مارچ دھرنے میں تبدیل کردینگے : مولانا فضل الرحمن ، مارچ سیاسی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہت معاملے کو سیاسی طریقے سے حل کریں : عمرا ن خان

      مارچ دھرنے میں تبدیل کردینگے : مولانا فضل الرحمن ، مارچ سیاسی عدم ...

  

لاہور ، فیروز والہ ، مریدکے ، گوجرانوالہ (جنرل رپورٹر ، نمائندہ خصوصی ،نمائندگان ،بیورو رپورٹس ، نیوز ایجنسیاں) کراچی سے شروع ہونے والا جمعیت علمائے اسلام کا آزادی مارچ لاہور میں رات قیام کے بعد اسلام آباد روانہ ہو گیا جو رات گئے تک اسلام آباد کی طرف رواں دواں تھاگا۔۔مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے ٹھوکر نیاز بیگ چوک، چوک یتم خانہ، موڑ سمن آباد، چوبرجی، داتا صاحب، آزادی فلائی اوور اور نیازی شہید چوک میں استقبالیہ کیمپ لگائے گئے تھے۔اسلام آباد کے راستوں میں مختلف مقامات پر حلیف جماعتوں کی جانب سے استقبالیہ کیمپ بھی لگادیئے گئے ۔ ن لیگ، پیپلزپارٹی اور جے یو آئی کا بڑا استقبالیہ کیمپ روات ٹی چوک پر قائم جہاں سے قافلہ اسلام آباد میں داخل ہوگا۔ روات میں مسلم لیگ ن کے رہنما طارق فضل چوہدری شرکائے آزادی مارچ کا استقبال کریں گے۔دوسرا استقبالیہ کیمپ 26 نمبر چنگی پر قائم کیا جائے گا جہاں ن لیگی رہنما انجم عقیل سمیت دیگر رہنما آزادی مارچ کے شرکا کا استقبال کریں گے۔آزادی مارچ کے شرکا آج شام ٹی چوک میں قیام کریں گے اور آج بروز جمعرات اسلام آباد میں داخل ہوں گے۔لاہو ر سے اسلام آباد روانگی سے قبل مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ اور آزادی مارچ کے قائد مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ آج کا آزادی مارچ قومی تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے اور ہم اسی جذبہ سے آگے بڑھیں گے۔ ہم آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کو جیل کی سلاخوں سے جلد باہر لا کر عوام میں دیکھنا چاہتے ہیں۔مولانا فضل الرحمن نے ملک بھر کے تاجروں کے مطالبات کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آزادی مارچ ملک کے ہر مظلوم طبقہ کی آواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ 2018ءکے الیکشن میں بدترین دھاندلی ہوئی جس کے نتائج ہم تسلیم نہیں کرتے، اول دن سے ہمارا موقف یہی رہا ہے کہ ووٹ قوم کی امانت ہے اور ہم قوم کی امانت قوم کو واپس لوٹانا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ناجائز ہے اور موجودہ حکومت ایک سالہ کارکردگی کی بنیاد پر بھی نااہل ہو چکی ہے۔ آج کے آزادی مارچ کو پاکستان کے ہر شہری کی حمایت حاصل ہے، آج پاکستان کے عوام پاکستان بقاءکی جنگ لڑنا پڑے گی اور ہم پاکستان کی بقاءکی جنگ لڑیں گے، انہوں نے کہا کہ آج ڈاکٹرز سڑکوں پر ہیں، اساتذہ کو اسلام آباد کی سڑکوں پر گھسیٹا گیا ہے، ملک بھر کے تاجر ہڑتال پر ہیں، لوگ مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، حکومت نے پچاس لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کیا اور کسی گھر پر ایک اینٹ بھی نہیں رکھی، حکومت نے نوجوانوں کو روزگار کا خواب دکھایا اور لاکھوں نوجوانوں کو بے روزگار کر دیا، آج مغربی معیشت کے وفادار پاکستان کی معیشت کو مغرب کے ہاتھوں میں گروی رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وہ پاکستان کی بقاءاور سلامتی کے لئے جان سے گزرنے والوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ ہم نے 9 ماہ میں پندرہ ملین مارچ کئے جن میں امن آشتی کا مظاہرہ کیا جو قابل ستائش ہے۔ 27 اکتوبر سے کراچی سے یہ امن مارچ چلا ہے اور آج لاہور پہنچا ہے پورے راستے میں کسی ایک شخص کو خراش تک نہیں آئی جو ثابت کرتا ہے کہ ہمارے کارکن پرامن ہیں اور امن پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے آزادی جلسے میں مختلف اپوزیشن جماعتوں رہنماﺅں کی شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کسی وجہ سے جو لوگ گھروں میں رہ گئے ہیں وہ بھی اس امن مارچ کا حصہ ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی سینٹرل پنجاب کے صدر قمرالزمان کائرہ نے کہا ہے کہ سلیکٹڈ وزیراعظم کو اب گھر جانا چاہئے اور ملک میں سیاستدانوں کو ہی سیاست کرنی چاہئے انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ کا قافلہ بڑھتا چلا جا رہا ہے اور ملک بھر سے قافلے آزادی مارچ میں شریک ہونگے قمرالزمان کائرہ نے کامیاب آزادی مارچ پر مولانا فضل الرحمن کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب موجودہ حکمرانوں سے نجات کا وقت آگیا ہے مرکز جمعیت اہلحدیث کے سربراہ پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ وہ مولانا بارے نازیبا الفاظ استعمال کرنے والوں کی مذمت کرتے ہیں انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ اب عمران خان پاکستان چھوڑ دو ۔ عمران خان کے ہوتے ہوئے حالات بگڑ سکتے ہیں سدھر نہیں سکتے ملک اور جمہوریت سمیت عوام کو بچانا ہے تو عمران خان کو گھر جانا ہوگا ورنہ پاکستان کے عوام انہیں گھر بھیج کر دم لیں گے۔ پروفیسر ساجد میر کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج جو مہنگائی ہے پہلے کبھی نہ تھی ادویات بھی عوام کی پہنچ سے دور ہوگئی ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ‘جس میں سربراہ جے یو آئی (ف) نے قائد (ن) لیگ نواز شریف کی صحت سے متعلق دریافت کیا،مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ میں لیگی کارکنوں کی شرکت پر شکریہ بھی ادا کیا اور نواز شریف سے ملاقات اور ان کی عیادت کی خواہش کا اظہار کیا۔دونوں رہنماوں کے درمیان موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا ۔مرید کے سے نامہ نگار کے مطابق جمعیت علماءاسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے استقبال کرنے والوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم قوم کی امانت ووٹ کو عزت دلا کر واپس لوٹیں گے اور اسلام کے نام پر حاصل کئے جانے والے ملک میں اسلام کا بول بالا کرائیںگے۔ رات آٹھ بجے کے قریب مریدکے سے گزرنے والے 'آزادی مارچ'کے قافلے کا استقبال کرنے والے مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی کثیر تعداد سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سلیکٹڈ حکومت نے ملکی معیشت کو تباہ کرکے ملک کو تباہ کیا ہے اور ہم ملک کو بچانے اور اس کی بقاءکی جنگ لڑنے اسلام آباد جا رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ عوام میاں نواز شریف کی صحت کی دعا کریں اور ہمیں اپنی دعاو¿ں اور محبتوں سے نوازیں۔ وزیر اعظم نیازی کی حکومت کے خاتمہ تک 'آزادی مارچ'کو آزادی دھرنا میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ قومی اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر رانا تنویر حسین، سابق ایم این اے رانا افضال حسین، سابق چیئرمین ضلع کونسل شیخوپورہ رانا احمد عتیق انور اور سابق ایم پی اے حاجی مشتاق احمد گجر کی قیادت میں سینکڑوں کارکن صبح دس بجے ہی جی ٹی روڈ پر پہنچ کر 'آزادی مارچ'کے قافلے کا انتظار کرنے لگے۔ مقامی رہنما تقاریر کے ذریعے کارکنوں کا لہو گرماتے رہے۔ میلوں لمبا آزادی مارچ کا قافلہ رات 7:50منٹ پر مریدکے پہنچا اورایک گھنٹہ بعد شہر کی حدود سے باہر نکلا۔ لیگی رہنماو¿ں کے مطابق ان کے کارکنوں کی کثیر تعداد بھی مارچ کے ساتھ اسلام آباد جائے گی۔فیروز والہ میں خطاب میں مولا نا فضل الرحمن نے کہا آزاد ی مارچ پوری قوم کی ترجمانی کر رہا ہے ہم آئین اور پاکستان میں قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں ہم نے آئین پاکستان کو میثاق ملی تسلیم کیا ہے ۔ ہم اپنے آئینی حق اور وطن عزیز کی حفاظت جنگ لڑ رہے ہیں ۔ موجود ہ حکومت جعلی اور ناجائز ہے اس کو ہم تسلیم نہیں کرتے ہیں امسلم لیگ (ن)کےارکان اسمبلی ملک ریاض احمد ،پیر اشرف رسول اور کارکنوں نے مولانا فضل الرحمن پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے استقبال کیااس موقع پر مولانا فضل الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کامیاب آزادی مارچ پر پوری قوم کو سلام پیش کرتا ہوں آج قوم دو حق مانگ رہی ہے جو آئین پاکستان نے دیا آج آزادی مارچ میں تمام سیاسی جماعتیں شامل ہیں سب کا اتفاق ہے کہ یہ حکومت جعلی ہے اور اسکو تسلیم نہیں کرتے ووٹ کو عزت دو کابھی نعرہ لگایا آخر میں مولانا فضل الرحمن نے میاں نواز شریف اور آصف زرداری کی صحت یابی کیلئے خصوصی دعا کی انہوں نے مزید کہا کہ داتا کی نگری میاں میر کے شہر احمد علی کے شہر میں عوام نے جو آزادی مارچ کا استقبال کیا ہے اس کو ہم سراہتے ہیں ٹرک میں سوار سٹیج سیکریٹری نے ایک نمایاں نعرہ لگایا ایک ٹکے کے دو رخ جنرل نیازی اور عمران نیازی مولانا فضل الرحمن شاہدرہ چوک میں 5:15بجے پہنچے اور کنٹینر پر ہی عوام سے خطاب کیا ۔اس سے قبل نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وزیراعظم عمران خان استعفیٰ دیں گے،اسلام آباد پہنچنے پر عوامی رائے کا احترام نہ کیا تو آزادی مارچ مزید سخت ہو گا،اسلام آباد میں ہم اپنے مطالبات رکھیں گے، ایسا نہیں کہ اسلام آباد پہنچنے پرنتائج نہ ملنے پر تحریک رکے گی بلکہ تحریک کی کامیابی کی جدوجہد جاری رہے گی، ڈاکٹرز کی جانب سے نواز شریف سے ملنے سے روکا گیا ۔جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں میاں صاحب سے ملنے جانا چاہتا تھ، ڈاکٹر نے رابطہ کیا اور کہا کہ سابق وزیراعظم کا علاج جاری ہے ان سے ملاقات نہ کی جائے، نواز شریف کی طبیعت کے باعث ڈاکٹرز نے نواز شریف سے ملنے سے روکا ہے، میں ڈاکٹرز کے منع کرنے پر سروسز ہسپتال نہیں جا رہا۔ صحافی نے سوال کیا کہ اسلام آباد میں دھرنا ہو گا یا دوستی ہو گی؟جس پر مولانا فضل الرحمان نے جواب دیا کہ اسلام آباد میں ہم اپنے مطالبات رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وزیراعظم عمران خان استعفیٰ دیں گے،اسلام آباد دھرنے کا نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ اسلام آباد پہنچنے پرنتائج نہ ملنے پر تحریک رکے گی بلکہ تحریک کی کامیابی کی جدوجہد جاری رکھوں گا،اگر اسلام آباد پہنچنے پر عوامی رائے کا احترام نہ کیا گیا تو آزادی مارچ مزید سخت ہو گا، کون کہتا ہے کہ فضل الرحمان اسلام آباد نہیں پہنچے گا۔

آزادی مارچ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) آزادی مارچ اور دھرنا سے نمٹنے کے لئے وفاقی حکومت نے حکمت عملی مرتب کرلی، آزادی مارچ کے شرکا نے دھرنا دیا تو مذاکرات ہوں گے، انتشار کی صورت میں طاقت کا استعمال آخری آپشن ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ سے متعلق وزیراعظم کے زیر صدارت حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس ہوا، مذاکراتی کمیٹی نے وزیراعظم کو موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی، مذاکرانی کمیٹی کو آئندہ کے لائحہ عمل پر وزیراعظم نے ہدایات بھی دیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے کمیٹی کو مکمل اختیار دے دیا۔ و، مارچ کے شرکاء نے معاہدہ توڑا یا ریڈ زون داخل ہوئے تو سختی سے نمٹا جائے گا۔حکومت نے فیصلہ کیا ہے آزادی مارچ کے شرکاء نے دھرنا دیا تو بھی مذاکرات ہونگے، اپوزیشن کے لیے تشکیل کی گئی حکومتی مذاکراتی کمیٹی ہی آئندہ مذاکرات کرے گی اور پرویز خٹک ہی کمیٹی کی سربراہی کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے آزادی مارچ سے متعلق اپوزیشن سے ہونے والے رابطوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن معاہدے پر قائم رہتی ہے تو حکومت بھی پاسداری کرےگی۔۔وزیراعظم نے کہا کہ ا اسلام آباد کے رہائشیوں کو کسی قسم کا مسئلہ درپیش نہیں ہونا چاہیے۔اسپیکر اسد قیصر نے وزیراعظم کو مسئلہ کشمیر پر پارلیمانی سفارتکاری سے آگاہ کیا اور پارلیمنٹ میں قانون سازی اور ایوان کے موثر کردار پر بھی بات چیت کی۔اسپیکر نے سیاسی صورت حال اور حزب اختلاف سے رابطوں پر وزیراعظم کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو پیغام دیا ہے امن و امان کی صورت حال پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، کسی بھی قسم کا سیاسی انتشار نہیں پھیلنا چاہیے، اپوزیشن ارکان سے مسلسل رابطے میں ہیں اور معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے حکومتی اور پارٹی ترجمانوں کو ہدایت کی ہے کہ آزادی مارچ پاکستان کو عدم استحکام کی طرف لے جانے کا مارچ ہے، اپوزیشن کے مارچ کا بھرپور سیاسی مقابلہ کیا جائے۔سلام آباد میں وزیر اعظم کی زیر صدارت پارٹی اور حکومتی ترجمانوں کا اجلاس بلایا گیا، جس میں اپوزیشن کے آزادی مارچ کا بھرپور سیاسی مقابلہ کرنے کا عزم دہرایا گیا، اور مارچ کے پس پردہ اپوزیشن کے مقاصد میڈیا میں بے نقاب کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ترجمانوں کے اجلاس میں شرکا نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آزادی مارچ سے سیاسی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے، وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ عوام کو حکومت کی معاشی کامیابیوں سے آگاہ کیا جائے، اس دوران نواز شریف کی بیماری کو موضوع نہ بنایا جائے، جبکہ حکومتی اور پارٹی ترجمان مارچ کے دوران اسلام آباد میں رہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے اجلاس میں موجودہ میڈیا حکمت عملی پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ وزرا میڈیا پر اپنی وزارتوں سے متعلق شرکت یقینی بنائیں، ذاتی ایجنڈے کی بجائے حکومتی پالیسی کا دفاع کیا جائے اور حکومتی اقدامات اور پالیسی کو مو¿ثر انداز میں اجاگر کیا جائے۔وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ آزادی مارچ کا پارٹی بیانیے سے مقابلہ کیا جائے، ملک معاشی خوش حالی کی جانب بڑھ رہا ہے، لیکن کچھ عناصر ملکی ترقی کے سفر میں رکاوٹیں ڈالنے پر تلے ہیں، کوشش ہے کہ سیاسی طور پر معاملہ حل کیا جائے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ چھوٹے کسانوں کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، زرعی پالیسی چھوٹے کسانوں کو سہولت فراہم کرنے میں حکومت کے عزم کی مظہر ہے، چھوٹے کسانوں کی سہولت کاری سے غربت کے خاتمے اور معاشی حالات میں بہتری آئے گی، صوبوں کے درمیان روابط کو مزید بڑھایا جائے۔ بدھ کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں زرعی پیداوار خصوصا چھوٹے کسانوں کی سہولت کاری کے حوالے سے اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر فوڈ سکیورٹی صاحبزادہ محبوب سلطان، وزیر توانائی عمر ایوب خان، مشیر تجارت عبدالرزاق داود، معاونین خصوصی ندیم بابر، ڈاکٹر فردوس عاشق عوان، یوسف بیگ مرزا، ممبر قومی اسمبلی اسد عمر اور سینئر افسران شریک تھے ۔اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ چھوٹے کسانوں کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، حکومت کی زرعی پالیسی کسانوں اور خاص طور پر چھوٹے کسانوں کو سہولت فراہم کرنے میں حکومت کے اس عزم کی مظہر ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ چھوٹے کسانوں کی سہولت کاری سے نہ صرف مقامی زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ اس سے غربت کے خاتمے اور معاشی حالات میں بہتری آئے گی۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ صوبوں کے درمیان روابط کو مزید بڑھایا جائے تاکہ زرعی شعبے میں اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔دوسری طرف وفاقی حکومت نے اپوزیشن کے آزادی مارچ سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی طے کر لی۔ وزارت داخلہ نے حساس مقامات کی سیکیورٹی فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، سکیورٹی کےلئے پہلے لیول پر پولیس، دوسرے لیول پر رینجرز اور حساس مقامات کی حفاظت کےلئے آرمی کی خدمات لی جائیں گی۔ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور ہر قسم کے اسلحے کے داخلے پر پابندی عائد ہوگی ،اس کو یقینی بنانے کےلئے باقائدہ چیکنگ کا لائحہ عمل تیار کرلیا گیا ہے۔جلسہ گاہ اور مارچ کی فضائی نگرانی بھی کی جائیگی۔بدھ کو وزارت داخلہ میں اپوزیشن کے آزادی مارچ کے حوالے سے سکریٹری داخلہ کی زیرصدارت اہم اجلاس ہوا۔اجلاس میں اسلام آباد انتظامیہ سمیت تمام قانون نافذ کرنیوالے اداروں، فوج اور رینجرز کے نمائندوں کی شرکت چیف کمیشنر اور آئی جی اسلام آباد نے شرکت کی۔اجلاس میں آزادی مارچ سے متعلق معا ملات زیر غور لائے گئے اور مارچ کے حوالے سے کئے جانے والے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت معاہد ے کی پاسداری کرنے والوں کے ساتھ مکمل تعاون کریگی، مارچ کے شرکا ءکو براستہ روات طے شدہ روٹ کے زریعے اسلام آباد آنے کی اجازت دی جائیگی۔اجلاس میں انتظامیہ کو ہدایت دی گئی کہ اسلام آباد میں شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے اور روزمرہ زندگی کو کسی صورت متاثر نہ کرنے دی جائے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور ہر قسم کے اسلحے کے داخلے پر پابندی عائد ہوگی ،اس کو یقینی بنانے کےلئے باقائدہ چیکنگ کا لائحہ عمل تیار کرلیا گیا ہے، یہ لائحہ عمل جے یو آئی ا یف کی قیادت سے شیئر کیا گیا ہے۔اجلاس کے شرکاءکو بتایا گیا کہ اسلام آباد میں مقیم اور گردنواح سے آنے لوگوں کی سہولت کے لئے ٹریفک پلان مرتب کیا گیا ہے، جس میں متبادل راستوں کی تفصیل عوام کو دی جائیگی، اس پلان کو پرنٹ اور الکٹرنک میڈیا کے ذریعے بھی عوام تک پہنچایا جائے گا۔اہم اجلاس میں آزادی مارچ کے حوالے سے تمام خطرات اور مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ معاہدے کے مطابق ریڈزون میں داخلہ ممنوع ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سکیورٹی کےلئے پہلے لیول پر پولیس، دوسرے لیول پر رینجرز اور حساس مقامات کی حفاظت کےلئے آرمی کی خدمات لی جائیں گی ۔معاہدے کی پاسداری نہ ہونے کی صورت میں پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے آئی جی اسلام آباد اور رینجرز کے حکام نے بریفنگ دی ۔ اسلام آباد پولیس اور باہر سے آنے والی نفری کے انتظامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔وزارت داخلہ کی جانب سے راستوں اور دیگر حساس مقامات کا مکمل جائزہ لیا گیااور جلسہ گاہ اور مارچ کا فضائی جائزہ لینے کی ہدایات دی گئی۔اجلاس میں معاہدے اور دئےے گئے پلان پر عمل کرنے والوں کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کی ہدایت کی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی اور بدمزگی کی صورت میں انتظامیہ حرکت میں آئیگی۔انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد عامر ذوالفقار خان نے جمعیت علماءاسلام (ف) کے آزادی مارچ کے حوالے سے مختص جگہ (جلسہ گاہ) کا دورہ کرکے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا اور جلسے کے منتظمین سے ملاقات کی اس موقع پر آئی جی کو جلسے کے سکیورٹی پلان پر بریفنگ دی گئی‘ آئی جی نے جلسے کے منتظمین کو فول پروف سکیورٹی کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر آئی جی اسلام آباد نے آزادی مارچ ریلی کے منتظمین سے ملاقات بھی کی اور انہیں اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ ریلی اور جلسے کو فول پروف سکیورٹی مہیا کی جائے گی تاہم قانون کی پاسداری کرنا آزادی مارچ کے شرکاءسمیت ہر شہری پر لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کے افسران و جوان کا مورال بلند ہے ہر قسم کے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں اسلام آباد پولیس کے افسران و جوان میرا قیمتی سرمایہ ہیں۔ آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرنا ہمارا اولین فرض ہے قانون کا احترام سب پر لازم ہے جہاں قانون شکنی ہوگی وہاں ایکشن لیں گے۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -