بک ریویو: واہگہ کے اُس پار

بک ریویو: واہگہ کے اُس پار
بک ریویو: واہگہ کے اُس پار

  



کتاب: Across The Wagah

(واہگہ کے اس پار)

مصنف: منیشا ٹائیکی کار (Maneesha Tikekar)

پبلشر: رومیلا اینڈ کمپنی۔ نیو دہلی اور نیو جرسی

اشاعت اول: 2004ء

صفحات: 360

نقشہ جات:2

تصاویر:17

قیمت: درج نہیں

مانیشا ٹائکی کار (Maneesha Tikekar) انڈیا کی ایک معروف لکھاری ہے۔ اس کا تعلق مہاراشٹر صوبے سے ہے جس کا صوبائی دارالحکومت ممبئی ہے۔ انڈیا اگرچہ ایک وسیع و عریض ملک ہے لیکن اس کے صرف چار شہر ایسے ہیں جو کئی لحاظ سے جدید کہے جا سکتے ہیں۔ ان میں دہلی سرفہرست ہے کہ وہ فیڈرل دارالحکومت بھی ہے۔

اس کے بعد ممبئی کا نمبر آتا ہے۔ پھر کولکتہ اور آخر میں چنائی ہے جو چند برس پہلے مدراس کہلاتا تھا۔ دہلی کو چھوڑ کر باقی تین شہر ہندوستان کی مشہور و معروف بندرگاہیں بھی ہیں۔ ان چاروں شہروں میں ملک کے ہزاروں لکھاری،صحافی، فلمی ستارے، سیاستدان، میڈیا آئی کون، امراء و رؤساء اور انفرمیشن ٹیکنالوجی کے جیّد ماہرین مقیم ہیں۔ دہلی اگرچہ دارالحکومت ہے لیکن اسلام آباد کی طرح کسی بھی بندرگاہ سے اس کا فاصلہ سینکڑوں کلومیٹر ہے۔ چنانچہ ازراہ مجبوری اس کو اسلام آباد کی طرح سول ایوی ایشن پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کے لئے دہلی اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ وہ انڈوپاک انٹرنیشنل باؤنڈری سے نسبتاً نزدیک تر ہے۔ پاکستانی دانشور اور سیاستدان اگست 1947ء سے لے کر اب تک جتنے چکر دہلی کے لگا چکے ہیں، اتنے کسی اور شہر کے نہیں۔ مانیشا کا تعلق چونکہ ممبئی سے ہے اس لئے ہندو ہونے کے ناتے اس کی تحریروں کا فوکس اسلام آباد کے علاوہ دنیا کے دوسرے دارالحکومت بھی ہیں۔ وہ سمجھتی ہے کہ اسلام آباد جانا ایسے ہی ہے جیسے لندن، پیرس، واشنگٹن، بیجنگ اور ماسکو وغیرہ کا چکر لگانا۔

لیکن اس کا کہنا یہ بھی ہے کہ جنوبی ہند کے لوگ پاکستان کے حالات جاننے میں اتنی ہی دلچسپی لیتے ہیں جتنے دہلی اور چندی گڑھ کے رہنے والے …… یہی وجہ تھی کہ وہ ہمیشہ پاکستان جا کر یہاں کے حالات کا آنکھوں دیکھا حال ایک کتاب کی صورت میں مہاراشٹر کے لوگوں کو سنانا اور بتانا چاہتی تھی۔ اس کی یہ آرزو تقریباً دو عشرے پہلے اس وقت پوری ہوئی جب فورڈ فاؤنڈیشن کی طرف سے اسے ایک وظیفہ (فیلوشپ) مل گیا۔ وہ مئی 2001ء میں ممبئی سے روانہ ہوئی اور اسلام آباد پہنچی جہاں اسے انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز میں ”پاکستان کی مذہبی حیاتِ نو، جمہوریت اور پاک بھارت روابط“ کے موضوع پر ایک مبسوط مقالہ تحریر کرنا تھا۔ وہ اسلام آباد میں 5ماہ تک مقیم رہی اور اس دوران لاہور، کراچی، پشاور اور ٹیکسلا کو وزٹ کرنے کے مواقع بھی ملے۔

اس کا ویزہ اگرچہ اسلام آباد کا تھا لیکن انسٹی ٹیوٹ کی کوششوں سے اسے دس دس، پندرہ پندرہ دنوں تک پاکستان کے دوسرے صوبائی دارالحکومتوں کے چکر لگانے کے مواقع بھی ملے۔ کوئٹہ ان دنوں چونکہ زیادہ انتہا پسندی کا شکار تھا اس لئے وہ وہاں نہ جا سکی۔ وہ جب ستمبر 2001ء میں واپس انڈیا (ممبئی) پہنچی تو پاکستان میں اپنے قیام کے دوران اس نے جو کچھ یہاں دیکھا، جن شخصیات سے اس کی ملاقاتیں ہوئیں اور پاکستانی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا جو مطالعہ اور مشاہدہ اس نے کیا، اس کے بارے میں ایک کتاب لکھی جو مرہٹی زبان میں تھی۔ یہ کتاب اتنی مشہور ہوئی کہ اس پر دباؤ پڑنے لگا کہ یہی کچھ انگریزی میں بھی لکھے۔

نہ صرف انڈیا بلکہ پاکستان کے مشہور و معروف اکابرین نے بھی منیشا کو ایک انگریزی کتاب میں اپنے پانچ ماہ کے تاثرات بیان کرنے پر زور دیا۔ چنانچہ اس نے انگریزی میں بھی یہ کتاب لکھی جو میرے سامنے ہے۔ یہ مرہٹی زبان میں لکھی ہوئی کتاب کا ترجمہ نہیں بلکہ اس کے اپنے مطابق اس سے کہیں زیادہ جامع اور زیادہ ضخیم ہے۔ اس کا انگریزی عنوان Across the Wahga ہے جس کا اردو ترجمہ ”واہگہ کے اُس پار“ کیا جا سکتا ہے۔ یہ کتاب 2004ء میں بیک وقت نیو دہلی (انڈیا) اور نیوجرسی(امریکہ) سے شائع ہوئی۔ اس کے 350صفحات ہیں اور درجن بھر سے زیادہ بلیک اینڈ وائٹ تصویریں بھی ہیں۔

پہلے پہل تو میں نے اسے سرسری نظر سے دیکھا۔ میرا خیال تھا کہ جس طرح انڈین صحافی اور لکھاری بالعموم پاکستان اور پاکستانیوں کے بارے میں ایک شدید قسم کا یک طرفہ اور متعصبانہ رویہ اپناتے ہیں اور ان کی تحریریں اسی تنگ نظری کا مرقع ہوتی ہیں، یہ کتاب بھی ویسی ہی ہو گی۔ لیکن جب میں نے مصنفہ کا پیش لفظ پڑھا تو حیران ہوا کہ وہ پاکستان کے بارے میں ایک بالکل جداگانہ سوچ رکھتی ہے اور پاکستان اور پاکستانیوں کی تعریف میں جو کچھ لکھتی ہے اس کی سپورٹ میں ایسا مواد سامنے لاتی ہے جو اس کے نقطہ ء نظر کا زبردست موید ہوتا ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ وہ پاکستان اور پاکستانیوں کی توصیف و تحسین میں اپنے دوسرے ہندو صحافیوں اور لکھاریوں سے 180درجے مخالف سمت میں چلی جاتی ہے لیکن جو کچھ لکھتی ہے وہ مبنی بر حقائق اور خواہ مخوا کی جانب داری سے عاری ہوتا ہے۔ اس کے اسلوبِ نگارش میں بلا کی برجستگی اور روانی ہے۔ کتاب کے کسی بھی حصے کو کھولیں اور پڑھنا شروع کریں تو آپ کا تجسس اور دلچسپی ”ھل من مزید“ کا تقاضا کرتے ہوئے آپ کو اگلے صفحات الٹنے پر مجبور کر دے گی۔

انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز اسلام آباد کو چاہیے کہ وہ اس کتاب کا اردو ترجمہ کروا کر اسے شائع کرے۔ اس میں جو معلوماتی مواد اور تحقیقاتی میٹریل موجود ہے، وہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کا ترجمہ اردو میں کرکے اسے پاکستانی عوام کے سامنے رکھا جائے۔

یہ درست ہے کہ جب یہ کتاب لکھی گئی تو انڈیا میں بی جے پی کی حکومت تھی۔ لیکن فروری 1999ء میں جب باجپائی نے پاکستان کا دورہ کیا تھا تو تب ہندوتا کا وہ تعصب جو آج بی جے پی کی حکومت کی رگ رگ میں سما چکا ہے، موجود نہ تھا۔ یہ تو مودی نے آکر ہندو نازی ازم کی جو بنیاد رکھ دی ہے وہ اس کتاب میں بیان کی گئی حقیقتوں کا عکسِ معکوس ہے۔

اس کتاب کے آدھے صفحات میں ان چار شہروں اور ان کی باسیوں کا ذکر ہے جن کا تذکرہ میں نے سطور بالا میں کیا ہے اور باقی آدھی کتاب پاکستان کی سیاسیات، جمہوری روایات، اکابر سیاستدانوں، اسلاموفوبیا کی حقیقت یا سراب، شیعہ سنی تنازعہ، مدرسہ کلچر، آرمی اور سیاست،پاک۔ امریکہ تعلقات، پاک۔ افغانستان تعلقات، طالبان، پاکستان کا سوشل سٹرکچر، پاکستان کی اقلیتیں، پاکستان میں خواتین کا مقام، پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، ایجوکیشن،صحت، اقتصادیات اور ثقافتی اقدار جیسے موضوعات سے بحث کرتی ہے۔ حتیٰ کہ آخر میں پاکستانی فلم انڈسٹری اور تھیٹر پر بھی ایک بھرپور تجزیہ اس کتاب کا حصہ ہے۔

کون نہیں جانتا کہ پاکستان آج ایک مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔

منیشا نے اس کتاب کو ستمبر 2001ء تک کے حالات و واقعات تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ 2003ء میں جب اس کو دوبارہ پاکستان آنے کا موقع ملا تو اپنے تجزیوں میں اس دور کو بھی شامل کر دیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر آج منیشا کو ایک اور فیلوشپ مل جائے تو وہ ”واہگہ کے اس پار“ کا دوسرا حصہ لکھنے پر مجبور ہو گی۔ اور یہ حصہ اس کے پہلے حصے کا گویا تسلسل اور تمتمہ ہو گا۔اپنے پیش لفظ میں وہ ایک جگہ لکھتی ہے: ”پاکستانی معاشرہ شدید طور پر ایک سیاست زدہ (Politicized) معاشرہ ہے اس لئے پاکستانی سوسائٹی اور ثقافت پر اس وقت تک کوئی تبصرہ نہیں کیا جا سکتا جب تک اس کے سیاسی نظریات کا تذکرہ نہ کر دیا جائے۔“

اسی پیش لفظ میں مصنفہ نے اپنی دو ”دریافتوں“ کا ذکر بھی کیا ہے۔ یہ دریافتیں کیا ہیں، اس کے اپنے الفاظ میں دیکھئے:”پاکستان میں اپنے مختصر قیام کے دوران، میں نے وہاں کی دو تہذیبی اقدار بھی دریافت کی ہیں …… پہلی یہ ہے کہ آپ کو پاکستان کے عوام، پاکستانی قوم اور پاکستانی ریاست کے درمیان فرق معلوم ہونا چاہیے، کیونکہ عوام اگر ایک چیز ہیں تو یہی عوام بحیثیت قوم، ایک بالکل جداگانہ چیز بن جاتے ہیں جب عوام ایک قوم بن جاتے ہیں تو گویا یہ ایک کیمیکل ری ایکشن ہوتا ہے جس کا جزوِاعظم یعنی عوام بالکل تبدیل ہو جاتے ہیں۔ قومیت اور حب الوطنی اگرچہ کسی قوم کے دو اہم اجزا ہیں لیکن ان کی ڈائریکشن کی بھی ایک حد ہے۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک قوم کے افراد کا دوسری قوم کے افراد کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں ہوتا اور نہ ان کے مابین کسی قسم کی دشمنی ہوتی ہے۔لیکن جونہی یہ افراد، اقوام کا روپ دھارتے ہیں تو ان کی باہمی مخاصمت اور دشمنی خوفناک حدوں کو چھونے لگتی ہے۔ تب ”میں“ اور ”تو“ کی جگہ ”ہم“ اور ”وہ“ لے لیتی ہے۔ یہ اختلاف ایک دوسرے سے 180درجے برعکس ہو جاتا ہے۔ تب ”ہماری“ ہر چیز……

مذہب، زبان اور ثقافت تو بہت اچھی اور قابلِ توصیف و تعریف ہوتی ہے جبکہ ”ان“ کی ہر چیز…… مذہب، زبان اور ثقافت بہت بُری ہو جاتی ہے اور قابلِ مذمت و حقارت قرار پاتی ہے۔ بطور ریاست (State) ایک قوم مختلف گیم کھیلتی ہے۔ لیکن یہی قوم جب ریاست بن جاتی ہے تو ایک بالکل دوسری اور مختلف گیم کھیلتی ہے۔ جب قومی جذبے کو سیاسی قوت حاصل ہو جاتی ہے تو یہ قوت ایک بے مثال وحدت کا روپ دھارتی ہے اور اس حیثیت میں اس کے اپنے اختصاصی، سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی مفادات تشکیل پاتے ہیں۔ اس کی قوت کی اپنی ایک الگ مساوات بن جاتی ہے۔ یہ ضروری نہیں ہوتا کہ اس ریاست میں لوگوں کی آراء اور ان کی آرزوؤں کا عکس بھی نظر آئے حالانکہ یہ لوگ ریاست کے لازم اجزا ہوتے ہیں۔ تب یہ ریاست اپنا ایک الگ راستہ تراشتی ہے۔

اس وقت فرد، قوم اور ریاست تین مختلف حقیقتیں بن جاتی ہیں اور ان کو آسانی سے جھٹلایا یا ایک طرف نہیں پھینکا جا سکتا۔ اس لئے میں سمجھتی ہوں کہ اگر اقوام کے درمیان کشیدگیاں کم کرنی مقصود ہوں تو یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ اس قوم کے ’افراد‘ کے درمیان دوستیوں کو فروغ دیا جائے بالخصوص ان اقوام کے درمیان جو ایک دوسرے سے دوستانہ روابط نہیں رکھتیں۔ میں نے 20ماہ تک کوششیں کیں کہ حکومت پاکستان سے پاکستان جانے کی اجازت حاصل کر سکوں لیکن یہ تجربہ اضطراب انگیز اورناکام ثابت ہوا۔ لیکن جب میں پاکستان پہنچی اور پاکستان کے لوگوں سے انٹرایکشن کیا تو دیکھا کہ ان دونوں تجربوں میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک عام پاکستانی بہت مہمان نواز، آمادۂ تعاون اور آمادۂ یگانگت ہوتا ہے۔ کھل کر دل کی بات کرتا ہے، دماغ کی نہیں ……

یہ میری ایک دریافت تھی اور دوسری دریافت یہ تھی کہ ”باؤنڈری“ اور ”فرنٹیئر“ دو مختلف تصورات (Concepts) ہیں۔ یعنی زمینی باؤنڈری اور ثقافتی فرنٹیئر ایک چیز نہیں، دو چیزیں ہیں۔ زمین کو تقسیم کیا جا سکتا ہے اور نئی قوت میں تخلیق کیا جا سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ثقافت کی فالٹ لائنیں (Fault lines) قومی باؤنڈریوں کی پیروی کریں!پاکستان میں میرا قیام نہ صرف یہ کہ آرام دہ (Smooth)تھا بلکہ نہائت اچھا (Fine)بھی تھا۔ ان پانچ مہینوں میں مجھے کسی بھی قسم کی پرابلم کا کوئی سامنا نہ ہوا۔ ان تمام ایام میں کبھی ایک لمحہ بھی ایسا نہ آیا کہ جس میں، میں نے محسوس کیا ہو کہ میں کسی جارح ثقافتی ماحول میں رہ رہی ہوں۔ پاک بھارت کشیدگیوں سے میرے قیام میں کوئی خلل نہ پڑا۔

حتیٰ کہ آگرہ سمٹ کی ناکامی اور نوگیارہ کے حادثے کے بعد بھی ایسا کوئی تاثر نہ ملا۔ میرے خیال میں میرے لئے یہ قیام ایک بے مثال تجربہ تھا۔ اور اب میں سمجھتی ہوں کہ میں نے سطور بالا میں جن دو دریافتوں کا ذکر کیا ہے ان میں بھی کوئی نئی بات نہیں تھی۔ ہم انہی صداقتوں کے ساتھ زندہ رہتے ہیں لیکن یہ صداقتیں دونوں اطراف سے اکثر جنگی جنون کا روپ بھی اختیار کر لیتی ہیں“۔

مزید : رائے /کالم