اثاثوں میں ہتھیار ظاہر کرنے میں ارکان سندھ اسمبلی بازی لے گئے 

        اثاثوں میں ہتھیار ظاہر کرنے میں ارکان سندھ اسمبلی بازی لے گئے 

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)ارکان اسمبلی کی جانب سے ظاہر کردہ اثاثوں میں سندھ اسمبلی کے ارکان کے پاس باقی تینوں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی ملکیت میں موجود ہتھیاروں سے تقریبا دوگنا ہتھیار ہیں۔سال 2018 کے لیے ارکان اسمبلی کی جانب سے جمع کروائے گئے اثاثوں کے مطابق  چاروں صوبائی اسمبلیوں سے تعلق رکھنے والے 71 ارکان نے اپنے ذاتی ہتھیار ظاہر کیئے ہیں،جن میں 47ارکان کا تعلق سندھ اسمبلی جبکہ بقیہ24کا تعلق دیگر تینوں اسمبلیوں سے ہے۔ظاہر کردہ اثاثوں کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن سندھ اسمبلی نواب سردار خان چانڈیوکے پاس سب سے زیادہ 60 لاکھ روپے مالیت کے ہتھیار موجود ہیں، جس کے بعد سابق صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن 25 لاکھ روپے کے ہتھیاروں کے مالک ہیں۔سندھ اسمبلی کے دیگر ارکان جن کے ہتھیاروں کی مالیت 10 لاکھ روپے سے زائد ہے ان میں سابق صوبائی میر نادر علی مگسی18لاکھ روپے،علی حسن زرداری17لاکھ روپے،فریال تالپور14لاکھ80 ہزار روپے جبکہ سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی اور وزیر ایکسائز مکیش کمار چاؤلہ کے پاس 15، 15 لاکھ روپے کے ہتھیار ہیں۔اسی طرح وزیر انٹی کرپشن وآب پاشی سہیل انور سیال نے اپنے اثاثوں میں 8لاکھ46ہزار روپے کے ہتھیار ظاہر کیے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈرحلیم عادل شیخ نے 9 لاکھ 32 ہزار روپے کے ہتھیارظاہر کیئے ہیں۔

مزید : صفحہ اول