ایف بی آر، ٹیکس اصلاحات، کسٹم اتھارٹی اورمدینہ ریاست (1)

ایف بی آر، ٹیکس اصلاحات، کسٹم اتھارٹی اورمدینہ ریاست (1)
ایف بی آر، ٹیکس اصلاحات، کسٹم اتھارٹی اورمدینہ ریاست (1)

  

سپریم کورٹ کے مسٹر جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ ایف بی آر ملک پر بوجھ ہے، اسے ختم کر دیں۔ 20 فیصد ٹیکس کے لئے 22 ہزار لوگ رکھے گئے ہیں۔ 80 فیصد ٹیکس اِن ڈائریکٹ جمع ہوتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جسٹس گلزار احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے ایف بی آر کی اپنے ملازم انور گورایہ کی سروس کے حوالے سے اپیل کی سماعت کی۔ جسٹس گلزار احمد نے ایف بی آر پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ کھربوں روپیہ ہر سال چلا جاتا ہے، ایف بی آر ملک پر بوجھ ہے، اس کو ختم کر دیں اور دیکھیں کتنا پیسہ جمع ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں دوسری طرف عالمی مالیاتی فنڈز آئی ایم ایف کے ماہرین کی ٹیم نے پاکستان کی جانب سے تجارتی خسارہ کم کرنے پر وزارت تجارت کی کارکردگی کو سراہا، جبکہ ٹیکسوں کا نظام آسان بنانے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے ٹیکسوں کے نظام میں اصلاحات لانے پر بھی زور دیا ہے۔ جمعرات کو وزارت تجارت کے حکام اور آئی ایم ایف وفد کی ملاقات ہوئی۔

ملاقات میں مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے آئی ایم ایف کے ماہرین کی ٹیم کو بریفنگ دی۔ وزارت کے حکام کے مطابق مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے،جبکہ مذاکرات میں ٹیکسوں سے متعلق امور پر بھی تبادلہء خیال کیا گیا۔ ملاقات میں مشیر تجارت نے برآمدات بڑھانے اور نئی ٹیرف پالیسی کے حوالے سے آئی ایم ایف وفد کو آگاہ کیا، جبکہ آئی ایم ایف کے ماہرین کی ٹیم کی جانب سے پاکستان کے تجارتی خسارے میں کمی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ مذاکرات میں آئی ایم ایف پروگرام میں رہتے ہوئے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا، جبکہ ٹیم کو مینوفیکچرنگ کے شعبے کو درپیش چیلنجوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ تجارت کے حوالے سے، خسارے میں کمی ہوئی ہے۔ دوسری طرف عمران خان نے کہا ہے کہ 14 ماہ میں سب سے بڑا مسئلہ جو درپیش ہے وہ یہ ہے کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔ ہم ٹیکس نہیں دیں گے تو ملک کیسے چلے گا؟ وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا میں وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جن میں میرٹ کا نظام ہو۔ مدینہ کی ریاست میں بھی میرٹ کا نظام قائم تھا، اسی لئے مسلمان ہزار برس تک دنیا میں سپر پاور رہے۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ سے کسی نے پوچھا کہ مسلمان پستی کا شکار کیوں ہوئے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ مسلمان جمہوریت کا نظام چھوڑ کر، بادشاہت کی جانب چلے گئے اور سب جانتے ہیں کہ بادشاہت میں میرٹ کا نظام نہیں ہوتا، جبکہ دوسری جانب مغرب نے جمہوریت کے باعث ترقی کی۔ انہوں نے کہا جو انسانوں کے لئے کچھ کر کے جاتا ہے، دنیا اسے یاد رکھتی ہے۔ یہ باتیں میری زندگی کا نچوڑ ہیں۔ وہ انسان اوپر جاتا ہے، جس کی سوچ بڑی ہوتی ہے، جس کا خواب بڑا ہوتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ بانیء پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے سفارش اور کرپشن سے بچنے کی تلقین کی۔ ہمارا ملک اسی وقت ترقی کرے گا، جب یہ دونوں چیزیں نہیں ہوں گی۔ یہ امر باعث تشویش ہے کہ جسٹس گلزار احمد نے ایف بی آر کی برائے نام کارکردگی پر اپنے ریمارکس کے ذریعے عدم اطمینان کا اظہار کیا، بلکہ اس کو ختم کرنے تک کا کہا کہ 20 فیصد ٹیکس کے لئے 22 ہزار لوگ رکھے ہوئے ہیں،جبکہ 80 فیصد ٹیکس تو ان ڈائریکٹ جمع ہوتا ہے۔

یہ ریمارکس حقیقت پر مبنی ہیں۔ جہاں ملکی معیشت کی حالت یہ ہو کہ ”گرے لسٹ“ سے نکلنے کے لئے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کو پورا کرنا۔ ایک مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اگر ان شرائط پر پورے نہ اتر سکے (خدانخواستہ) تو پھر ”گرے لسٹ“ سے ”بلیک لسٹ“ میں جانے کی تلوار سروں پر لٹکتی رہے گی۔ اب تو 2020ء تک اس کا التوا ہوا ہے۔ یہ امر انتہائی قابل غور ہے کہ ایک طرف تو ہم پاکستان کو ”ریاست مدینہ“ بنانے کا دعویٰ کر رہے ہیں، دوسری طرف آئی ایم ایف کے چنگل سے نکلنے کی ساری کی ساری کوششیں بار آور ہوتی ہوئی نظر نہیں آ رہیں۔ سود جیسی لعنت سے مدینہ ریاست تو پاک تھی…… اسی طرح پاکستان کی مدینہ ریاست کو سود کی لعنت سے پاک کرنے کے لئے وہی اقدامات اٹھانا پڑیں گے، جو نبی اکرم صلی اللہ وسلم نے اٹھائے تھے۔ آپؐ نے تو ایک پاک معیشت کا تصور دیا۔ اس کے لئے پاک مال ان کے پاس جمع ہوتا تھا،پھر اس سے ہی حکومت کا کاروبار بھی چلتا تھا اور غرباء مساکین، بیوگان، حتیٰ کہ بچوں کی نگہداشت کا بھی بندوبست کیا جاتا تھا۔

آپؐ کے اقدامات کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں پاک مال جمع کرنے کے لئے بیت المال کو فعال بنانا ہوگا، جس میں زکوٰۃ ڈھائی فیصد، عشر جنس کا 10 فیصد اور 20 فیصد، ٹیکس بھی لگایا جا سکتا ہے،جسے بیت المال میں ڈالنا ہوگا۔ اسی طرح صدقات کو بھی بیت المال میں ڈالنا ہوگا، اس کے علاوہ ٹیکس بھی لگایا جا سکتا ہے، صدقات کی کوئی حد نہیں ہے۔ قرآن حکیم کی اس آیت ”قل العفو“ نے تو مسئلہ ہی حل کر دیا کہ زائد از ضرورت مال کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو۔ بیت المال کے مصارف میں صحت، تعلیم، غرباء، مساکین، بوڑھے شامل ہیں۔ یہاں تک کہ بے روز گار لوگوں کو قرض حسنہ کے ذریعے سے معاشی طور پر اوپر اٹھانا ہے اور انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔

یاد رہے! رشوت ستانی اور منی لانڈرنگ کو ختم کرنا ہوگا۔ آپؐ کا ارشاد ہے: ”الراشی و المرشتی کلھما فی النار“ ……گویا ”رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا، دونوں جہنمی ہیں“ ……آپؐ کے اس فرمان کا دلوں میں استحضار پیدا کرنا ہوگا۔ یہ ہوگا کیسے؟ حدیث جبریل میں ”احسان“ کا ذکر ہے،جس کا مفہوم یہ ہے کہ ہماری کم از کم ایمان کی یہ کیفیت ہو کہ ”اللہ تعالیٰ ہمیں ہر وقت دیکھ رہا ہے“ کیونکہ ہم خود اللہ تعالیٰ کو تو نہیں دیکھ سکتے۔(جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -