تھائی لینڈ چیف راہب سمیت 9 رکنی وفد کا عجائب گھر اور تخت بھائی کا دورہ

تھائی لینڈ چیف راہب سمیت 9 رکنی وفد کا عجائب گھر اور تخت بھائی کا دورہ

  

پشاور(سٹی رپورٹر) تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والا 9 رکنی وفد نے تخت بھائی کے کھنڈرات اور عجائب گھر پشاور کا دورہ کیا اس دوران تھائی لینڈ چیف راہب سمیت 6رکنی مونکس نے دونوں مقامات پر اپنی عبادات کیں، اس موقع پر ڈائریکٹر آرکیالوجی خیبرپختونخوا ڈاکٹر عبدالصمد نے تمام افراد کو تخت بھائی کی تاریخ، بدھ مت کے آثارقدیمہ اور عجائب گھر پشاور کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی، ڈاکٹر عبدالصمد نے کہاکہ تخت بھائی کے تاریخی مقام کو یونیسکو نے 1980میں ورلڈ ہیریٹج سائٹ میں شامل کرنے کا اعلان کیا، یہاں بدھ مت کے ہزاروں تعداد میں آثارقدیمہ موجود ہیں جن کو محفوظ بنانے کیلئے صوبائی حکومت نے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کئے، ان بدھ مت کے آثارقدیمہ کی سیر و تفریح کے علاوہ ہر سال بیرون ممالک سے راہب اپنی عبادات کیلئے یہاں کا رخ کرتے ہیں، عجائب گھر پشاو رکے دورے کے موقع پر ڈاکٹر عبدالصمد نے وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ عجائب گھر پشاور کی تاریخ بہت پرانی ہے، عجائب گھر پشاور 1907میں ملکہ وکٹوریہ نے وکٹوریہ ہال کے نام سے تعمیر کیا، دو منزلہ عمارت برطانوی، ہندو، بدھ مت اور مغل اسلامی طرز پر مشتمل ہم آہنگی کے طرز میں تعمیر کی گئی، میوزیم میں ابتداء میں صرف ایک نمائشی ہال تھا لیکن 1969-70 میں مزید دو شامل کئے گئے، 2004-05 میں میوزیم میں مزید دو ہال، صوبائی آثارقدیمہ کے دفتر، ایک کنزرویشن لیبارٹری اور کیفے ٹیریا کے ساتھ ایک نئے بلاک کی تعمیر کے ساتھ وسعت دی گئی، اس میں 14ہزار سے زائد گندھارا تہذیب، بدھ مت،کوشان، پرتھیان اور سکیتھیان کی زندگی پر مبنی نوادرات اور اشیاء موجود ہیں جس میں سٹوپہ، مجسمے، سکے، نسخے، قدیم کتب، قرآن پاک کے ابتدائی نسخے،اسلحہ، کپڑے، زیورات، کالاش مجسمے، مغل اور بعد کے ادوار کی پینٹنگز، گھریلو سامان اور مٹی کے برتنوں کے ساتھ ساتھ مقامی اور فارسی دستکاری کی اشیاء شامل ہیں،اس موقع پر تھائی لینڈکے چیف راہب اور دیگر نے اپنی عبادات کی اور خیبرپختونخوا حکومت کئی جانب سے ان نوادرات کی حفاظت اور نمائش کے اقدامات کو سراہا

مزید :

پشاورصفحہ آخر -