اے سی سی کی عالمی کارپوریشن بننے کے اہل چین کے100اداروں کی نشاندہی

اے سی سی کی عالمی کارپوریشن بننے کے اہل چین کے100اداروں کی نشاندہی

  



لاہور(پ ر)ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس (اے سی سی اے) اور چینی ادارے، شینژن فائنانس انسٹیٹوٹ (Shenzhen Finance Institute) کی مشترکہ تحقیق کے بعد جاری کردہ رپورٹ میں 100 ایسے چینی کاروباری اداروں کی نشاندہی کی گئی ہے جو ماضی میں اپنی کارکردگی اور مستقبل میں ترقی کے حوالے سے گنجائش کے باعث عالمی کارپوریشن بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس تحقیق میں 3,000 کے قریب ایسے نجی اداروں نے حصہ لیا جو چین میں یا بیرون ملک لسٹڈ ہیں۔یہ تحقیق خصوصی طور پر تیار کردہ 11 مختلف اشاریوں پر مشتمل ہے جن میں سے پانچ اشاریوں کے ذریعے ان کمپنی کی ماضی میں کارکردگی کا جائزہ لیا گیا ہے جب کہ چھ اشارئیے مستقبل میں ان ہی کمپنیوں کی ترقی کے بارے میں پیش گوئی کرتے ہیں۔ ان چھ اشاریوں میں کمپنی کا سائز، ترقی، منافع، جدت پسندی، بین الاقوامی سطح پر کام کرنے کی صلاحیت اور میڈیا میں حاصل ہونے والی کوریج شامل تھے۔اس رپورٹ کے حوالے سے اے سی سی اے پاکستان کے ہیڈ، سجید اسلم نے کہا:”اے سی سی اے چین کی ترقی کرتے ہوئے اداروں اور کاروبار کی مانیٹرنگ کرتی رہی ہے اور اس حوالے سے پہلی رپورٹ سنہ 2014ء میں شائع کی تھی جس کے بعد، سنہ 2016ء میں بھی ایک تجزیہ شائع کیا گیا تھا۔ان تمام رپورٹوں میں جو بات واضح طور پر نظر آتی ہے کہ ان میں عالمی سطح پر خود کو منوانے کی خواہش موجود ہے جبکہ بہت سی چینی فرمز پہلے ہی خود کو عالمی سطح پر منوا چکی ہیں۔ حالیہ رپورٹ سے بھی یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ا ن چینی اداروں نے، اگر اپنی موجودہ کارکردگی برقرار رکھی،بہت سے ادارے،آئندہ چند برسوں کے دوران، عالمی کارپوریشنوں کی آئندہ نسل بن جائیں گے۔ پاکستان میں کاروباری اداروں کو، تیزی سے ہونے والی کاروباری ترقی کی،ان مثالوں سے سیکھنا چاہیے اور ان کے ساتھ شراکت داری کے مواقع تلاش کرنا چاہیے تاکہ وہ خود بھی عالمی توسیع کے لیے اپنے اداروں کو تیار کر سکیں۔“

اس تحقیق کے دوران جو اہم عوامل دریافت ہوئے ہیں ان میں انٹرنیٹ، تنوع، اعلیٰ ترین کارکردگی اور مشترکہ خصوصیات شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مستقبل میں،چین کی اقتصادی ترقی میں،ایسی کمپنیاں ابھریں گی جو جدید ترین ٹیکنالوجی پرانحصار کرتی ہیں۔ ٹاپ 100کمپنیوں میں سے 42کمپنیاں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سے تعلق رکھنے والے سیکٹر میں 

کام کر رہی تھیں۔ سنہ 2016ء کی کی گئی رینکنگ سے اب تک انٹرنیٹ کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کی تعداد میں 50فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 

مستقبل کے حوالے سے،چین میں غیر معمولی سائز کی کمپنیوں کی خاصی بڑی تعداد کا تعلق صنعتوں کی متنوع رینج سے۔ایسی کمپنیاں جو بیرون ملک بھی لسٹڈ ہیں وہ انٹرنیٹ، 

سافٹ ویئر ڈیویلپمنٹ اور دیگرمتعلق شعبوں میں کام کرنا چاہتی ہیں۔ ایسی سات کمپنیاں جو ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج (HKEX) میں لسٹڈ ہیں، مینوفیکچرنگ، ادویات اور 

انٹرنیٹ کے شعبوں سے تعلق رکھتی ہیں۔

مزید : کامرس