حکومت اور ا پوزیشن دانشمندی کا مظاہرہ کریں

حکومت اور ا پوزیشن دانشمندی کا مظاہرہ کریں
حکومت اور ا پوزیشن دانشمندی کا مظاہرہ کریں

  

اگلے روز حکومت اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے خوشگوار ماحول میں مذاکرات ہوئے،جن میں طے پایا کہ حکومت احتجاج کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گی، کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر سامان نہیں روکا جائے گا، سڑکیں کھلی رہیں گی، جے یوآئی آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرائے گی۔ اپوزیشن کے اکرم درانی نے یقین دہانی کرائی کہ دھرنا ایچ نائن اتوار بازار سے ملحقہ گراؤنڈ میں ہوگا جو پُر امن ہوگا۔ دھرنے کے شرکاء مختص کی گئی جگہ پر رہیں گے اور وہ ریڈ زون یا ڈی چوک نہیں جائیں گے، یہ معاہدہ تحریری ہوا ہے۔ یہ سب کچھ بجا، مگر اس معاہدے کا ضامن کون ہے جو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان معاہدے کی خلاف ورزی پر اس کے سد ِ باب کے لئے ضروری اقدام کرے گا؟ پہلی بات تو یہ کہ جمہوری معاشروں میں کسی بھی سیاسی جماعت کو احتجاج کی مکمل آزادی ہوتی ہے اور وہ جہاں چاہے اپنا یہ حق استعمال کر سکتی ہے۔

ماضی قریب کی حکومت کے دور میں تو تحریک انصاف کو کھلی چھٹی تھی اور اس نے ملکی تاریخ کا طویل ترین دھرنا دیا اور یہ دھرنا اسلام آباد کی انہی جگہوں پر دیا گیا، جنہیں اب اپوزیشن کے لئے جائے ممنوعہ قرار دی گئی ہیں،جو جمہوری اصولوں کے مطابق نہیں۔ اپوزیشن سے مذاکرات کی پیش کش میں پہل حکومت نے کی اور اپوزیشن نے اسے قبول کیا، جو ایک اچھا اقدام ہے۔ آخر حکومت کو مذاکرات کی پیش کش کی ضرورت کیوں پڑی؟ ہم یہ تو نہیں کہتے کہ حکومت کو اس دھرنے پر کچھ تحفظات تھے یا مجبوریاں یا خدشات ؟یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔

بہتر تو یہ ہوتا کہ حکومت عوام کو اعتماد میں لے کر واضح طور پر دھرنے سے ہونے والے نقصانات یا خدشات بیان کرتی تاکہ عوام میں اس حوالے سے جو اضطراب پایا جاتا ہے، وہ ختم ہوتا، مگر ایسا نہیں کیا گیا، اب جبکہ آزادی مارچ کا کراچی سے آغاز ہوچکا ہے تو عوامی اضطراب میں اضافہ ایک قدرتی امر ہے۔وہ فکر مند ہیں کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے؟ دریں اثناء جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہمارا معاہدہ حکومت سے نہیں، اسلا م آباد انتظامیہ سے ہواہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ افواہوں پر یقین نہ کیا جائے۔ ہمارا معاہدہ توڑنے کا کوئی ارادہ نہیں اور یہ برقرار رہے گا۔

مولانا موصوف کے اس بیان کے بعد معاہدہ حکومت سے ہوا ہی نہیں تو اس سے ایک ابہام پیدا ہوگیا ہے اور اس کو دور کرنے کے لئے حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کو یا پھر حکومت کے کسی ذمہ دار کو اس کی وضاحت کرنی چاہئے۔اگر مولانا کی بات پر صاد کیا جائے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا موضوع کیا تھا؟……آزادی مارچ میں شریک نو جماعتوں کی رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی اورخود مولانا فضل الرحمن تسلسل کے ساتھ اس امر کا اظہار کرتے آئے ہیں کہ ان کا کلیدی مطالبہ وزیراعظم کا استعفیٰ اور نئے انتخابات ہیں، جو بظاہر منظور ہوتا ہوا نظرنہیں آتا کہ یہ دونوں مطالبات حکومت کے لئے قابل ِ قبول نہیں۔ اس حوالے سے حکومتی وزراء کے بیانات سامنے ہیں کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔ دھرنے والوں کے مطالبات اور حکومت کے ذمہ داروں کے بیانات ایک دوسرے کی ضد اور انتہا ہیں۔

ان کو دیکھا جائے تو دونوں میں ٹکراؤ کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جو کسی بھی طور پر ملک کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ادھر حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ پرویز خٹک کا بیان ہے کہ مذاکرات کے دوران وزیر اعظم کے استعفے اور نئے عام انتخابات پر سرے سے بات ہی نہیں ہوئی،جبکہ کراچی اور حیدر آباد میں مولانا فضل الرحمن نے بڑی گھن گرج کے ساتھ کہا کہ عمران خان کو استعفا دینا پڑے گا اور اسلام آباد پہنچتے ہی حکمرانوں کو تنکوں کی طرح باہر پھینک دیں گے۔

آزادی مارچ کی ابتداء میں ہی اس طرح کے شدت آمیز بیانات کوئی بھی سنگین صورتِ حال پیدا کرسکتے ہیں،جو حکومت اور اپوزیشن کے ساتھ ساتھ ملک کے لئے بھی بہتر نہیں ہوگی۔وزیراعظم کے استعفے اور نئے انتخابات کا مطالبہ اور دونوں طرف کے اہم لوگوں کے بیانات اور ان میں تضاد سمجھ سے بالا تر ہیں۔ ہم نے ہمیشہ انہی سطور میں یہ کہا ہے کہ جب کبھی حکومت اور اپوزیشن میں مسابقت کی فضا پیدا ہو جائے تو حکومت کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ تدبر سے کام لے اور اپوزیشن کے جائز مطالبات پورے کرنے میں کوئی پس پیش نہ کرے اور جہاں کہیں اختلافی صورتِ حال پیدا ہو تو وہاں اپنی انا کا مسئلہ پیدا کئے بغیر باہم افہمام وتفہیم سے اسے دور کیا جائے۔ یہاں اپوزیشن پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھی فہم وفراست کا دامن نہ چھوڑے اور وسیع تر ملکی و قومی مفاد میں سیاسی فضا کو شدت آلود نہ ہونے دے اور آزادی مارچ کے شرکاء کو سختی سے اس بات کا پابند بنائے کہ وہ گھیراؤ جلاؤ اور توڑ پھوڑ سے اجتناب کریں کہ اس وقت ملک کو کئی بحرانوں کا سامنا ہے، جس میں ملک کی معیشت کو اولیت حاصل ہے۔ دوسری طرف ہمارا ازلی دشمن بھارت ہماری کسی بھی کمزوری یا لغزش سے فائدہ اٹھانے کی طاق میں رہتا ہے۔

ہمیں دانش مندی کا ثبوت دیتے ہوئے ملک دشمنوں کو ایسا موقع فراہم نہیں کرنا چاہئے،جو ہمارے لئے نقصان دہ ہو۔ اپوزیشن کو چاہئے کہ وہ اپنے آزادی مارچ کو پُر امن رکھے اور ملک میں کسی قسم کی ناخوش گوار فضا نہ پیدا ہونے دے، بصورت دیگر ہماری اقتصادیات جو پہلے ہی انتشار کا شکار ہیں، مزید خراب نہ ہوں کہ ابھی تک ہم ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہیں، یہ نہ ہو کہ ہم بلیک لسٹ ہوجائیں، جس سے ملک کا عام آدمی، ملازمین، دیہاڑی دار اور پسماندہ طبقہ بری طرح متاثر ہو گا،جبکہ وہ پہلے ہی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی مہنگائی کا شکار ہے۔ ہم نیک وبد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -