی طرح یہ معمولی کیسوں کے پیچھے پڑگئے تو ان کی ساکھ بھی خراب ہوجائے گی فاضل جسٹس نے یہ ریمارکس گذشتہ روز سابق ڈی او آر اسفندیارباچا کی جانب سے بیرسٹرمسعودکوثرکی وساطت سے دائررٹ پرجاری کئے دورکنی بنچ جسٹس اکرام اللہ اور جسٹس اعجازانورپرمشتمل تھا اس موقع پر عدالت کو بتایاگیاکہ درخواست گذارپر اختیارات کے ناجائزاستعمال اورغیرقانونی اثاثے بنانے کاالزام عائد کرتے ہوئے خیبرپختونخوااحتساب کمیشن نے تحقیقات شروع کی ہیں جبکہ چارسدہ میں سرکاری قبرستان کی اراضی اپنے نام منتقل کرنے کابھی الزام عائد کیاگیاہے جس میں کوئی صداقت نہیں اوراب صوبائی احتساب کمیشن درخواست گذار کو گرفتارکرناچاہتی ہے جبکہ وہ دو مرتبہ پروفارمابھی داخل کرچکاہے جبکہ درخواست گذار کے اثاثے 50ملین سے کم مالیت کے ہیں اوراحتساب کمیشن اس کی تحقیقات کی مجاز نہیں ہے اورانٹی کرپشن اورنیب پہلے ہی ان الزامات کی انکوائری کرچکی ہے جس میں اسے کلیئرقرار دیاگیاہے احتساب کمیشن کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گذار کے اثاثے غیرقانونی ہیں اوروہ مختلف طریقوں سے احتساب کمیشن کو تنگ کرنے کی کوشش کررہا ہے اورکمیشن کے ساتھ تعاون نہیں کررہا ہے فاضل بنچ نے ابتدائی دلائل کے بعد گرفتاری روکتے ہوئے درخواست گذارکو کمیشن کے روبروپیش ہونے کی ہدایت کردی اورجواب الجواب مانگ لیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر