باباگرونانک یونیورسٹی کا قیام نہایت اہمیت کاحامل ہے،مومنہ وحید

باباگرونانک یونیورسٹی کا قیام نہایت اہمیت کاحامل ہے،مومنہ وحید

  



لاہور(سٹی رپورٹر)چیئر پرسن سٹینڈنگ کمیٹی برائے وزیر اعلیٰ معائنہ ٹیم و رکن پنجاب اسمبلی مومنہ وحید نے کہا ہے کہ بابا گرو نانک یونیورسٹی کا قیام نہایت اہمیت کا حامل ہے، جس کی تعمیر پر 6 ارب روپے لاگت آئے گی اور اس یونیورسٹی کو 3 فیز میں مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کا فروغ تحریک انصاف کی حکومت کا اولین ایجنڈا ہے، بابا گرو نانک یونیورسٹی کے قیام سے نہ صرف علاقے کے لوگوں کو بے پناہ فائدہ پہنچے گا بلکہ دنیا بھر کے لوگ خصوصاً سکھ برادری بھی اس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرے گی۔

، پنجاب حکومت نے ایک برس کے دوران صوبے میں 8 یونیورسٹیاں اور 5 انسٹی ٹیوٹس قائم کرنے کا احسن فیصلہ کیا ہے، بعض تعلیمی اداروں میں کلاسز کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ کچھ تعلیمی اداروں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ننکانہ صاحب میں 7 ارب روپے سے زائد کے 21 ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے جبکہ 2 لینڈ ریکارڈ سینٹرز رواں سال کے آخر تک مکمل ہو جائیں گے، ننکانہ صاحب میں پولیس لائنز اور ڈسٹرکٹ جیل کی عمارت بھی تعمیر کی جائے گی، بے گھر مزدور بھائیوں کے لئے وار برٹن کی لیبرکالونی میں 208 فلیٹس الاٹ کئے گئے ہیں، لیبر کالونی کا فیز 2 بھی بنائیں گے، ننکانہ صاحب میں سینٹر آف ایکسیلینس کی تعمیرکا منصوبہ جلد پایہ تکمیل کو پہنچ رہا ہے، سینٹر آف ایکسیلنس میں غریب بچے اعلیٰ اور معیاری تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ننکانہ صاحب میں صحت انصاف کارڈ کا اجراء کر دیا گیا ہے۔

مومنہ

مزید : میٹروپولیٹن 1