نیب کی مشکلات اور کرپشن مافیا

نیب کی مشکلات اور کرپشن مافیا
نیب کی مشکلات اور کرپشن مافیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

احتساب یا نیب کمشن پاکستان کا ایک ایسا ادارہ ہے جس کے ذکر کے بغیر ہر ٹی وی چینلز کا پرو گرام اُدھورا رہتا اور ہر اخبار کی اشاعت نا مکمل نظر آتی ہے۔ کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہی ادارہ مُلک میں سب سے زیادہ فعال ہے۔ لیکن بد قسمتی سے یہ ادارہ بھی دوسرے اداروں کی طرح نا کام اور تنقید کی زد میں رہتا ہے۔ پاکستان میں ہر حکومت کی یہ سوچ رہی ہے کہ پاکستان کے معاشرے کو ہر قسم کی کرپشن سے آزاد کیا جائے تاکہ مُلک عزیز کی خوشحالی کے ثمرات ہر ایک شہری تک پہنچ سکیں۔ لیکن مُثبت سوچ رکھنے کے باوجود کوئی حکومت بھی غیر جانبدارانہ انداز میں نیب جیسے خُود مُختار اور آزاد ادارے کو وُہ آزادی عطا نہیں کر سکی جس کی بدولت اِس کی افادیت پر فخر کیا جا سکے۔ ہر دور میں یہ ادارہ معتوب ہی رہا ہے۔ یہ ادارہ کہنے کی حد تک ضرور آزاد رہا ہے لیکن عملی طور اِس پر حکومت اور سیاستدانوں کا اثر رہا ہے۔ نیب کے چئیر مین کا انتخاب وزیر اعظم اور اپوزیشن کے قائد کی رضامند ی سے ہوتا ہے۔ لہذا مُنتخب چئیر مین کے فرائض میں یہ بات شامل ہو جاتی ہے کہ وُہ مذکورہ اشخاص کا خیال رکھے۔ باالفاظِ دیگر، دونوں پارٹیوں کے نمائیند وں کے خلاف اُنکے پُوچھے بغیر مقدمہ درج نہ کرے۔ اگر ایسا کرنا ممکن نہ رہے تو مقدمات گھمبیر نہیں بننے چاہئے۔ علاوہ ازیں، وزیر اعظم اور قائدِ حزب اختلاف کے خلاف کوئی ریفرنس درج نہیں ہونا چاہیئے۔ اِس قسم کے معاہدے تحریری طور پر نہیں کئے جاتے بالکل یہ باتیں اشارے کنایوں سے از بر کروا دی جاتی ہیں۔
احتساب کمشن نواز شریف صاحب کے دور میں سیف الرحمن صاحب کی قیادت میں قایم کیا گیا تھا۔ جس کا مقصد مُلک کو کرپشن اور بد عنوانی سے پاک کرنا تھا ۔ اس ظاہری مقصد کے علاوہ ایک باطنی مطلب تھا کہ اس ادارے کی وجہ سے باغی اور سرکش سیاست دانوں کو تا ئب کیا جا سکے۔یہ وُہ دور تھا جب پہلی دفعہ نواز شریف صاحب مُلک کے وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے۔ اُسوقت تک نواز شریف صاحب کی پیپلز پارٹی اور اُسکی قیادت سے مخالفت اپنے عروج پر تھی۔ نواز شریف اپنے پاؤں جمانے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہے تھے۔ آصف زرداری اور بے نظیر بھٹو کو زیر کرنے کے لئے ہر قسم کا حربہ استعمال کر رہے تھے۔ اقتدار کا نشہ سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ لہذا انہوں نے زرداری اور بے نظیر سے سکور برابر کرنے کے لئے ہر ہتھکنڈہ آزمایا۔ جائز نا جائز کیسزز بنائے گئے۔ زرداری کو کئی سال تک ان مقدمات کا ڈٹ کر مُقابلہ کرنا پڑا۔ پیپلز پارٹی والوں کا یہ کہنا ہے کہ نواز شریف نے آصف زرداری سے بدلہ لینے کے لئے جھوٹے مقدمات بنوائے۔ ایک حد تک یہ بات تسلیم کی جاسکتی ہے کہ نواز شریف کے ایماء پر سیف الرحمن نے ہر قسم کے مقدمات زرداری، بے نظیر بھٹو اور اُنکے سیاسی رفقاء پر قایم کئے لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اگر انہوں نے کوئی کرپشن نہیں کی تھی تو سرے محل جیسی عمارت کا وجود چے معنی دارد؟ سو ئس بینکوں میں جمع اربوں ڈالرز کہا ں سے آئے؟ زرداری اور بے نظیر بھٹو پر کیوں سوئس عدالت نے مقدمہ قایم کیا تھا۔؟ سیدھا سیدھا سوال تو یہ ہے کہ اتنی بڑی رقم اُن کے پاس کہاں سے آئی؟ انہوں نے کیا اِس آمدنی کو اپنے انکم ٹیکس کے گوشوراوں میں ظاہر کیا ہے؟ کیا اُنہوں نے ان رقوم یا اثاثوں پر مُلکی قانوں کے مُطابق ٹیکس ادا کیا ہے؟کس کی اجازت سے یہ رقوم باہرکے ممالک کو بھیجی گئی ہیں؟سب لوگ جانتے ہیں کی مُلک کی لوٹی ہوئی دولت کو نواز شریف اور آصف زرداری نے اپنے دوستوں کی مدد سے منی لانڈرنگ کے ذریعے بھیجا۔ جس کا کوئی آفیشل ریکارڈ موجود نہیں۔اسی طرح نواز شریف اور اُنکے آباء نے خطیر رقوم کو جو نا جائیز طور پر کمائی گئی تھیں، اُنکو قطر میں بھیجا۔ اس انویسمنٹ کا کوئی سر کاری ر یکارڈ موجود نہیں۔ اور نہ ہی کوئی قانونی معاہدہ موجود ہے جو اس خاندان کی سر مایہ کاری کا قابلِ اعتبار ثبوت فراہم کر سکے۔ بیان کردہ دونوں ہی صورتیں ایسی ہیں کہ نیب یا کوئی بھی ادارہ بغیر حکومت کی سر پرستی کے اپنے طور پر کوئی بھی چارہ جوئی نہیں کر سکتا۔چئیر مین ذہنی طور پر وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کا ممنون ہوتاہے۔ وُہ اپنی کُرسی کو بچانا چاہتا ہے۔ اُ س کو بھی اپنے مُفادات عزیز ہیں۔لہذا وُہ اس پوزیشن میں ہی نہیں کہ وُہ مذکورہ بالا اہم شخصیات کے خلاف کوئی ایکشن لے سکے۔ یہی وجہ ہے کہ نیب جیسے ادارے کی سر گرمیاں تو اخبارات کے ذریعے عوام تک پہنچتی ہیں لیکن عملی طور پر کوئی کام نہیں ہوتا۔ نیب اپنی افادیت اور اہمیت دکھانے کے لئے اگر کُچھ لوگوں پر ہاتھ ڈالتا ہے تو ادارے نیب سے تعاون نہیں کرتے۔ کیوں کہ نوکر شاہی ہوں یا عام سر کاری اہل کار، وُہ سب چڑھتے سورج کو سلام کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ نوکر شاہی کو بھی سمجھا دیا جاتا ہے کہ خیریت اسی میں ہے کہ آپ لوگ حکومت کے معاملات میں ٹانگ نہ اڑائیں اور حکومت کی اجازت کے بغیر کسی کو کوئی اطلاع فراہم نہ کریں۔ یہی وجہ ہے کہ نیب اپنے مقد مات کو اثبات کے ساتھ عدالتوں میں پیش نہیں کر سکتا۔عدالتیں بغیر کسی ثبوت کے کسی بھی شہری کو سزا نہیں دے سکتیں۔
یہ بات ہم سب کو ذہن نشیں کر لینی چاہیے کہ کرپشن اور منی لانڈرنگ یا کک بیکس جیسے کیسزز کی تفتیش کرنا اور ان کو عدالتوں میں اثبات کے ساتھ ثابت کرنا اگر نا ممکن نہیں تو دشوار ضرور ہے۔ کرپشن میں ملوث افراد کے پاس دولت کی کمی نہیں ہوتی۔ وُہ جرم کرنے سے پہلے ماہر قانون دانوں سے مشورہ کرتے ہیں۔ وُہ اُن کو تمام قانونی داؤ پیچ سکھا دیتے ہیں۔ لہذا نیب جیسے ادارے کے لئے چوری پکڑنے کے ساتھ ساتھ اثبات فراہم کرنا جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔ اس کے علاوہ، دوسرے مُلکوں سے لُو ٹی رقم واپس لانا اس سے بھی مُشکل کام ہے۔ حکومت پاکستان کے کئی ممالک سے ایسے معاہدے نہیں ہیں جن کی بدولت لوُٹی رقوم کو واپس لایا جا سکے اور رقوم لانے کی راہ میں مُلکی اور غیر مُلکی قوانین ہیں۔ ایسے حالات میں احتساب جیسے ادارے سے غیر حقیقت پسندانہ توقعات رکھنا بیوقوفی ہے۔ لیکن تمام تر مایوسی کے باوجود ہمیں مو جودہ چئیر مین نیب سے بہت ساری اُمیدیں وابستہ ہیں کیونکہ وُہ فعال ہیں۔ اُنکی بہاردی صاف نظر آتی ہے۔ وُہ تمام تر مُشکلات اور تنقید کے باوجود مُلک کو کرپشن سے پا ک کرنے کے لئے اپنے طور پر پُوری کوشش کر رہے۔ اُنکی خوش قسمتی ہے کہ عمران خاں صاحب اور چیف جسٹس پاکستان اُنکی ہر جائز مدد کرنے کے لئے مو جود ہیں۔ ہمیں اُمید ہے کہ عمران قوم سے کئے گئے احتساب کے وعدے کو انتقامی نہیں بنایں گے بلکہ غیر جانبدارانہ انداز میں اس ادارے کی حوصلہ افزائی کرکے اس کی فعالیت کی یقینی بنائیں گے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ مُلک سے کرپشن، اقربا پروی اور رشوت ستانی کا خاتمہ ہو تو ضروری ہے کہ ہم اپنے ذہنوں اور خیالوں سے کرپشن کو نکال دیں۔رزقِ حلال کھانے اور اپنے بچوں کو کھلانے کے لئے ہمہ وقت کوشش کرتے رہیں۔ خود احتسابی مُلک میں احتساب کے نظام کو تقویت دے سکتی ہے۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -