فریقین کا امتحان

فریقین کا امتحان

  

مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ لاہور پہنچ چکا ہے،اور جب یہ سطور آپ کی نظر سے گذریں گی، اسلام آباد کے لیے سفر کا آغاز ہو چکا ہو گا۔اس میں ہزاروں افراد شریک ہیں۔ جگہ جگہ اس کا پُرزور استقبال ہوا ہے۔ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے بھی(حسب ِ توفیق) اس کا استقبال کیا ہے۔پھول نچھاور کیے ہیں،اور نعرے لگائے ہیں۔مولانا فضل الرحمن جس ٹرک (یا کنٹینر) پر سوار ہیں، پھولوں کی پتیاں اس پر منوں بلکہ ٹنوں کے حساب سے نچھاور ہو چکی ہیں۔ اس کارواں میں مدرسوں کے طلبہ کی کسی قابل ِ ذکر موجودگی کی اطلاع نہیں ملی۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس کے شرکا کی بھاری تعداد جمعیت العلمائے اسلام کے کارکنوں پر مشتمل ہے،جو عام شہری شریک نظر آئے ہیں ان کی عمریں بھی تیس،چالیس کے قریب یا اس سے زیادہ ہیں۔

ایک طرف سڑکیں سیاست سے آباد ہیں تو دوسری طرف عدالتوں سے ایسی خبریں آ رہی ہیں، دستور اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھنے والے جن پر بہت کچھ اطمینان کا اظہار کر سکتے ہیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف جو لاہور کے سروسز ہسپتال میں اپنی زندگی کی سب سے مختلف جنگ لڑ رہے ہیں،ان کی صحت کا معاملہ تشویشناک ہے، اور ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کے بقول خدشہ ہے کہ کہیں ہم ان کو کھو نہ دیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں جو تفصیل بیان کی گئی ہے،اس نے ان کے مداحوں کے ساتھ ساتھ ان کے سنجیدہ مخالفین کو بھی مضطرب کر دیا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے آٹھ ہفتوں کے لیے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔مزید آزادی کے حصول کے لیے پنجاب انتظامیہ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اگر ایسی کوئی درخواست دائر کی جائے گی تو جب تک اس فیصلہ نہیں ہو گا، نواز شریف کی ضمانت جاری رہے گی، گویا آٹھ ہفتوں کی مدت میں اضافہ ہو جائے گا۔

کسی بھی سیاست دان کو انتظامیہ سے انصاف کی توقع کم ہی ہوتی ہے۔اس لیے وہ عدلیہ سے رجوع کرنے کو ترجیح دیتا ہے، عدالت عالیہ اسلام آباد کے فیصلے پر عمل کس طرح ممکن ہوتا ہے یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ ہماری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ سابق وزیراعظم کو جلد از جلد صحت یاب کرے۔جس عدالتی فیصلے کے تحت وہ اِس وقت قید کاٹ رہے ہیں،اس کے جج کی قلعی تو وہ ویڈیوز کھول چکی ہیں،جو منظر عام پر آ کر پاکستان کے عدالتی نظام کی جگ ہنسائی کا باعث بنی ہیں،اور خود سپریم کورٹ کے فاضل چیف جسٹس نے بھی ان پر شرمندگی کا اظہار کھلی عدالت میں کیا تھا۔ایک بدکردار جج جو اپنی غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکات کا اعتراف بھی کر چکا ہو، اور اب ملازمت سے معطلی کی سزا بھگت رہا ہو، اس کے دیئے گئے فیصلے کی کوئی وقعت یا اعتبار عوام کی نگاہ میں تو باقی نہیں رہا،قانون کی عدالت، عوام کی عدالت کے فیصلے پر کب مہر توثیق لگاتی ہے،یا اسے مسترد کر دیتی ہے،یہ آئندہ کچھ دِنوں میں واضح ہو سکے گا۔اس مقدمے کی باقاعدہ تاریخ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے سماعت کے لئے مقرر ہو چکی ہے،امید کی جانی چاہئے کہ انصاف کے تقاضے جلد پورے ہوں گے۔پنجاب حکومت نے اب تک تو علاج کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کی ہیں۔ ڈاکٹروں کا جو بورڈ جناب نواز شریف کا علاج کر رہا ہے،اس کی مہارت اور صلاحیت میں کوئی کلام نہیں، وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے خود اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے پیش ہو کر یقین دہانی بھی کرائی ہے۔وہ ایک قبائلی سردار ہیں۔ان کا تعلق پنجاب کے بلوچ قبائلی علاقے سے ہے،توقع کی جانی چاہئے کہ وہ نواز شریف صاحب کے طبی امور کا غیر جانبداری سے جائزہ لیتے رہیں گے، اور اسے کسی قسم کی گروہی سیاست سے آلودہ نہیں ہونے دیں گے۔

نواز شریف کی ضمانت کی منظوری کے ساتھ ساتھ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیمرا کی طرف سے الیکٹرانک میڈیا کے لئے جاری کردہ اس ہدایت نامے پر بھی شدید برہمی کا اظہار کیا،جس میں اینکرز کو (اپنے پروگرام کے سوا) کسی دوسرے پروگرام میں تجزیہ کار کے طور پر شریک ہونے سے منع کیا گیا تھا۔اس کے ساتھ ہی ٹاک شوز کے لیے مدعوکیے جانے والے شرکا کے ”خدوخال“ کے بارے میں بھی ہدایات دی گئی تھیں۔پیمرا نے یہ عذر تراشا تھا کہ اس نے ہدایت نامہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں مرتب کیا ہے۔عدالت عالیہ کے فاضل چیف جسٹس نے اس پر خوب گو شمالی کی، اور یوں پیمرا کا محیرالعقول خواہش نامہ ہوا میں اڑ گیا۔کسی بھی شخص کے خلاف…… خواہ وہ ایڈیٹر ہو، یا اینکر یا رپورٹر،یا شریک ِ گفتگو ہونے والا سیاست کار،اس کے اظہارِ خیال کی بنیاد پر کارروائی ہو سکتی ہے،اگر وہ قانون اور اخلاق کی حدود سے متجاویز ہو۔ کسی خدشے کے پیش نظر پیشگی سزا دینا ایسی حرکت ہے،جس کی نظیر نہیں ڈھونڈی جا سکتی۔ عدالت نے سابق سینیٹر اور سابق صوبائی وزیر حافظ حمد اللہ کی شہریت کی منسوخی سے متعلق بھی وزارتِ داخلہ کے اقدام پر خط ِ تنسیخ کھینچ دیا۔لطف کی بات یہ ہے کہ نادرا کے نادر حکم کی اطلاع عام بھی پیمرا کی اس ہدایت کی بدولت ملی، جس کے تحت حافظ حمد اللہ کو ٹیلی ویژن ٹاک شوز میں مدعو کرنے پر اِس لئے پابندی لگا دی گئی تھی کہ وہ پاکستانی شہری نہیں رہے۔ یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ پیمرا کا کوئی ضابطہ یا قاعدہ کسی غیر ملکی کو ٹیلی ویژن کے کسی پروگرام میں شرکت سے منع نہیں کرتا(اور نہ ہی کر سکتا ہے)۔عدالت عالیہ کے احکامات سے دستور اور قانون کی حکمرانی کا تاثر گہرا ہوا ہے، اور بڑھتے ہوئے اضطراب کو قرار سا آ گیا ہے۔ سڑکوں پر احتجاج کرنے کا جواز اسی وقت ڈھونڈا جا تا ہے، جب نظام کے اندر سننے والے کان اور انصاف فراہم کرنے والے قلم موجود نہ رہیں۔مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے راستے میں رکاوٹیں بھی خیبرپختونخوا حکومت کھڑی نہیں کر سکی کہ اس حوالے سے بھی پشاور ہائی کورٹ نے قانونی صورتِ حال اچھی طرح واضح کر دی ہے۔قانون کے دائرے میں احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے جسے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے حوالے سے یہ بات بہرحال قابل ِ مسرت اور اطمینان ہے کہ کسی مقام پر انتظامیہ نے اس کے خلاف اپنے روایتی ہتھکنڈے استعمال نہیں کیے۔ ایسا ہوتا تو ملک بھر میں امن و امان کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔یہ مارچ جب اسلام آباد پہنچے گا تو اس کے رہنماؤں اور انتظامیہ کا امتحان تب شروع ہو گا،دونوں خود کو کس طرح قانون کے دائرے میں رکھتے اور ”ضبط نفس“ کا مظاہرہ کرتے ہیں، آئندہ کے معاملات اسی پر منحصر ہوں گے۔یہ توقع ظاہر کی جا سکتی ہے کہ ہوش پر جوش غالب نہیں آئے گا،اور کوئی ایسی صورتِ حال پیدا نہیں ہو گی،جسے برداشت کرنا ممکن نہ رہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -