اکادمی ادبیات کے زیر اہتمام تحقیق و تنقید پرجائزہ اور مشاعرہ کا انعقاد

اکادمی ادبیات کے زیر اہتمام تحقیق و تنقید پرجائزہ اور مشاعرہ کا انعقاد

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے زیراہتما م تحقیق و تنقیدپر جائزہ اور’مشاعرہ“کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت معروف شاعر کالم نگار نصیر سومرو نے کی۔ مہمان خاص  کینڈاسے آئی ہوئی معروف شاعرہ منور جہاں،معروف شاعرہ افسانہ نگار، شگفتہ شفیق تھیں۔ اس موقع پر  معروف شاعر کالم نگار نصیر سومرو نے صدارت خطاب میں کہا کہ   تحقیق علم و فن نہایت اہم شعبہ ہے بات زبان کی ہو یا واقعات کی تحقیق کے بغیر صحیح نتائج تک رسائی ممکن نہیں۔لیکن تحقیق ایک مشکل فن بھی ہے اور اپنے موضوع کے ساتھ انصاف چاہتی ہے۔ وہ مواد کو اکھٹاکرنے اور اس کی صحیح پر کھ  اسناد کی صداقت تقابل اور تنقیدی شعور کی محتاج ہے یہ ایک مشکل اور صبر آزماکا م ہے اس میں بڑی دیدہ ریزی اور ریاضت مشقت کی ضرورت ہے۔ تحقیق اور تنقید نہ صر ف ہم جنس ہیں بلکہ ان کی زیر جنس بھی ایک ہے لہٰذا دونوں میں مماثلت ہے دونوں ہی کا طریقِ عمل بہت حد تک یکساں ہے دونوں میں ہی تشریح و تجزیہ سے کام لیا جاتا ہے تب کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے۔تنقید۔۔۔۔تخلیقی ادب کو سمجھنے اور پر کھنے کی کوشش ہے۔ معاصر تنقید میں یہ کوشش کئی جہتوں سے جاری ہے، تخلیقی فن پارہ ادبی روایت کا حصہ بھی ہوتاہے اور عصری تجربے کا جزو بھی اس کے پیرایۂ اظہار میں فن کی رمزیت اور خیال کی ندر ت مل کر ایک د لکش آمیزے کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ظاہرہے سب سے پہلی کوشش تخلیقی فن پارے کا مفہوم سمجھنے اور اس کی کیفیت پہچاننے یا اس کی کیفیات کے تجزئے کی ہوتی ہے۔ چناچہ تنقید ادب کا ایک ایسا لازمی شعبہ ہے جو اس کی تخلیق کے ساتھ ہی معروضِ وجودمیں آتا ہے۔ اور اپنی حیثیت کو مستحکم کرکے ادب کی حیثیت کو متعین کرتاہے۔مہمان خاص معروف شاعرہ افسانہ نگار، شگفتہ شفیق نے کہاکہ،تخلیق اور شعور کے حوالے سے بیگم ثاقبہ رحیم الدین ادبی و علمی حلقوں کی معروف ممتازشخصیت ہیں۔ ادبی ذوق اوروضعداری ان کا خاندانی ورثہ ہے۔ محفل تنہائی ان کے تنقیدی مقالات اور نشائی تحریروں کا مجموعہ ہے اگر ایک طرف وہ علامہ اقبال کے فلسفہ ادب اور آرٹ کا اسلامی ورثہ اور موجودادبی تخلیقات میں جمالیاتی عنصر کا فقدان جیسے اہم موضوعات پر کامیابی سے اظہارخیال کرتی ہیں تو دوسری جانب عشق۔ ثقافت اور شوخی قلم جیسے طنزیہ مضامین تحریر کرنے پر قادر ہیں۔ محترمہ بیگم ثاقبہ رحیم الدین صاحبہ نے یہ ہیش قیمت مضامین بڑی لگن سے لکھے ہیں یقینا نوع بہ نوع مضامین موضوع پر ایک کامیاب کو شش ہیں اور یہ گرانقدر تحریریں آئندہ لکھنے والوں کے لئے خاصا ٹھوس مواد مہیا کرتی ہیں اوراردو زبان و ادب کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ پاکستان میں مسلم تہذیب تمدن پر روشنی ڈالتی ہیں۔معروف شاعر افسانہ نگار عرفان علی عابدی نے کہا کہ منٹو کے مطالعے میں نئی جہت اور افسانے کی تنقید میں اہم اضافہ قرارر دی جاسکتی ہے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -