بنوں میں تاجروں کی مرکزی قائدین کی کال پر شٹر ڈاؤن ہڑتال

  بنوں میں تاجروں کی مرکزی قائدین کی کال پر شٹر ڈاؤن ہڑتال

  



بنوں (بیوروچیف)ضلع بنوں کی تاجر تنظیموں نے مرکزی قائدین کی کال پر شٹرڈاؤن ہڑتال کرکے ٹیکسوں کے نفاذ اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے چیمبر آف کامرس اینڈ اڈسٹریز کے صدر شاہ وزیر خان،انجمن تاجران ضلع بنوں کے صدر ملک مقبول خان،صرافہ اینڈ زرگر ایسوسی ایشن کے صدر سجاد خان اور چیئرمین اول دراز خان نے کہا کہ تاجر ملکی نظام چلانے میں ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتے ہیں اور پہلے ہی تاجروں سے 72قسم کا ٹیکس وصول کیا جاتا ہے تاجروں نے کبھی بھی ٹیکس ادائیگی سے انکار نہیں کیا ہے کیونکہ اس سے ملک نظام کا پہیہ چلتا ہے لیکن مذید تاجر موجودہ حالات میں نئے ٹیکس ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ٹیکسوں کے حوالے سے موجوہ حکجومت کی نئی پالیسی تاجر کش ہے اور اگر حکومت نئے ٹیکس لگانے پر بضد ہے تو پہلے ملک بھر کے تاجر رہنماؤں کو اعتماد میں لیں اور تاجروں کو ریلیف دیں پھر ہم ہر طرح کے ٹیکس تسلیم کرتے ہیں بصورت دیگر نئے ٹیکس کسی صورت تسلیم نہیں کرتے اورنئے ٹیکس تسلیم کرنے کے بجائے دکانیں بند کرنے کو ترجیخ دیں گے انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ایماء پر حکومت تاجروں پر ٹیکس در ٹیکس لگاکر تاجروں کو ٹیکس کے بوجھ تلے مروارہی ہے ایک طرف کمر توڑ مہنگائی اور دوسری جانب نئے ٹیکس لگانا عوام وک دو دھاری تلوار سے کاٹنے کے مترادف ہے مقررین نے کہا کہ صرافہ وزرگر برادری نے گاہکوں سے زیورات کے آرڈر 55ہزار روپے میں لئے تھے لیکن اچانکل سونے کی فی تولہ قیمت55ہزار سے بڑھ کر85ہزار اور90ہزار ہوگئے جسکی وجہ سے یہ لوگ لاکھوں روپے کا نقصان کررہے ہیں لہذا وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ تاجروں پر نئے ٹیکس لگانے کے بجائے تاجروں کو آسان اقساط پر بلا سود قرضے دیں اور جب تاجر اپنے پاؤں پر کھڑے ہوجائے اسکے بعد تاجروں کی مشاورت سے ٹیکس لگائیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر