عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں: ڈاکٹر عذرا پیچوہو 

عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں: ڈاکٹر عذرا پیچوہو 

  

حیدرآباد (بیورو رپورٹ)صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے لیاقت یونیورسٹی اسپتال حیدرآباد کے مختلف وارڈوں کا دورہ کیا جہاں زیر علاج مریضوں سے علاج معالجے کی صورتحال پر معلومات کی۔ انہوں نے ہسپتال کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ صوبائی حکومت عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے کوشاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ کے سرکاری اسپتالوں کو جدید مشینری اور دیگر سہولیات سے آراستہ کیا جارہا ہے۔ ان کے ساتھ سول اسپتال حیدرآباد کے دورے کے موقع پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر مبین احمد میمن، ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر مسعود سولنگی، ڈائریکٹر ایڈمن عبدالستار جتوئی، اے ایم ایس جنرل ڈاکٹر شوکت علی لاکھو، اے ایم ایس ڈاکٹر شاہد جونیجو سمیت دیگر ذمہ داران موجود تھے۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے اسپتال میں نئے بنائے جانے والے 50بیڈ کے آئی سی یو کے دورے کے موقع پر وہاں زیر علاج مریضوں سے علاج معالجے کی تفصیلات دریافت کی اور اطمینان کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ صوبائی وزیر صحت اسپتال میں قائم نیفرولوجی وارڈ، یورولوجی وارڈ، میڈیکل آئی سی یو، ٹراما ٹولوجی یونٹ سمیت دیگر وارڈز کے دورے میں اسپتال انتظامیہ کی جانب سے مریضوں کو دی جانے والی علاج معالجے کی سہولیات کا جائزہ لیا۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر مبین احمد میمن نے صوبائی وزیر صحت کو اسپتال کی مجموعی کارکردگی پر مختصر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اسپتال میں جدید طرز کا پیڈز آئی سی یو بھی جلد کام شروع کر دے گا جس سے نہ صرف حیدرآباد بلکہ سندھ کے 15 سے زائد اضلاع کے مریضوں کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اسپتال میں جدید طرز کی مشینری اور پتھالوجی ٹیسٹوں، ایم آر آئی، سی ٹی اسکین کی سہولیات کے علاوہ مختلف اقسام کے آپریشن اور علاج معالجے کی بہتر سے بہتر سہولیات کی وجہ سے اسپتال میں مریضوں کے رش میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔صوبائی وزیر صحت نے کہاکہ موجودہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لیاقت یونیورسٹی اسپتال حیدرآباد و جامشورو میں آپریشن تھیٹرز اور آئی سی یو سمیت دیگر شعبہ جات کیلئے مشینری کی مد میں کروڑوں روپے کے فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے اسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ غریب مریضوں کے علاج معالجے کیلئے کسی قسم کی کوئی کسر نہ اٹھائی رکھی جائے۔ 

مزید :

صفحہ اول -