بھارت کے درندہ صفت فوجی اورمظلوم کشمیری!

بھارت کے درندہ صفت فوجی اورمظلوم کشمیری!
بھارت کے درندہ صفت فوجی اورمظلوم کشمیری!

  

وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ بھارت اوراسرائیل کے حکمران اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوچکے ہیں اور ووٹ لینے کے لئے دونوں ملکوں کی قیادت اپنے عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرعمران خان فرماتے ہیں ان ملکوں کے حکمران الیکشن جیتنے کے لئے کسی حد تک بھی جاسکتے ہیں۔ یہ دنیا کے وہ دو ملک ہیں جو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو بھی خاطر میں نہیں لاتے۔ طاقت کے زور پر اسرائیل مغربی کنارے اوربھارت مقبوضہ کشمیرپرقابض ہے۔ اسرائیل اوربھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں،عالمی اورخود اپنے آئین کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ اسرائیلی اور بھارتی میڈیا اپنی حکومتوں کے اس قدر قریب ہے کہ وہ عوام کو وہی تصویر دکھاتا ہے جس کی تعبیر حکمرانوں کے ذہنوں میں ہوتی ہے۔ان ملکوں کے عوام اپنے لیڈروں سے یہ نہیں پوچھتے کہ وہ الیکشن جیتنے کے لئے کیا کر رہے ہیں؟ووٹ لینے کے لئے دونوں ملکوں کی قیادت اپنے عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔

خیر یہ تو دنیا کے ہر ملک میں ہی چل رہا ہے۔وزیر اعظم عمران خان بائیس سال تک حکومت بنانے کے لئے کن کن مراحل سے گزرے، یہ سوائے ان کے کون جان سکتا ہے۔ جب آپ کنٹینر کی زینت تھے تو فرمایا کرتے تھے کہ ان کے پاس دنیا کے بہترین دماغ والے افرادکی دو سو کے قریب ٹیم موجود ہے۔صرف ان کے درست ہونے سے ساری ٹیم بہترین کام دکھانے لگے گی،لیکن تقریبا ڈیڑھ سال کی کارکردگی سے یہ صاف نظر آرہا ہے کہ عمران خان ووٹ لینے کے لئے کیسے کیسے سبز باغ دکھایا کرتے تھے اور آج ان کا کوئی ووٹر ان سے یہ بھی نہیں پوچھ رہا کہ وہ اپنے ہر وعدے سے کیوں پھر چکے ہیں۔

دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ حکومت حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لئے ایسے ایسے خوفناک حربے استعمال ہوتے رہے ہیں جن کے بارے بارے میں سن کر ہی روح کانپ اٹھتی ہے۔کشمیر میں کرفیو کو تین ماہ ہونے کو ہیں۔ہماری حکومت نے صرف ایک تقریر سے کشمیریوں کی مدد کا حق ادا کر کے اپنا نام تاریخ کے صفحات میں لکھوالیا ہے۔

اب بھارتی درندہ صفت فوج جانے اور بے سہارا مجبور کشمیری جانیں، ہم اپنے محلات میں سکون سے رہ رہے ہیں، جنگ ہم لڑ نہیں سکتے ہیں،کیونکہ ہمیں دنیا کو اپنا ”گڈ جیسچر“ دینا ہے۔معاف کیجئے گا،اگر یہ کہا جائے کہ تاریخ کے اس نازک موڑ پر ہماری قیادت نے بھارت سرکار کو کشمیریوں کی نسل کشی کی اجازت دے دی ہے تو کچھ غلط نہیں ہوگا۔جو ہمت والے ہوتے ہیں، وہ تقریر کے بعد تحریک بھی شروع کرتے ہیں۔ترکوں نے دنیا کی پرواہ نہ کرتے ہوئے شام میں فوجیں داخل کر کے دنیا کو بتادیا ہے کہ وہ ایک طاقت ور قوم ہیں اور ان کے اعصاب بہت مضبوط ہیں،جبکہ ہم بھارت کے ساتھ سرحدی جھڑپوں میں اپنے شہریوں کی ہلاکت اور جوانوں کی شہادت کے بعد بھارت کے فوجیوں کی موت کا اعلان کر رہے ہیں۔اب پھر سے بھارت کی دو ریاستوں میں انتخابات کا وقت قریب آرہا ہے،اسی لئے بھارت سرکار پاکستانی بارڈر پر ماحول کو گرما رہی ہے۔لگتا ہے بھارتی فوج اور حکومت کو صاف بتا دیا گیا ہے کہ پاکستانی حکومت اور فوج اسے ایک حد سے آگے بڑھ کر جواب نہیں دے گی۔ آج کل بھارت کے نیوز چینلز بارڈر پر خراب ماحول اور پاکستان کو سبق سکھانے کی باتیں کر کے بھارتی متشدد سوچ کی حکومت کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔ان کا ووٹ بینک بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں۔دوسری طرف ہمارے حکمران، ہماری سیاسی قیادتیں اندرونی جنگ میں تیزی لا کر کشمیریوں کے مسائل کو جانے انجانے میں پش پشت ڈالنے کا جرم کر رہی ہیں۔

یوں تو مقبوضہ کشمیر کے عوام عرصہ دراز سے انسانی حقوق کی بد ترین پامالیاں سہہ رہے ہیں، مگر خصوصاً 1989ء سے مقبوضہ وادی میں کیسے کیسے انسانی المیے جنم لیتے آئے ہیں۔ ان سے سب بخوبی آگاہ ہیں۔اسی پس منظر میں پوری کشمیری قوم 27 اکتوبر کے دن بطور یومِ سیاہ مناتی ہے، کیونکہ اسی روز 1947ء کوتمام اخلاقی بین الاقوامی ضابطوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انڈین آرمی نے ریاست جموں و کشمیر پر ناجائز قبضہ کر لیا اور بھارت کا یہ غاصبانہ تسلط 72 برس گزر جانے کے بعد بھی ہنوز جاری ہے۔جنرل اسمبلی کے اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان نے جو تاریخ ساز تقریر کی، اس میں انہوں نے اس خدشے کااظہار کیا تھا کہ جب بھی وادیء کشمیر سے کرفیو اٹھے گا تو کشمیر میں ایک لاوا پھوٹے گا اور نریندر مودی الزام لگائے گا کہ یہ سب کچھ پاکستان کی طرف سے بھیجے گئے دہشت گردوں کا کیا دھرا ہے۔وزیر اعظم عمران کے یہ الفاظ حرف بحرف سچ ثابت ہورہے ہیں۔

وادیء کشمیر میں بھارت نے کچھ نرمی کی ہے، کسانوں کو سیب اتارنے کی اجازت دی ہے تو دو دنوں میں د و کسانوں کو شہید کر دیا گیا ہے۔اب ان کو مارنے والے کشمیری نوجوان تھے یا خود بھارتی ایجنسیوں نے یہ کام کیا ہے، مگر ساتھ ہی بھارتی ٹی وی چینل چیخ چیخ کرکہہ رہے ہیں کہ یہ پاکستان کی کھلی دہشت گردی ہے، تاکہ دنیا کو کشمیرمیں امن نظر نہ آئے۔کشمیر میں سیب کی فصل بالکل تیار ہے اور وادی میں کرفیو کو آج پچھتر روز ہو گئے ہیں۔ کشمیر کے لوگ اگر آج سیبوں کو اتار کر منڈی نہیں پہنچاتے تو ان کے سیب گل سڑ جائیں گے۔کشمیر میں پید اہونے والا سیب بھارت میں سیب کی کل پیدا وار کا ستر فی صد ہے،اس اعتبار سے ہر کوئی اندازہ لگا سکتا ہے کہ کشمیریوں کی معیشت کا بڑا انحصار سیب کی تجارت پر ہے اور بھارت نے کشمیریوں کو جانی نقصان کے ساتھ ساتھ مالی نقصان پہنچانے کے لئے اسی وقت کاانتخاب کیا ہے۔

اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ کشمیری اپنا سیب منڈیوں تک نہ پہنچا سکیں۔ اب اگر افلاس کامارا کشمیری باغ سے سیب توڑنے جاتا ہے تو بھارتی فوج کرفیو کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر اسے گولیوں کا نشانہ بناتی ہے، مگر الزام پاکستان پر عائد کر رہی ہے کہ وہاں سے آنے والے مجاہدین سیب کے کاشتکاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہی وہ بات ہے جو وزیر اعظم عمران نے ساری دنیا کے نمائندوں کے سامنے کہی تھی۔

سوال یہ ہے کہ کنٹرول لائن پر بھارت پہلے ہی خاردار باڑ لگا چکاہے۔ قدم قدم پر بھارتی فوج کے مورچے ہیں۔ حفاظتی باڑ پر دن رات لائٹس جلتی ہیں اور زمین پر ایسے سنسر لگے ہوئے ہیں کہ کسی چوہے کی نقل و حرکت کو بھی مانیٹر کیا جا سکتا ہے۔اس قدر پابندیوں کے ہوتے ہوئے پاکستان سے کسی شخص کا کنٹرول لائن پار کرنا کسی طور ممکن نہیں، مگر یہ نکتہ بھارت کی سمجھ سے باہر ہے۔ اس نے فیصلہ کررکھا ہے کہ کشمیر میں ہونے والی ہر واردات کی ذمے داری پاکستان پر عائدکرنی ہے۔ اس کی فوج کتنی سورما ہے، اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ راجوڑی شاہ کوٹ سیکٹر میں بھارتی شرانگیزی سے تین شہری شہید ہو گئے، پاک فوج نے اس کا فوری جواب دیا جس سے دشمن کے دس فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تو بھارتی فوجی اپنی سرحد میں جہنم واصل اور زخمی ہونے والوں کو اٹھانے کی ہمت نہ کرسکے اور پاکستان سے سفید جھنڈا لہرا کر ان کو اٹھانے کی اپیل کی گئی۔

عملی طور پر بھارتی فوج بزدل ہے، جبکہ عوام کو دکھانے کے لئے بیس پاکستانی فوجیوں کو شہید کرنے کے دعوے کئے جاتے رہے ہیں،لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت تقریر کے ساتھ ساتھ تدبیر بھی کر رہاہے،ابھی چند روز پہلے ایک انتخابی جلسے سے مودی کہہ رہا تھا کہ جوپانی کشمیر سے آتا ہے،ا س پانی پر راجستھان کا حق ہے۔ بھارت نے اس آبی دہشت گردی کے لئے کشمیر سے نکلنے والے دونوں دریاؤں جہلم اور چناب کا رخ بھارتی پنجاب کی طرف موڑنے کا منصوبہ بنایا ہے، حالانکہ سندھ طاس معاہدے کی رو سے ا سے صرف راوی ا ور ستلج کا پانی دیا گیا تھا،جبکہ جہلم اور چناب کا پانی پاکستان کوملا تھا،مگر بھارت تو پاکستان کو پہلے دن سے آبی دہشت گردی کا نشانہ بنا رہا تھا۔ہر چند ورلڈ بینک نے ثالثی میں جہلم اور چناب پاکستان کو دیئے تھے،مگر بھارت نے ان دریاؤں کا پانی آہستہ آ ہستہ ہتھیا لیا ہے اور پاکستان کے زرخیز علاقے بنجر بنتے جا رہے ہیں۔

کشمیر پر بھارت نے جو حالیہ اقدامات کئے ہیں، ان کی وجہ یہی ہے کہ وہ جہلم اور چناب پر کلی تصرف چاہتا ہے اور رہامسلم آبادی کا مسئلہ تو اسرائیل کی طرح وہ کشمیر میں مسلمانوں کو اقلیت میں بدل دے گا، اسی لئے اس نے پینتیس اے کا خاتمہ کیا ہے، تاکہ کشمیر میں جس کا جی چاہے جائیدادخریدے اور قبضہ جما کر بیٹھ جائے۔ وزیر اعظم عمران خان اپنا فرض ادا کر چکے۔ انہوں نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا اور جنرل اسمبلی میں اقوام عالم کے نمائندوں کے سامنے بھارت کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کیا۔مگر پاکستانی قیادت کو بھارت سے نمٹنے کے لئے عالمی برادری سے ہٹ کر کوئی اور تدبیر بھی سوچنی ہوگی۔پاکستان کو اپنے دوست ملکوں ترکی اور چین سے سبق لیتے ہوئے دشمن کو کھل کے للکارنا پڑے گا۔پھر ہی مسائل کم ہوں گے پھر ہی عالمی ضمیر جاگے گا۔

مزید :

رائے -کالم -