پروانہء شمع رسالت(غازی علم الدین شہیدؒ)

پروانہء شمع رسالت(غازی علم الدین شہیدؒ)
پروانہء شمع رسالت(غازی علم الدین شہیدؒ)

  



”شہبازِ طالع مند جو طالع آزمائی کے لئے سریانوالہ بازار (محلہ سرفروشاں) کی منڈیر سے پُر فشاں ہو کر اٹھا، اڑا، جھپٹا، مردود رسالتؐ پناہ کا شکار کرتا ہوا لوٹا، دربارِ دُر یتیمؐ کی چوکھٹ چومی اور شاخِ طوبیٰ پر جا بیٹھا۔ یہی غازی علم الدین شہیدؒ ہے“……غازی علم الدین شہیدؒ کوئی شاعر، مفکر، ادیب، خطیب، صوفی، عالم، محقق، فلسفی، موجد، سپہ سالار، سرمایہ دار یا حکمران نہیں تھے، لیکن جوانی کی دہلیز پر بس اپنا پہلا قدم رکھا ہی تھا کہ یکایک ملتِ اسلامیہ کی آنکھوں کا تارا ہو گئے۔ اس قدر عزیز و مقبول کہ سبحان اللہ۔ سوال یہ ہے کہ آخر انہوں نے کیا کیا؟ نقدِ عمل؟ برسوں کا کوئی ریاض، نہ دماغ سوزی! کسی عہدے یا منصب پر فائز ہوئے، نہ کسی مادی شعبے میں کوئی کارنامہ سرانجام دیا۔ کالج میں پڑھے، نہ یونیورسٹی کا دروازہ کھٹکھٹایا؟ نہیں بالکل بھی نہیں! وہ مدرسہ ء عشق کے ایک خاص طالب علم تھے اور مکتب عشق کے دستور نرالے ہیں۔

ان کے کاسہ ء دل میں عشقِ رسول مقبولؐ کی سوغات تھی۔ ایک متاعِ بے بہا! غیرت و وفا کا شعلہ ء مستعجل!! قافلہ ء اہلِ محبت کے ماتھے کا جھومر! ایسے۔ جیسے عہدِ رسالتؐ کے نوجوان ہوں۔ وہ معاذؓ اور معوذؓ کے نقشِ قدم پر چلے اور خوب چلے! لگتا ہے کہ انہوں نے صبحِ ازل ہی عاشقانِ مصطفیؐ میں اپنا نام لکھوا لیا تھا۔ رسولِ عربیؐ کا ایک ہندوستانی پروانہ! محبوبؐ خدا سے ان کی غیر مشروط محبت اور لامحدود وفاداری کا اظہار 16اپریل 1929ء کو لاہور میں ہوا اور اسی برس 31اکتوبر کو تختہ دار کو بصد شوق چوم کو جھول گئے۔ سات ماہ سے بھی چھ دن کم کا عرصہ ء زندگی! موت ان تک آتے آتے خود مر گئی ہو گی! نہیں،جبکہ وہ فنا کو بھی بقا دے گئے!ان دنوں ہسپتال روڈ، نیوانار کلی بازار میں ایک متعصب آریہ سماجی مسمی مہاشہ راجپال، فرزندانِ توحید کو مسلسل چرکے لگا رہا تھا۔ وہ عرصے سے حضور آقا و مولاؐ کی شان میں اپنی ناپاک زبان کھو لتا چلا آیا تھا۔ جب انگریز کا قانونی ڈھانچہ اسے گرفت میں نہ لایا اور عدالت نے مایوس کر دیا تو غازی علم الدین شہیدؒ آب و تاب سے آگے بڑھے اور گستاخِ رسول کو کیفر کردار تک پہنچا دیا۔

تحفظِ ناموسِ رسالت ایک منفرد قانون ہے، جسے شیر دل نوجوانانِ قوم نے اپنے مقدس لہو سے لکھا۔ اس سے دو سال پہلے دہلی میں غازی عبدالرشید شہیدؒ نے ایسا ہی غیرتمندانہ قدم اٹھایا تھا۔ برصغر پاک و ہند میں گستاخی کا ناپاک سلسلہ شروع ہو اتو عشقِ رسالتؐ کے نشے سے سرشار پاکباز نوجوانوں کی بھی بہار آ گئی۔ اس عظیم سلسلے کی ہر کڑی معتبر ٹھہری۔ لاہور اور کراچی سے قطع نظر غازی محمد صدیق شہیدؒ (فیروزپور)، غازی محمدعبداللہ شہیدؒ (پٹی/ قصور)،غازی امیر احمد شہیدؒ اور ان کے ایک ساتھی (کلکتہ)، غازی مرید حسین شہیدؒ (حصار)، غازی میاں محمد شہیدؒ(مدراس) اور غازی اللہ دتہ شہیدؒ (کنجاہ / گجرات) وغیرہ! ان خوش قسمت نوجوانوں کی ایمان پرور داستان بھی ایک مست، الست لکھاری رائے ارشاد کمال نے قلمبند کی اور گویا قلم توڑ دیا۔ لفظ لفظ خونِ دل میں ڈوبا ہوا۔ ہمارے مصنف نے شہیدانِ ناموسِ رسالت کا اس شان اور آن بان سے تذکرہ کیا ہے کہ قلب جان میں عشق و محبت کے انمول گلاب لہلہا اٹھتے ہیں!

مزید : رائے /کالم