سوشل سکیورٹی سے متعق ادارے قوانین کی پاسداری کروائیں: شوکت علی انجم 

سوشل سکیورٹی سے متعق ادارے قوانین کی پاسداری کروائیں: شوکت علی انجم 

  



کراچی (اکنامک رپورٹر) تمام اسٹیک ہولڈرز کو مزدوروں کے سماجی تحفظ کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔یہ بات پاکستان ورکرز فیڈریشن کے پروگرام انچارج شوکت علی انجم نے گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں منعقدہ علاقائی میڈیا ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر پاکستان ورکرز فیڈریشن کے ٹرینر اسد محمود نے پریزنٹیشن پیش کی۔شوکت علی انجم نے کہا کہ مزدوروں کے لیے سوشل سیفٹی نیٹ ورک کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ نجی شعبے میں کام کرنے والے اس کے بغیر اپنے مستقبل کا تحفظ یقینی نہیں بناسکے۔انہوں نے کہا کہ چیمبرز اور دیگر ٹریڈ باڈیز کو اس مسئلے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیونکہ اگر صنعتکار اپنے کارکنان کے سماجی تحفظ میں دلچسپی کا اظہار نہیں کریں گے تو کوئی بھی تنظیم یہ کام از خود نہیں کرسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن،ای او بی آئی اور ورکرز ویلفیئر فنڈز سمیت دیگر اداروں کو سوشل سکیورٹی کے حوالے سے قوانین کی پاسداری کروانی ہوگی تاکہ مزدوروں کو ان کے حقوق مل سکیں۔اسد محمود نے بتایا کہ سماجی تحفظ کے ادارے سیاسی مداخلت کی وجہ سے فعال کام نہیں کررہے ہیں اوربدعنوانی کا شکار ہیں۔اٹھارہویں ترمیم کی وجہ سے اس کی قانونی پیچیدگیوں میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے ادارے گومگو کی صورت حال سے دوچار ہیں۔انہوں نے کہا کہ سماجی تحفظ کے اداروں کی طرف سے دی جانے والی مراعات کافی کم ہیں۔یہ ادارے قوانین پر عملدرآمد نہیں کررہے ہیں اور کنٹری بیوشن کی وصولی ان کی ذمہ داری ہے جس میں وہ کوتاہی کررہے ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر