یہ ہولناک جانور رات کو سمندر سے باہر نکل آتے ہیں، سائنس کی تاریخ میں پہلی بار یہ دلچسپ انکشاف ہوگیا

یہ ہولناک جانور رات کو سمندر سے باہر نکل آتے ہیں، سائنس کی تاریخ میں پہلی بار ...
یہ ہولناک جانور رات کو سمندر سے باہر نکل آتے ہیں، سائنس کی تاریخ میں پہلی بار یہ دلچسپ انکشاف ہوگیا

  

لندن(نیوز ڈیسک) آج تک ہر کوئی یہی سمجھتا رہا کہ مچھلی کی طرح خوفناک شکل والا آبی جانور آکٹوپس بھی ساری زندگی پانی میں ہی گزارتا ہے، لیکن شاید ایسا نہیں ہے۔ گزشتہ جمعہ کی رات برطانیہ کے ایک ساحل پر لوگ یہ دیکھ کر خوفزدہ ہو گئے کہ بڑی تعداد میں آکٹوپس سمندر سے باہر نکل آئے اور کئی گھنٹوں تک ساحل پر چہل قدمی کرتے رہے۔

ویب سائٹ ’سائنس الرٹ‘ کے مطابق یہ حیرتناک واقعہ ویلز کے کیرے ڈیجین ساحل پر پیش آیا۔ ایک مقامی سیاحتی کمپنی کے منیجر اور اس کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے 20 کے قریب آکٹوپس سمندر سے باہر آتے دیکھے، جو دھیرے دھیرے ایک بڑے گروہ کی شکل میں چل رہے تھے۔ جی مور ڈولفن واچنگ بوٹ سیاحتی کمپنی کے مالک بریٹ جونز بھی یہ منظر دیکھنے والوں میں شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا ”یہ آکٹوپس کسی وجہ سے سمندر سے باہر نکل آئے تھے لیکن میں نے ایسا نظارہ اپنی زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ سمندر میں لہریں بہت زیادہ بپھررہی تھیں جس کی وجہ سے آکٹوپس پریشان ہوکر ساحل پر نکل آئے، لیکن وجہ جو بھی ہو یہ انتہائی حیران کن واقعہ ہے۔ یہ تمام آکٹوپس اپنی ٹانگوں کے سروں پر چل رہے تھے۔“ کچھ لوگوں نے ایک رات پہلے بھی اسی ساحل پر چند آکٹوپس چلتے پھرتے دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔

وہ گاﺅں جہاں چڑیل نے حملہ کردیا، عورتوں کو کچھ نہیں کہتی لیکن مردوں کا کیا حال کرتی ہے؟ ایسا سلوک کہ مرد دھڑا دھڑ اپنے گھر چھوڑ کر بھاگنے لگے، گاﺅں ویران ہونے لگا

یاد رہے کہ آکٹوپس کو سمندر سے باہر دیکھنے کا واقعہ شاذ و نادر ہی کبھی سننے میں آتا ہے۔ا س سے پہلے 2011ءمیں ایک آکٹوپس کو امریکی ریاست کیلیفورنیا کے فٹس جیرالڈ میرین ریزرو ساحل کے قریب خشکی پر دیکھا گیا تھا۔

ماہر حیاتیات مینڈی ریڈ کا کہنا ہے کہ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ آکٹوپس رات کے وقت سمندر سے باہر آتے ہیں، لیکن چونکہ اندھیرے میں انہیں دیکھنے والا کوئی نہیں ہوتا لہٰذا ان کے اس رویے کے بارے میں معلومات بہت کم پائی جاتی ہیں۔ خصوصاً اتنی بڑی تعداد میں آکٹوپس خشکی پر پھرتے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس