مارچ مزید سخت ہوسکتا ہے : مولانا فضل الرحمن ، معاملے کو سیاسی طریقے سے حل کریں گے ، معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو کارروائی ہو گی : عمران خان 

    مارچ مزید سخت ہوسکتا ہے : مولانا فضل الرحمن ، معاملے کو سیاسی طریقے سے حل ...

  



لاہور ، فیروز والہ ، مرید کے ، گوجرانوالہ ( سٹاف رپورجنرل رپورٹر ، نمائندہ خصوصی ،نمائندگان ،بیورو رپورٹس ، نیوز ایجنسیاں) کراچی سے شروع ہونے والا جمعیت علمائے اسلام کا آزادی مارچ لاہور میں رات قیام کے بعد اسلام آباد روانہ ہو گیا جو رات گئے تک اسلام آباد کی طرف رواں دواں تھاگا۔. جبکہ آزادی مار چ کے شرکاء گوجر خان میں را ت کوقیام کرینگے اور صبح 31مار چ کو قا فلہ اسلام آباد کیلئے روانہ ہو گا،لاہور سے قافلہ رو انگی پرجمعیت اہلحد یث کے علامہ ساجد میر ، پیپلز پارٹی کے قمر الزمان قائرہ، جمعیت علما ء پاکستان (نورانی ) کے مولانا شاہ اویس نورانی جے یو آئی کے مرکزی رہنما مولانامحمد امجد خان،مولانا راشد خالد محمود سومرو ،محمد اسلم غوری اور جے یو آئی پنجاب کے صدرمولانا ڈاکٹر عتیق الرحمن اور دیگر نے بھی خطاب کیا، آزادی مار چ قا فلہ سے خطاب کر تے ہو ئے مو لانا فضل الرحمن نے کہاکہ پاکستان کی بقا اور سلامتی کیلئے اپنی جا نیں پیش کرنے والو ں کوسلام پیش کر تا ہو ں،ہم نے نو ماہ میں 15ملین مار چ کیے اس میں جس امن کو برقرار رکھا ہے وہ اس با ت کیلئے کا فی ہے کہ ہمارا کارکن پر امن ہے اور پاکستان کے امن کو سب پر مقدم رکھتا ہے 27تار یخ سے ہم کراچی سے چلے ہیں کراچی سے لاہور آ نے تک ہماری جماعت نے ثا بت کیا ہے کہ اتنے بڑے عظیم ہجوم کے باو جو د راستہ میں کسی انسان کو خرا ش تک نہیں آ ئی،آزادی مار چ کا ہر جگہ جس طرح استقبا ل کیاگیا اس سے اندازہ ہو تا ہے کہ اس آزادی مار چ کوپاکستان کے ہر شہری کی حما یت حا صل ہے ،جن جماعتو ں اور لو گو ں نے ہمار استقبال کیا ہم انہیں آزادی مار چ میں شامل تصور کر تے ہیں انہو ں ے کہاکہ ہمارا جو بنیادی مطا لبہ ہے کہ جو 25جو لائی 2018کو انتخابا ت ہو ئے اس میں بد تر ین دھا ندلی ہو ئی،ہم اس کے نتا ئج کو تسلیم نہیں کر تے ،ہم نے پہلے دن سے ہی اس نام نہاد خلیفہ کی بیت نہیں کی ہم حسین کے پیرو کار ہیں جنہو ں نے پہلے دن سے ہی یز ید کی بیعت نہیں کی ،انہو ں نے کہاکہ ہمار ااو ل د ن سے مو قف ہے کہ ووٹ قوم کی امانت ہے جس میں خیا نت کی گئی ہے ہم قوم کو یہ امانت واپس دلانا چاہتے ہیں،ایک تو اس حکومت کی حیثیت یہ ہے کہ یہ ناجا ئز ہے اور دوسرا یہ کہ وہ ایک سا ل کی کارکرد گی کی بنیاد پر نااہل بھی ثا بت ہو گئی ہے انہو ں نے کہ تو ہین ر سا لت کے مرتکب افراد کو باعز ت بیرو ن ملک بھیجا گیا ،تو ہم میدان میں آئے اور اس پراحتجاج کیا ، قادیانیو ں کیلئے خصو صی نرم گوشہ پیدا کیا گیا اور انہیں یقین دلایا گیاکہ 1973کے آ ئین کوختم کیاجا ئے گا ،ر بیع الاﺅ ل کا مہینے میں آ ج ہم نبی کریم کی ختم نبو ت کاتذکرہ کررہے ہیں یہ بڑی سعاد ت کی با ت ہے۔ انہو ں نے کہاکہ ملکی معیشت کا بیڑہ غر ق ہو چکا ہے جب معیشت ڈو بتی ہے تو جغرافیا ئی نقشے تبد یل ہو جا تے ہیں ، ملکو ں کاو جو د خطرے میں پڑ جا تاہے آ ج پاکستان کو انہوں نے اس مقام تک پہنچادیا ہے کہ قوم کو پاکستان کے بقا ء کی جنگ لڑنا پڑے گی،آزادی مار چ کا مقصد ملک کی بقا ئ' ملکی سلامتی اور پاکستان کی حقیقی آزادی کا مار چ ہے ہم پاکستان کی بقا ءکی جنگ لڑ رہے ہیں اسلام آباد پہنچ کر مطالبات سامنے رکھیں گے اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کئے تو مارچ مزید سخت ہو سکتا ہے انہو ں نے کہاکہ جو ڈاکٹر لو گو ں کے در دو ں کا مسیحا بنتے ہیں آ ج پشاور کی سڑکو ں پر انہی کے جسمو ں سے خو ن ر س رہاہے سڑکو ں پر پڑے خو ن میں لت پٹ ڈاکٹرز اس حکومت کیخلا ف احتجا ج کررہے ہیں اساتذہ اکرام کو اسلام آباد کی سڑکو ں پر گھسیٹا جا رہاہے خو اتین اساتذہ کے چہرو ں پر تھپڑ مارے گئے کیا اس پاکستان میں ایک استاد کا یہ مقام رہ گیا ہے کہ وہ اپنے جا ئز مطا لبا ت کیلئے سڑک پر آ تا ہے تو اس سے بد تمیز ی کی انتہا کردی جا تی ہے انہو ں نے کہاکہ آ ج تاجر ہڑ تا ل پر ہیں اس لیے کہ تاجر پر کاروبار کے دروازے بند کردیئے گئے ہیں،آ ج غر یب آدمی مہنگائی کے ہا تھو ں خو د کشیاں کررہاہے انہو ں نے کہا کہ لو گو ں کو کہا گیا کہ ہم آ پ کیلئے 50لا کھ گھر بنا ئیں گے تجاوزا ت کے نام پر 50لاکھ سے زیادہ گھر مسمار کردیئے گئے ہیں نو جوانو ں سے کہاکہ ہم آ پ کو ایک کروڑ نو کریاں دیں گے ایک کروڑ نو کری تو درکنار 20سے 25لاکھ نو جوان بے روز گار ہو چکے ہیں کہا گیا تھا کہ پاکستان خو شحال ہو گا لو گ باہر سے آ کر پاکستان میں نو کریاں حا صل کر یں گے پاکستان میں بیرو ن ملک سے آئی ہو ئے صر ف دو لو گو ں کو نو کریاں ملی ہے ایک گور نر سٹیٹ بینک اور ددسرے چیئرمین ایف بی آر کو۔جو لوگ مغربی مفادات کے محا فظ ہیں انہیں ہمارے ادارو ں پر لا کر بیٹھا دیا گیا وہ پاکستان سے کیسے مخلص ہو نگے ان کی تر جیح وہی ہو گی جوانہیں مغر ب کہے گا۔معیشت گر تی جا رہی ہے ہم تاجرو ں کے مطالبا ت کی بھی مکمل حما یت کر تے ہیں انہو ں نے کہا کہ کارو باری طبقہ پر یشان ہے پاکستان کی پیدا واری صلاحیت ختم ہو چکی ہے افراط زر بڑھ چکا ہے قمرالزمان کائرہ نے کامیاب آزادی مارچ پر مولانا فضل الرحمن کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب موجودہ حکمرانوں سے نجات کا وقت آگیا ہے مرکز جمعیت اہلحدیث کے سربراہ پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ وہ مولانا بارے نازیبا الفاظ استعمال کرنے والوں کی مذمت کرتے ہیں انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ اب عمران خان پاکستان چھوڑ دو ۔ عمران خان کے ہوتے ہوئے حالات بگڑ سکتے ہیں سدھر نہیں سکتے ملک اور جمہوریت سمیت عوام کو بچانا ہے تو عمران خان کو گھر جانا ہوگا ورنہ پاکستان کے عوام انہیں گھر بھیج کر دم لیں گے۔ پروفیسر ساجد میر کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج جو مہنگائی ہے پہلے کبھی نہ تھی ادویات بھی عوام کی پہنچ سے دور ہوگئی ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ‘جس میں سربراہ جے یو آئی (ف) نے قائد (ن) لیگ نواز شریف کی صحت سے متعلق دریافت کیا،مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ میں لیگی کارکنوں کی شرکت پر شکریہ بھی ادا کیا اور نواز شریف سے ملاقات اور ان کی عیادت کی خواہش کا اظہار کیا۔دونوں رہنماوں کے درمیان موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا ۔مرید کے سے نامہ نگار کے مطابق جمعیت علماءاسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے استقبال کرنے والوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم قوم کی امانت ووٹ کو عزت دلا کر واپس لوٹیں گے اور اسلام کے نام پر حاصل کئے جانے والے ملک میں اسلام کا بول بالا کرائیںگے۔ رات آٹھ بجے کے قریب مریدکے سے گزرنے والے 'آزادی مارچ'کے قافلے کا استقبال کرنے والے مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی کثیر تعداد سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سلیکٹڈ حکومت نے ملکی معیشت کو تباہ کرکے ملک کو تباہ کیا ہے اور ہم ملک کو بچانے اور اس کی بقاءکی جنگ لڑنے اسلام آباد جا رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ عوام میاں نواز شریف کی صحت کی دعا کریں اور ہمیں اپنی دعاو¿ں اور محبتوں سے نوازیں۔ وزیر اعظم نیازی کی حکومت کے خاتمہ تک 'آزادی مارچ'کو آزادی دھرنا میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر رانا تنویر حسین، سابق ایم این اے رانا افضال حسین، سابق چیئرمین ضلع کونسل شیخوپورہ رانا احمد عتیق انور اور سابق ایم پی اے حاجی مشتاق احمد گجر کی قیادت میں سینکڑوں کارکن صبح دس بجے ہی جی ٹی روڈ پر پہنچ کر 'آزادی مارچ'کے قافلے کا انتظار کرنے لگے۔ میلوں لمبا آزادی مارچ کا قافلہ رات 7:50منٹ پر مریدکے پہنچا اورایک گھنٹہ بعد شہر کی حدود سے باہر نکلا۔ لیگی رہنماو¿ں کے مطابق ان کے کارکنوں کی کثیر تعداد بھی مارچ کے ساتھ اسلام آباد جائے گی۔فیروز والہ میں خطاب میں مولا نا فضل الرحمن نے کہا آزاد ی مارچ پوری قوم کی ترجمانی کر رہا ہے ہم آئین اور پاکستان میں قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں ہم نے آئین پاکستان کو میثاق ملی تسلیم کیا ہے ۔ ہم اپنے آئینی حق اور وطن عزیز کی حفاظت جنگ لڑ رہے ہیں ۔ موجود ہ حکومت جعلی اور ناجائز ہے اس کو ہم تسلیم نہیں کرتے ہیں امسلم لیگ (ن)کےارکان اسمبلی ملک ریاض احمد ،پیر اشرف رسول اور کارکنوں نے مولانا فضل الرحمن پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے استقبال کیااس موقع پر مولانا فضل الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کامیاب آزادی مارچ پر پوری قوم کو سلام پیش کرتا ہوں آج قوم دو حق مانگ رہی ہے جو آئین پاکستان نے دیا آج آزادی مارچ میں تمام سیاسی جماعتیں شامل ہیں سب کا اتفاق ہے کہ یہ حکومت جعلی ہے اور اسکو تسلیم نہیں کرتے ووٹ کو عزت دو کابھی نعرہ لگایا آخر میں مولانا فضل الرحمن نے میاں نواز شریف اور آصف زرداری کی صحت یابی کیلئے خصوصی دعا کی انہوں نے مزید کہا کہ داتا کی نگری میاں میر کے شہر احمد علی کے شہر میں عوام نے جو آزادی مارچ کا استقبال کیا ہے اس کو ہم سراہتے ہیں ٹرک میں سوار سٹیج سیکریٹری نے ایک نمایاں نعرہ لگایا ایک ٹکے کے دو رخ جنرل نیازی اور عمران نیازی مولانا فضل الرحمن شاہدرہ چوک میں 5:15بجے پہنچے اور کنٹینر پر ہی عوام سے خطاب کیا ۔آزادی مارچ کا گوجرانوالہ پہنچنے پر پرتپاک استقبال کیا گیا اور وہاں شرکاءسے سربراہ جے یو آئی نے خطاب بھی کیا۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ احتساب کے نام پر سیاست دانوں کے خلاف ڈرامے اب مزید نہیں چل سکیں گے۔ پوری قوم ایک صف میں ہے جو 25 جولائی 2018 کے انتخابات کو قبول نہیں کرتی، ہم ووٹ کی طاقت کو واپس لائیں گے۔انہوں نے کہا کہ قوم کی دعاو¿ں کے ساتھ اللہ ہمیں کامیاب کرے گا، کل پورا پاکستان اپنا فیصلہ منوائے گا۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ احتساب کے نام پر سیاست دانوں کے خلاف ڈرامے اب مزید نہیں چل سکیں گے، اس جنگ میں پوری قوم ہمارے شانہ بشانہ ہے، جس امانت کو لوٹا گیا تھا، ہم اس کے لیے نکلے ہیں اور عوام دوبارہ ووٹ دےکر صحیح حقدار کا انتخاب کرے گی۔ان کا کہنا ہے کہ ہم ناموس رسالت کی حفاظت اور پاکستان کی بقاء اور سلامتی کےلیے نکلے ہیں، یہ نا اہل حکومت ہمیں معاشی بحران سے نہیں نکال نہیں سکتی۔ اس سے قبل نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وزیراعظم عمران خان استعفیٰ دیں گے،اسلام آباد پہنچنے پر عوامی رائے کا احترام نہ کیا تو آزادی مارچ مزید سخت ہو گا،اسلام آباد میں ہم اپنے مطالبات رکھیں گے، ایسا نہیں کہ اسلام آباد پہنچنے پرنتائج نہ ملنے پر تحریک رکے گی بلکہ تحریک کی کامیابی کی جدوجہد جاری رہے گی، ڈاکٹرز کی جانب سے نواز شریف سے ملنے سے روکا گیا ۔جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں میاں صاحب سے ملنے جانا چاہتا تھ، ڈاکٹر نے رابطہ کیا اور کہا کہ سابق وزیراعظم کا علاج جاری ہے ان سے ملاقات نہ کی جائے، نواز شریف کی طبیعت کے باعث ڈاکٹرز نے نواز شریف سے ملنے سے روکا ہے، میں ڈاکٹرز کے منع کرنے پر سروسز ہسپتال نہیں جا رہا۔ آزادی مارچ کےلئے اسلام آباد میں سٹیج تیار کر لیا گیا ہے ،100ایکٹر اراضی پر مشتمل جلسہ گاہ میں لاکھوں افراد کےلئے بیٹھنے کی گنجائش ہے ، جلسہ گاہ میں کرسیوں کے ساتھ ساتھ زمین پر بیٹھنے کےلئے دریاں بچھانے کا انتظام بھی کیاگیا ہے ،جلسے کے شرکاءکےلئے ایک ہزار سے زائد عارضی واش رومز تیار کرنے کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے ،تبلیغی اجتماع کے طرز پر 5،10اور 20افراد پر مشتمل گروپس اپنے کھانے پینے کا بندوبست خود کریں گے ،مرکزی سٹیج کی تیاری سمیت دیگر اخراجات راولپنڈی اور اسلام آباد کی مقامی جماعتوں کے سپرد ہے ۔جمعیت علماءاسلام کے آزادی مارچ کےلئے اسلام آباد کے سیکٹر ایچ نائن میں ایک سو ایکٹر اراضی پر مشتمل جلسہ گاہ کی تیاری کا کام تیزی سے جاری ہے سٹیج کی تیاری کےلئے کنٹینرز بھی جلسہ گاہ میں پہنچا دئیے گئے ہیں جے یوآئی اسلام کے ضلعی امیر مولانا عبدالمجید ہزاروی کے مطابق آزادی مارچ میں پورے ملک سے تیس سے 40لاکھ افراد شریک ہونگے اور یہ آزادی مارچ وزیراعظم کے استعفے کے لئے جاری رہے گا انہوںنے بتایاکہ ابتدائی طور پر سوایکڑ اراضی پرگراونڈ تیار کیا گیا ہے جبکہ ضرورت پڑنے پر مزید ڈیڑھ سو ایکڑ اراضی کو تیار کرنے کامنصوبہ بھی بنایا گیا ہے جے یو آئی نے تیس سے چھیالیس لاکھ لوگ لانے کادعوی کردیامسلم لےگ (ن )نے عندےہ دےا ہے کہ اگر سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان دھرنے مےں بےٹھ گئے تو وہ پےچھے نہےں ہٹےں گے اور مولانا کے ساتھ دھرنا دےنگے، اگر وزےراعظم عمران خان کا استعفیٰ نہ آےا تو دھرنے سمےت تمام آپشنز استعمال کرسکتے ہےں۔ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اسلام آباد پہنچنے پر رہبر کمےٹی ےا پھر سربراہ اجلاس مےں اہم فےصلے ہونگے ۔ مسلم لےگ ن کے رہنماﺅں جاوےد لطےف اور خرم دستگےر نے مےڈےا سے گفتگو کرتے ہوئے کےاکہا کہ وزےراعظم عمران خان کا استعفٰی اگر نہےں آتا تو مسلم لےگ دھرنے سمےت تمام آپشنز پر غور کرسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نااہل حکومت نے ملک کو تباہی کے دھانے پر کھڑا کردےا ہے ۔ اگر ےہ نااہل لوگ خود نہےں جاتے تو ان کو اقتدار سے نکالنے اور پاکستان کی سلامتی کےلئے ہر حربہ استعمال کرناضروری ہے جو کےا جانا چاہےے او رہم دھرنے سمےت سب آپشنز استعمال کرےنگے ، حکومت نے کارخانے بند کرکے لنگر خانے کھول دئےے ہےں ۔ مےرے جےسے ہزاروں لوگ ان حکمرانوں کو گھر بھےجنا چاہتے ہےں۔ خرم دستگےر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے اسلام آباد پہنچنے پر رہبر کمےٹی ےا پھر سربراہ اجلاس منعقد کےا جائےگا جسمےں دھرنے سمےت تمام آپشنز پر غور کےا جائےگا اور ےہ اہم اجلاس ہوگا۔ اگر مولانا فضل الرحمان وزےراعظم عمران خان کے استعفے کےلئے دھرنا دےتے ہےں تو مسلم لےگ ن پرھ ان کے ساتھ کھڑی ہوگی ۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما و اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم خان درانی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے کل استعفیٰ نہیں دیا تو واپس نہیں جائیں گے۔اکرم درانی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پہنچ کر رہبر کمیٹی کی مشاورت سے لائحہ عمل طے کریں گے، ہمارا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم مستعفی ہوں اور نئے انتخابات ہوں جس میں کوئی مداخلت نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ ہم معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کررہے لیکن حکومت خلاف ورزی کررہی ہے، عدالت نے بھی کہا ہے کہ سڑکوں سے کنٹینرز ہٹائے جائیں۔اکرم درانی کے مطابق ’ہمارے کارکن ایک دن کیلئے نہیں آرہے، کوئی ایک دن کا جلسہ تو نہیں، ہم پرامن رہیں گے، کوئی ایک پتھر بھی نہیں پھینکے گا، عمران خان نے کل استعفیٰ نہیں دیا تو واپس نہیں جائیں گے‘۔اس کے جواب میں 

آزادی مارچ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) آزادی مارچ اور دھرنا سے نمٹنے کے لئے وفاقی حکومت نے حکمت عملی مرتب کرلی، آزادی مارچ کے شرکا نے دھرنا دیا تو مذاکرات ہوں گے، انتشار کی صورت میں طاقت کا استعمال آخری آپشن ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ سے متعلق وزیراعظم کے زیر صدارت حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس ہوا، مذاکراتی کمیٹی نے وزیراعظم کو موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی، مذاکرانی کمیٹی کو آئندہ کے لائحہ عمل پر وزیراعظم نے ہدایات بھی دیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے کمیٹی کو مکمل اختیار دے دیا۔ و، مارچ کے شرکاء نے معاہدہ توڑا یا ریڈ زون داخل ہوئے تو سختی سے نمٹا جائے گا۔حکومت نے فیصلہ کیا ہے آزادی مارچ کے شرکاء نے دھرنا دیا تو بھی مذاکرات ہونگے، اپوزیشن کے لیے تشکیل کی گئی حکومتی مذاکراتی کمیٹی ہی آئندہ مذاکرات کرے گی اور پرویز خٹک ہی کمیٹی کی سربراہی کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے آزادی مارچ سے متعلق اپوزیشن سے ہونے والے رابطوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن معاہدے پر قائم رہتی ہے تو حکومت بھی پاسداری کرےگی۔۔وزیراعظم نے کہا کہ ا اسلام آباد کے رہائشیوں کو کسی قسم کا مسئلہ درپیش نہیں ہونا چاہیے۔اپوزیشن نے معاہدے کی خلاف ورزی کی کارروائی ہو گی۔اسپیکر اسد قیصر نے وزیراعظم کو مسئلہ کشمیر پر پارلیمانی سفارتکاری سے آگاہ کیا اور پارلیمنٹ میں قانون سازی اور ایوان کے موثر کردار پر بھی بات چیت کی۔اسپیکر نے سیاسی صورت حال اور حزب اختلاف سے رابطوں پر وزیراعظم کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو پیغام دیا ہے امن و امان کی صورت حال پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، کسی بھی قسم کا سیاسی انتشار نہیں پھیلنا چاہیے، اپوزیشن ارکان سے مسلسل رابطے میں ہیں اور معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے حکومتی اور پارٹی ترجمانوں کو ہدایت کی ہے کہ آزادی مارچ پاکستان کو عدم استحکام کی طرف لے جانے کا مارچ ہے، اپوزیشن کے مارچ کا بھرپور سیاسی مقابلہ کیا جائے۔سلام آباد میں وزیر اعظم کی زیر صدارت پارٹی اور حکومتی ترجمانوں کا اجلاس بلایا گیا، جس میں اپوزیشن کے آزادی مارچ کا بھرپور سیاسی مقابلہ کرنے کا عزم دہرایا گیا، اور مارچ کے پس پردہ اپوزیشن کے مقاصد میڈیا میں بے نقاب کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ترجمانوں کے اجلاس میں شرکا نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آزادی مارچ سے سیاسی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے، وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ عوام کو حکومت کی معاشی کامیابیوں سے آگاہ کیا جائے، اس دوران نواز شریف کی بیماری کو موضوع نہ بنایا جائے، جبکہ حکومتی اور پارٹی ترجمان مارچ کے دوران اسلام آباد میں رہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے اجلاس میں موجودہ میڈیا حکمت عملی پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ وزرا میڈیا پر اپنی وزارتوں سے متعلق شرکت یقینی بنائیں، ذاتی ایجنڈے کی بجائے حکومتی پالیسی کا دفاع کیا جائے اور حکومتی اقدامات اور پالیسی کو مو¿ثر انداز میں اجاگر کیا جائے۔وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ آزادی مارچ کا پارٹی بیانیے سے مقابلہ کیا جائے، ملک معاشی خوش حالی کی جانب بڑھ رہا ہے، لیکن کچھ عناصر ملکی ترقی کے سفر میں رکاوٹیں ڈالنے پر تلے ہیں، کوشش ہے کہ سیاسی طور پر معاملہ حل کیا جائے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ چھوٹے کسانوں کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، زرعی پالیسی چھوٹے کسانوں کو سہولت فراہم کرنے میں حکومت کے عزم کی مظہر ہے، چھوٹے کسانوں کی سہولت کاری سے غربت کے خاتمے اور معاشی حالات میں بہتری آئے گی، صوبوں کے درمیان روابط کو مزید بڑھایا جائے۔ بدھ کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں زرعی پیداوار خصوصا چھوٹے کسانوں کی سہولت کاری کے حوالے سے اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر فوڈ سکیورٹی صاحبزادہ محبوب سلطان، وزیر توانائی عمر ایوب خان، مشیر تجارت عبدالرزاق داود، معاونین خصوصی ندیم بابر، ڈاکٹر فردوس عاشق عوان، یوسف بیگ مرزا، ممبر قومی اسمبلی اسد عمر اور سینئر افسران شریک تھے ۔اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ چھوٹے کسانوں کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، حکومت کی زرعی پالیسی کسانوں اور خاص طور پر چھوٹے کسانوں کو سہولت فراہم کرنے میں حکومت کے اس عزم کی مظہر ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ چھوٹے کسانوں کی سہولت کاری سے نہ صرف مقامی زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ اس سے غربت کے خاتمے اور معاشی حالات میں بہتری آئے گی۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ صوبوں کے درمیان روابط کو مزید بڑھایا جائے تاکہ زرعی شعبے میں اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔دوسری طرف وفاقی حکومت نے اپوزیشن کے آزادی مارچ سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی طے کر لی۔ وزارت داخلہ نے حساس مقامات کی سیکیورٹی فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، سکیورٹی کےلئے پہلے لیول پر پولیس، دوسرے لیول پر رینجرز اور حساس مقامات کی حفاظت کےلئے آرمی کی خدمات لی جائیں گی۔ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور ہر قسم کے اسلحے کے داخلے پر پابندی عائد ہوگی ،اس کو یقینی بنانے کےلئے باقائدہ چیکنگ کا لائحہ عمل تیار کرلیا گیا ہے۔جلسہ گاہ اور مارچ کی فضائی نگرانی بھی کی جائیگی۔بدھ کو وزارت داخلہ میں اپوزیشن کے آزادی مارچ کے حوالے سے سکریٹری داخلہ کی زیرصدارت اہم اجلاس ہوا۔اجلاس میں اسلام آباد انتظامیہ سمیت تمام قانون نافذ کرنیوالے اداروں، فوج اور رینجرز کے نمائندوں کی شرکت چیف کمیشنر اور آئی جی اسلام آباد نے شرکت کی۔اجلاس میں آزادی مارچ سے متعلق معا ملات زیر غور لائے گئے اور مارچ کے حوالے سے کئے جانے والے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت معاہد ے کی پاسداری کرنے والوں کے ساتھ مکمل تعاون کریگی، مارچ کے شرکا ءکو براستہ روات طے شدہ روٹ کے زریعے اسلام آباد آنے کی اجازت دی جائیگی۔اجلاس میں انتظامیہ کو ہدایت دی گئی کہ اسلام آباد میں شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے اور روزمرہ زندگی کو کسی صورت متاثر نہ کرنے دی جائے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور ہر قسم کے اسلحے کے داخلے پر پابندی عائد ہوگی ،اس کو یقینی بنانے کےلئے باقائدہ چیکنگ کا لائحہ عمل تیار کرلیا گیا ہے، یہ لائحہ عمل جے یو آئی ا یف کی قیادت سے شیئر کیا گیا ہے۔اجلاس کے شرکاءکو بتایا گیا کہ اسلام آباد میں مقیم اور گردنواح سے آنے لوگوں کی سہولت کے لئے ٹریفک پلان مرتب کیا گیا ہے، جس میں متبادل راستوں کی تفصیل عوام کو دی جائیگی، اس پلان کو پرنٹ اور الکٹرنک میڈیا کے ذریعے بھی عوام تک پہنچایا جائے گا۔اہم اجلاس میں آزادی مارچ کے حوالے سے تمام خطرات اور مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ معاہدے کے مطابق ریڈزون میں داخلہ ممنوع ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سکیورٹی کےلئے پہلے لیول پر پولیس، دوسرے لیول پر رینجرز اور حساس مقامات کی حفاظت کےلئے آرمی کی خدمات لی جائیں گی ۔معاہدے کی پاسداری نہ ہونے کی صورت میں پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے آئی جی اسلام آباد اور رینجرز کے حکام نے بریفنگ دی ۔ اسلام آباد پولیس اور باہر سے آنے والی نفری کے انتظامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔وزارت داخلہ کی جانب سے راستوں اور دیگر حساس مقامات کا مکمل جائزہ لیا گیااور جلسہ گاہ اور مارچ کا فضائی جائزہ لینے کی ہدایات دی گئی۔اجلاس میں معاہدے اور دئےے گئے پلان پر عمل کرنے والوں کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کی ہدایت کی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی اور بدمزگی کی صورت میں انتظامیہ حرکت میں آئیگی۔انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد عامر ذوالفقار خان نے جمعیت علماءاسلام (ف) کے آزادی مارچ کے حوالے سے مختص جگہ (جلسہ گاہ) کا دورہ کرکے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا اور جلسے کے منتظمین سے ملاقات کی اس موقع پر آئی جی کو جلسے کے سکیورٹی پلان پر بریفنگ دی گئی‘ آئی جی نے جلسے کے منتظمین کو فول پروف سکیورٹی کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر آئی جی اسلام آباد نے آزادی مارچ ریلی کے منتظمین سے ملاقات بھی کی اور انہیں اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ ریلی اور جلسے کو فول پروف سکیورٹی مہیا کی جائے گی تاہم قانون کی پاسداری کرنا آزادی مارچ کے شرکاءسمیت ہر شہری پر لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کے افسران و جوان کا مورال بلند ہے ہر قسم کے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں اسلام آباد پولیس کے افسران و جوان میرا قیمتی سرمایہ ہیں۔ آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرنا ہمارا اولین فرض ہے قانون کا احترام سب پر لازم ہے جہاں قانون شکنی ہوگی وہاں ایکشن لیں گے۔ راولپنڈی میں آزادی مارچ کے شرکاءکی آمد کے پیش نظر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ،کسی بھی گڑ بڑ سے نمٹنے کے لئے رینجرز کو بھی طلب کر.لیا ،رینجرز کے دستے مری روڈ فیض آباد اور دیگر اہم.مقامات پر تعینات ہو نگے ،حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے اسلام آباد پہنچنے پر مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بدھ کو یہاں اپوزیشن سے مذاکرات کے لئے وزیراعظم عمران کی جانب سے تشکیل کردہ حکومتی مذاکراتی ٹیم کا اجلاس پارلیمنٹ ہاو¿س میںہوا اجلاس میں وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں حکمت عملی پر مشاورت کیگ گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے مذاکراتی کمیٹی کو معاملے کو سیاسی طور پر حل کرنے کی ہدایت دی تھی، جس پر حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے اسلام آباد پہنچنے پرمولانا فضل الرحمان سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ معاہدہ کی پاسداری یقینی بنانے کے لیے اپوزیشن سے مسلسل رابطے رکھے جائیں گے

عمران خان

مزید : صفحہ اول