نیشنل بینک نے 9ماہ کی مدت کیلئے مالی اسٹیٹمنٹ کی منظوری دیدی

نیشنل بینک نے 9ماہ کی مدت کیلئے مالی اسٹیٹمنٹ کی منظوری دیدی

  

کراچی(اکناک رپورٹر)نیشنل بینک کے بورڈ آف ڈائرکٹرز(بی او ڈی) کا اجلاس آج یعنی29اکتوبر2019کو بینک کے ہیڈ آفس واقع کراچی میں ہوا جس مین بی او ڈی نے30ستمبر2019کو ختم ہونے والے نو ماہ کی مدت کے لئے بینک کے مالی اسٹیٹمنٹ کی منظوری دی۔نو ماہ میں بینک کی آمدنی پاکستانی کرنسی میں 79.4بلین روپے تھی جو کہ 66.0بلین روپے زیادہ ہے یعنی سال بہ سال20.3%زیادہ۔جب کہ خالص انٹرسٹ کی آمدنی 53.9بلین روپے پر بند ہوئی غیر مارک اپ/انٹرسٹ کی آمدنی بالترتیب23.7% اور13.7% بلین روپے پر بند ہوئی۔26.2% اضافے کے ساتھ ٹیکس وصولی سے قبل بنک کا منافع 29.2بلین تھا جبکہ ستمبر2018کے لئے یہ منافع16.3 بلین روپے تھاجو کہ 16.2 بلین روپے سے معمولی1.0 % زیادہ ہے2018کے اس عرصے کے دوران اربوں روپوں کی آمدنی ہوئی۔ ٹیکس کے بعد منافع کی کمی بنیادی طور پر گزشتہ سال کی اسی مدت کے لئے30.0%کے مقابلے میں 44.0%زیادہ ٹیکس وصولی کی وجہ سے قرار دی جا سکتی ہے،خالص منافع7.68 پاکستانی روپے فی حصص آمدنی کی ترجمانی کرتا ہے بمقابلہ پچھلے سال کے اسی نو ماہ کی مدت میں 7.60 پاکستانی روپے کے۔بینک کے کل اثاثوں کی تعداد 3,025.4 بلین روپے تھی جو 31دسمبر 2018تک 2,798.6 بلین روپے سے8.1%زیادہ ہے۔ذخائر،ترقی اور سرمایہ کاری میں بینک مارکیٹ کا شیئر بالترتیب14%، 12%، اور15% ہے۔ کل رقم سے12%کی نمائندگی کرتے ہوئے بینک کی مجموعی پیش رفت 1,093.4 بلین روپے تھی جو 31دسمبر 2018کو1,059.5 بلین روپے سے معمولی حد تک زیادہ ہے،تاہم ستمبر 2018کے953.3 بلین روپے کے مقابلے میں مجموعی پیش رفت میں 14.7% اضافہ ہوا ہے۔30ستمبر2019تک بین کے ذخائر1,938.0 بلین روپے تھے جس میں 31دسمبر 2018کو2,011.4 بلین روپے کے مقابلے میں 2,011.4 بلین یا 3.6%کی کمی کو دکھایا گیا ہے۔ڈپازٹ بینکنگ انڈسٹری کے مجموعی ذخائر میں 13.5%حصص کی ترجمانی کرتا ہے۔بینکنگ کے کل فنڈنگ پول کے87.5%بننے والے صارفین کے ذخائر اس عرصے میں مستحکم رہے جو 1,695.0 بلین روپے(2018: 1,674.12 بلین روپے)ہے۔ 2019این بی پی کا قوم کے لئے خدمات کا 70واں سال ہے ااور اس کے مضبوط ترین نتائج سامنے آرہے ہیں اس کی کاروباری حکمت عملی ترجیحی بنیادو ں پرمائکرو ہاؤسنگ کے لئے ایس ایم ای، مائیکرو فنانس،زراعت و مالیات،اور فنانس سمیت زیر کفالت شعبہ جات تک پہنچے اور ان کی معاونت کے ذریعے جامع ترقی کو یقینی بنانے کے لئے تیار ہے۔یہ سرکاری شعبہ کے کاروباری اداروں اور اس کے ملازمین کے ساتھ معاملات میں بینکنگ کے غالب کردار کے علاوہ ہے۔ڈیجیٹل بینکنگ کی صلاحیت اورٹیکنالوجی پلیٹ فارم کی تعمیر اس حکمت عملی کا مرکزی حصہ ہو گی تا کہ اس کے تحت ادارے میں کارکردگی کی بنیاد پر چلنے والی ثقافت کو فروغ دیا جا سکے۔بینک کے اسٹریٹجک اہداف کے حصول کے لئے ہم آہنگی پیدا کرنے اور رسک کنٹرول کو بڑھانے کے لئے ہیڈآفس کی سطح پرکچھ امور دوبارہ منظم کئے گئے ہیں۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -