کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے!

کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے!
کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے!

  

بہت کچھ کہا گیا، کہا جا رہا ہے۔ یقین بھی اور شبہات بھی ہیں، جو بھی ہے آج (جمعرات) پتہ چل جائے گا کہ پروگرام اور منصوبے کے مطابق مولانا فضل الرحمن کا ”آزادی مارچ“ اسلام آباد پہنچ جائے گا کہ گزشتہ روز (بدھ) لاہور میں رات قیام کے بعد دوپہر کو روانہ ہو گیا تھا، مولانا فضل الرحان نے رات کو کنٹینر کی بجائے اپنے پرانے وفادار ریاض درانی کے ہاں قیام کیا کہ وہ جب بھی لاہور آئیں یہاں ضرور آتے ہیں کہ ریاض درانی سیکرٹری اطلاعات کے عہدہ سے ریٹائر ہو جانے کے بعد بھی بااعتماد حضرات ہی میں شمار ہوتے ہیں، وحدت روڈ کی مسجد اور مدرسے سے ملحق یہ رہائش گاہ اس لحاظ سے تاریخی ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے اپنی امارت کے لئے تمام تر جدوجہد اسی مقام سے کی اور ہم جب رپورٹنگ کرتے تو یہیں ملاقاتیں ہوا کرتی تھیں، گھر سے دفتر کے لئے روانہ ہونے سے قبل ہم نے کوشش کی کہ فون پر رابطہ ہو تو راستے میں رکتے ہوئے چلے جائیں لیکن ایسا نہ ہو سکا تو ہم دور سے سلام کرتے ہوئے گزر آئے۔

بہرحال مولانا کا لاہور تک کا سفر بڑا کامیاب تھا اور دلچسپ حکائت یہ ہے کہ جماعت اسلامی اس آزادی مارچ یا متحدہ اپوزیشن کا حصہ نہیں ہے لیکن ٹھوکر نیاز بیگ اور اس کے اردگرد جو استقبالیہ کیمپ لگے ان میں ایک جماعت کی طرف سے بھی تھا اب یہ تو معلوم نہیں یہ مقامی سطح پر فیصلہ ہوا یا اس کے لئے قیادت سے اجازت لی گئی بہرحال ایم ایم اے کا تعلق تو ہے، جسے بحال کرنے کی کوشش کی گئی لیکن بوجوہ ممکن نہ ہو سکا کہ جماعت اسلامی بھی اکیلی پرواز کر رہی ہے اور کسی اتحاد میں شامل نہیں۔ مرکزی امیر سراج الحق ان دنوں سخت گیر موقف رکھے ہوئے ہیں لیکن وہ یہ جدوجہد اپنی جماعت ہی کے پلیٹ فارم سے کر رہے ہیں، ان دنوں وہ جذبہ جہاد سے سرشار مظلوم کشمیریوں کے لئے آواز بلند کرتے چلے جا رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن اب سیاست میں وسیع تجربے کے حامل اور اقتدار کے ایوانوں اور ”پلرز“ سے بخوبی آگاہ ہیں، وہ ایک نوجوان کی حیثیت سے تحریکوں کو دیکھتے چلے آ رہے ہیں اور بہت سے در و بام سے بھی واقف ہیں، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ بعض رازوں کے بھی امین ہیں تو کچھ غلط نہیں، ان کی طرف سے جب لانگ مارچ یا دھرنے کا ذکر کیا اور متحدہ اپوزیشن کا ڈول ڈالا گیا تو روائت کے مطابق ہر روز ان کو ناکام قرار دیا گیا، ہم نے تب بھی عرض کیا تھا کہ متحدہ اپوزیشن کا قیام وجود میں آئے گا اگرچہ یہ جماعتیں مختلف الخیال ہیں، بہرحال یہ بھی ہوا اور جب ”آزادی مارچ“ کے حوالے سے شکوک پیدا کئے جا رہے تھے تب بھی ہمیں یقین تھا کہ مولانا نے ارادہ کر لیاہے تو وہ یہ کر گزریں گے حتیٰ کہ اگر ان کو اکیلے پرواز کرنا پڑا تو بھی کر گزریں گے تاہم بھلا ہو برسراقتدار حضرات اور وزیراعظم سمیت ان کے مشیروں کا کہ ایسا ماحول پیدا کیا اور مولانا اور مارچ کا ساتھ دینے والوں کو ملک دشمن ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کے باعث یہ اتحاد بھی بنوا دیا اور مختلف اداروں کی ”مہربانیوں“ سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کو بھی تعاون پر مجبور کر دیا، یہی نہیں نوبت یہاں تک پہنچی کہ ہر دو جماعتوں کے کارکن کراچی سے اسلام آباد تک پورے راستے جلوس کی رونق بھی بڑھاتے رہے اور اپنی اپنی جماعت کے جھنڈے لہرا کر حاضری بھی لگواتے چلے گئے۔

بہرحال اتنا تو ہے کہ کراچی سے لاہور تک ہر جگہ ان جماعتوں کے قائدین بھی شرکت اور تقریر کرتے رہے، حتیٰ کہ کراچی میں تو میاں رضا ربانی انقلابی خطاب کر ہی گئے اب دیکھنا ہو گا کہ کیا اسلام آباد میں بلاول بھٹو اور محمد شہباز شریف اجتماع سے خطاب کرتے ہیں یا ان کی نمائندگی ہو گی یہ اطلاع تو ہے کہ یقین دہانی کے باوجود محمد شہبازشریف بڑے بھائی کی علالت کے باعث نہ جا سکیں گے اور سیکرٹری جنرل احسن اقبال کو یہ فریضہ نبھانا ہو گا۔بلاول بھٹو پارٹی کے یوم تاسیس کے حوالے سے مظفرآباد ہوں گے۔ پی پی کی نمائندگی لازماً ہوگی۔

جمعیت علماء اسلام (ف) ایک بڑا شو کرنے میں کامیاب رہی اور مولانا نے اپنے ساتھ اپنی جماعت کا وجود بھی تسلیم کرا لیا جو ان کو آئندہ سیاست میں بہت کام دے گا کہ آزادی مارچ نے سب حضرات کے دعوے غلط ثابت کر دیئے اور یہ بھی نہ ہوا کہ راستے ہی میں ”ڈانگ سوٹا“ چل جائے۔ اگر ایسا ہوتا تو بُرا ہوتا کیونکہ مولانا نے بہرحال ملک کے تمام شہروں میں احتجاج، دھرنے اور سڑکیں بند کرنے والی حکمت عملی بھی طے کر رکھی تھی، تاہم حکومت نے زیادہ بہتر حکمت عملی اپنائی۔اس سلسلے میں بہت کچھ کہا گیا تاہم ہم نے گزارش کی تھی کہ معاہدہ ہو ہی جائے گا اور ہو گیا، یہاں تک تو سب قابل اطمینان ہے مگر؟

اب سوال اسلام آباد کا ہے کہ ہر طرف سے قافلوں نے یہیں آنا ہے،

جہاں تک مولانا کے اپنے قافلے کا سوال ہے تو یہ ایک ایسا اجتماع اور کارروان ثابت ہوا جس کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا گیا، تاہم ہر شہر پر استقبال نے ”بعض حلقوں“ کو یقینا سوچنے پر مجبور کر دیا ہو گا کہ کرنا کیا ہے اور وہ حضرات تو بہت مطمئن ہوں گے جو مولانا کی کامیابی کے لئے دعاگو تھے اور اب بھی ہیں، آزادی مارچ کو ملک بھر میں غیر متوقع طور پر پذیرائی ملی اور ہر دو بڑی جماعتوں کا یہ انداز فکر اور تجویز بھی ”معقول“ نہ رہی کہ نومبر سے شروع ہو، مولانا نے اپنا اعلان ثابت کر دیا، جہاں تک نومبر کا معاملہ ہے تو کچھ ٹھیک سے تو نہیں کہا جاتا تاہم یہ حضرات کسی خاص تاریخ اور واقعہ کے منتظر نظر آئے بلکہ پیپلزپارٹی کو تو یہ بھی یقین ہے کہ اس کی اپنی تحریک کے نتیجے میں جو اب نومبر ہی سے شروع ہو گی، فروری سے مارچ کی کوئی تاریخ ”ڈی۔ ڈے“ ہو گی جبکہ مولانا تو لاہور سے یہ کہتے ہوئے گزرے ہیں عمران خان، استعفے تیار رکھو، ہم آ رہے ہیں، اب تو اس کے ہر پہلو پر بات ہو چکی، بہت سے حضرات کو یقین ہے کہ کچھ نہیں ہو گا، بعض حلقے اس آزادی مارچ کو بھی ”ٹھس پروگرام“ قرار دینے پر مصر اور یہ کہتے پائے جا رہے ہیں کہ مولانا جلسہ کرکے چلے جائیں گے اور حکومت کو بھی آکسیجن مل جائے گی یہ کوئی بعید از قیاس نہیں۔

لیکن پھر بھی کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ رہنے دیجئے، یہ جو حضرات ہمارے کانوں تک کھسر پھسر کر رہے ہیں، ان میں سے قابل اعتماد تو ایک ہی ہیں اور وہ اب بھی کہتے ہیں، فروری یا مارچ۔

مزید :

رائے -کالم -