فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 258

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 258
فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 258

  

اختر نواز صاحب نرے ہیرو ہی نہ تھے انہوں نے کئی فلموں کی ہدایتکاری بھی کی تھی۔ وہ اپنے بارے میں زیادہ گفتگو نہیں کرتے تھے۔ نہ ہی باتوں باتوں میں اپنی جوانی کے دنوں کے قصّے سناتے تھے۔ ان کا فلمی پس منظر جاننے کے بعد ہم نے بارہا انہیں کریدا اور اس زمانے کے واقعات بیان کرنے پر اکسایا مگر وہ ہنس کر خاموش ہو جاتے تھے۔ ثناء اﷲ خان گنڈاپور سے ان کی صاحب زادی ہما کی شادی ہوئی تو ہم بھی خاص طور پر اس میں مدعو تھے۔ ثنا اﷲ خان ہمارے گہرے دوست تھے مگر اختر نواز صاحب نے ہم سے کہا تھا کہ یاد رکھو‘ تم لڑکی والوں کی طرف سے شادی میں شرکت کرو گے۔

سمن آباد میں شادی سادگی سے ہوئی البتہ کھانے پر بہت زور دیا گیا تھا۔ فلمی صنعت کے قریباً سبھی قابل ذکر افراد موجود تھے۔

ثناء اﷲ خان نے دلہا ہونے کے باوجود ہمیں یاد دلایا ’’آفاقی تم میری طرف سے مہمان ہو‘ ٹھیک ہے نا؟‘‘

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 257 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’بالکل‘‘ ہم نے جواب دیا۔

اختر نواز صاحب سے ملاقات ہوئی تو وہ ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور لوگوں سے کہا ’’آفاقی میری طرف سے شریک ہوا ہے۔ یہ میرا‘ ثناء اﷲ سے پہلے کا واقف ہے۔ کیوں نا؟‘‘ انہوں نے ہم سے تصدیق چاہی۔

دو مُلاؤں میں مرغی حرام والی کہاوت تو آپ نے بھی سنی ہو گی مگر دو پٹھانوں میں مہمان کی مشکل کا علم نہ ہو گا۔ اختر نواز صاحب اعلٰی تعلیم یافتہ پٹھان تھے اس لئے روشن خیال بھی تھے۔ ان کا کوئی بیٹا نہیں تھا مگر لڑکیوں کو انہوں نے اعلی تعلیم دلوائی تھی۔ ثناء اﷲ خان گنڈاپور کی بیگم ہما بھی ایم اے پاس ہیں۔ بعد میں انہوں نے بنک میں ملازمت کر لی۔ ہم نے انہیں روز اوّل ہی بتا دیا تھا کہ آپ کے بینک میں ایک اکاؤنٹ نہیں کھولیں گے کیونکہ اس کے دیوالیہ ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ ایک تو خاتون اوپر سے پٹھان۔ جب وہ بینک کی وائس پریذیڈنٹ ہو گئیں تو ایک دن ہم سے کہا ’’اب تو اپنا اکاؤنٹ ہمارے بینک میں کھول سکتے ہیں۔ دیکھو تو اتنے عرصے کے بعد بھی یہ بینک چل رہا ہے۔‘‘

ہم نے کہا ’’بھابھی بینک اور دل کا کوئی پتہ نہیں ہوتا۔ جانے کب بند ہو جائے۔‘‘

ہم اپنی فلم ’’سزا‘‘ کی روداد بیان کر چکے ہیں۔ یہ ہماری بنائی ہوئی تیسری فلم تھی۔ اصولاً تو ہمیں پہلی فلم سے بسم اﷲ کرنی چاہئیے مگر پہلے عرض کر چکے ہیں کہ یہ داستان ترتیب وار بیان نہیں کی جا رہی ہے اور شاید یہ ممکن بھی نہیں ہے۔ واقعات‘ خیالات اور شخصیات کا اس قدر ہجوم ہے کہ دماغ میں افراتفری کا عالم ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کہاں سے چھوڑیں اور کہاں سے شروع کریں۔ بات میں سے بات نکلتی چلی جاتی ہے اور داستان کی داستان بھی جاری رہتی ہے۔ پھر بھی مناسب ہے کہ ہم اپنی پہلی فلم کی کہانی بھی بیان کر دیں۔ یہ فلم سازی میں ہماری پہلی پہلی کوشش تھی اس لئے اس میں مشکلات بھی زیادہ پیش آئی تھیں۔ بطور فلم ساز ہماری اوّلین فلم ’’کنیز‘‘ تھی۔ مگر سب سے پہلے تو یہ سنئے کہ آخر ہم نے فلم سازی کا آغاز کیوں کیا بلکہ یہ کہ اچھی خاصی صحافت چھوڑ کر فلم کی وادی میں کیوں نکل گئے؟

جب 1958ء میں پہلا مارشل لاء نافذ ہوا تو چند روز کے اندر ہی ہمیں بدلے ہوئے حالات اور ناساز گار ماحول کا احساس ہو گیا تھا۔ اس ضمن میں کچھ واقعات ہم پہلے تحریر بھی کر چکے ہیں۔ ہم نے صحافت کا پیشہ اختیار ہی اس لئے کیا تھا کہ یہ ہمارا پسندیدہ شعبہ تھا اور یہاں ہمیں عزت نفس اور ہر طرح کی آزادی حاصل تھی مگر مارشل لاء لگتے ہی ہمیں جمہوریت اور مارشل لا کا فرق معلوم ہو گیا۔ یہ بات علیحدہ ہے کہ کافی وقت گزارنے کے بعد اب ہمیں یہ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ جمہوریت میں بھی مارشل لا کے طور طریقے اختیار کئے جا سکتے ہیں۔ ’’نوائے وقت‘‘ کے مدیر اور اپنے سابق باس جناب حمید نظامی صاحب سے ہماری مارشل لا کا اعلان ہوتے ہی ملاقات ہوئی تھی۔ ہم خاص طور پر گھبرائے ہوئے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور انہوں نے اس شام اپنی ٹمپل روڈ والی کوٹھی کے سادہ ڈرائینگ روم میں بیٹھ کر حالات پر جو تبصرہ فرمایا تھا وہ آج بھی ہمیں لفظ بہ لفظ یاد ہے اور ہمیشہ یاد رہے گا۔ اس روز وہ بے حد دل برداشتہ اور مغموم تھے اور خلاف عادت سوچ میں گم تھے۔

ہم نے پوچھا ’’نظامی صاحب۔ آپ کے خیال میں اب کیا ہو گا؟‘‘

نظامی صاحب نے کہا ’’مجھے ڈر ہے کہ کہیں پاکستان بھی مشرق وسطیٰ کا ایک ملک بن کر نہ رہ جائے جہاں آئے دن فوجی انقلابات برپا ہوتے رہتے ہیں اور حکومتوں کے تختے الٹ جاتے ہیں‘‘ پھر انہوں نے انگریزی میں کہا۔

"This is the beginning of the end"

مزید ستم یہ ہوا کہ ان ہی دنوں ہماری ’’آفاق‘‘ کے چیئرمین صاحب سے ٹیلی فون پر جھڑپ ہو گئی۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر آپ یہاں کے حالات سے مطمئن نہیں تو بخوشی نوکری چھوڑ کر چلے جائیں۔

ہم نے عرض کیا ’’ہم آج ہی چلے جائیں گے بشرطیکہ آپ ہمارے واجبات ادا کر دیں۔‘‘

ظہور عالم شہید صاحب اور دوسرے ساتھیوں نے بہت سمجھایا بجھایا مگر ہم نے صرف ’’آفاق‘‘ ہی سے نہیں بلکہ صحافت ہی سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ یہ فیصلہ ہم نے بہت سوچ سمجھ کر کیا تھا۔ اس وقت ہمیں صحافت سے وابستہ ہوئے لگ بھگ آٹھ سال کا عرصہ گزر چکا تھا اور اس دوران میں ہم نے محسوس کیا تھا کہ شوق اپنی جگہ مگر حالات صحافت کا پیشہ اختیار کرنے کے لئے سازگار نہیں ہیں۔ اس زمانے میں صحافیوں کی تنخواہیں بہت کم تھیں۔ پروفیسر سرور جیسے دانشور اور لائق و فائق ایڈیٹر کو پانچ سو روپے ماہوار تنخواہ دی جاتی تھی۔ دوسروں کا بھی درجہ بدرجہ ایسا ہی حال تھا۔ ہمارے علم کے مطابق سب سے زیادہ تنخواہ جو اردو اخبار کے کسی ایڈیٹر کو دی جاتی تھی وہ ایک ہزار روپے ماہوار سے زیادہ نہ تھی اور ان بزرگوں میں مولانا غلام رسول مہر اور مولانا چراغ حسن حسرت جیسے جیّد ایڈیٹر بھی شامل تھے۔

ہمیں دولت کمانے کا کبھی شوق نہیں رہا مگر عزت اور آسائش کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی تمنا تھی جو ان حالات میں پوری ہوتی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔

دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ اردو اخبارات کی تعداد بہت محدود تھی۔ نوائے وقت‘ امروز‘ احسان‘ زمیندار اور مغربی پاکستان‘ لاہور کے ممتاز اخبارات تھے۔ لیکن ان سب کا ماحول‘ حالات اور پس منظر مختلف تھا۔ ’’امروز‘‘ میں بائیں بازو کے ترقی پسندوں ہی کو داخلہ مل سکتا تھا۔ ’’زمیندار‘‘ کا دقیانوسی ماحول ہمارے لئے ناسازگار تھا۔ احسان اور مغربی پاکستان اپنے مالی حالات کی وجہ سے نامساعد حالات سے دوچار تھے۔ لے دے کر صرف ’’نوائے وقت‘‘ ہی ایک ایسا روزنامہ تھا جس میں ہمارا گزارا ہو سکتا تھا لیکن ضروری نہ تھا کہ جس وقت ہمیں نوکری کی ضرورت ہو تو وہاں گنجائش بھی موجود ہو۔ اس کے علاوہ ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ ہم روزنامہ آفاق میں اسسٹنٹ ایڈیٹر اور روزنامہ ’’آثار‘‘ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر فرائض سرانجام دے چکے تھے اور اس کے بعد کسی جونیئر حیثیت میں کام کرنا ہمارے لئے دشوار تھا۔ گویا روزنامہ ’’آفاق‘‘ ہی بظاہر ہماری جائے پناہ تھا مگر اس کے مالکوں سے بھی ہم ناخوش ہو چکے تھے۔ یہ مسئلہ بھی درپیش تھا کہ ہم بذات خود کہیں نوکری تلاش کرنے کے لئے نہیں جا سکتے تھے۔ گویا کسی روزنامے میں ہماری گنجائش ہی نہ تھی۔ اس پر ستم یہ کہ مارشل لاء نافذ ہو گیا اور اس نے ہمیں صحافت کے مستقبل سے مزید بددل کر دیا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہنا بجا ہو گا کہ ہمیں صحافت میں اپنے لئے روشن مستقبل نظر نہیں آ رہا تھا۔ اس کے باوجود ہم نے اپنی عادت کے مطابق جوش میں آ کر روزنامہ ’’آفاق‘‘ کو خیرباد کہہ دیا اور گھر بیٹھ گئے۔

صحافت کے سوا ہمیں کچھ نہیں آتا تھا لیکن چند سال سے فلمی صنعت میں ہماری آمدروفت تھی اور یہ بھی ہمارا پسندیدہ کام تھا۔ گزشتہ دو تین سالوں میں نہ صرف ہماری فلمی صنعت کے ہر بلند و پست فرد سے واقفیت اور بے تکلفی ہو چکی تھی بلکہ ہم نے کہانی نویسی بھی سیکھ لی تھی۔ ہماری تصنیف کردہ پہلی فلم ’’ٹھنڈی سڑک‘‘ 1956ء میں شروع ہوئی تھی۔ اس کے بعد ہم نے فلم ساز ہدایت کار لقمان کے ساتھ کافی وقت گزارا تھا۔ فلمی کہانی کے سلسلے میں بحثوں میں حصہ لیا تھا۔ فلم سازی کے مختلف مراحل ہماری نظروں سے گزر چکے تھے۔ پہلے تو ہم اعزازی حیثیت سے سکرپٹ کی تیاری میں حصہ لیتے رہے مگر پھر ظہور الحسن ڈار صاحب کی تجویز پر لقمان صاحب نے ہمیں باقاعدہ کہانی کے شعبے میں شامل کر لیا۔ مرزا ادیب اور ظہور الحسن ڈار ان کے ریگولر مصنف تھے۔ مگر فلم ’’ایاز‘‘ میں انہوں نے پہلی بار ہم سے باقاعدہ کچھ مکالمے لکھوائے۔ سکرین پلے کی تیاری میں بھی ہم نے سرگرمی سے حصہ لیا تھا۔ اس کارکردگی کے پیش نظر انہوں نے ہمیں پروموٹ کرنے کا فیصلہ کیا اور ان کی آئندہ فلم ’’آدمی‘‘ کے سکرپٹ کی تیاری میں ہمیں باقاعدہ شریک کر لیا گیا۔ اس فلم کے لکھنے والوں میں بھی میرزا ادیب اور ظہور الحسن ڈار صاحبان شامل تھے لیکن کچھ وقت کے بعد وہ دونوں حضرات کنارہ کش ہو گئے اور کہانی نویسی کا تمام بوجھ ہمارے ناتواں کاندھوں پر آ گیا۔ (جاری ہے)

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 259 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : فلمی الف لیلیٰ