2018کے عام انتخابات نئی حلقہ بندیوں کے بغیر ممکن نہیں :سیکرٹری الیکشن کمیشن

2018کے عام انتخابات نئی حلقہ بندیوں کے بغیر ممکن نہیں :سیکرٹری الیکشن کمیشن
2018کے عام انتخابات نئی حلقہ بندیوں کے بغیر ممکن نہیں :سیکرٹری الیکشن کمیشن

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن ) سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب نے کہا ہے کہ مردم شماری کے بعد اب 2018 کے انتخابات نئی حلقہ بندیوں کے بغیر ممکن نہیں، واٹر مارک بیلٹ پیپرز چھاپے جائیں گے۔ان کا کہنا ہے قومی اسمبلی کے امیدوار 30 ہزار جب کہ صوبائی اسمبلی اور سینیٹ کے امیدوار 20،20 ہزار فیس جمع کرائیں گے، قومی اسمبلی امیدوار 40 لاکھ، صوبائی اسمبلی 20 لاکھ اور سینیٹ امیدوار 15 لاکھ تک انتخابی اخراجات کر سکیں گے۔

انتخابات 2018کی تیاریوں سے متعلق میڈ یا ورکشاپ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کے معاملے پر پریشان ہے، مردم شماری کے بعد 2018 کے انتخابات نئی حلقہ بندیوں کے بغیر ممکن نہیں جب کہ عام انتخابات کتنی نشستوں پر ہونے ہیں کلیئر نہیں لہذا میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ الیکشن تاخیر کا شکار ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیوں اور ووٹر فہرستوں پر نظرثانی بیک وقت کی جائے گی، اگر ہمیں وقت کم دیا جائے گا توغلطیوں کی گنجائش زیادہ ہوگی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ اسمبلیوں کی مدت 5 جون 2018 کو مکمل ہوگی اور عام انتخابات جولائی 2018 تک ہونے کا امکان ہے جب کہ آئین کے تحت اسمبلیوں کی مدت ختم ہونے کے بعد 2 ماہ کے اندر انتخابات کرانا ہیں، 5 مئی 2018 کو انتخابی فہرستیں منجمد کردی جائیں گی تاہم 5 مئی کے بعد انتخابی فہرستوں میں کسی ووٹر کو شامل نہیں کیا جائے گا۔

مزید : قومی