خیبر پختونخوا سے اپوزیشن جماعتوں کا آزادی مارچ میں شرکت کا فیصلہ 

خیبر پختونخوا سے اپوزیشن جماعتوں کا آزادی مارچ میں شرکت کا فیصلہ 

  

بٹ خےلہ (بیورورپورٹ) ملا کنڈ کے تمام سےاسی پارٹےوں نے 31اکتوبر کی آزادی مارچ مےں بھر پور شرکت کرنے کا فےصلہ کےا اگر انتظا مےہ نے گرفتارہ اور رکاوٹےں ڈالنے کی کوشش کی تو ہزاروں سےاسی کارکن قو می شاہراہ پر دھرنا اور احتجاجی مظا ہرے ہو نگے متحدہ اپوزےشن کے تمام جلوس ظفر پارک بٹ خےلہ مےں جمع ہو گی جو دےگر اضلاع کے جلوسوں مےں شامل ہوکر اسلام آباد کارخ کرےنگے ان خےالات کا اظہار جمعےت علماءاسلام ملا کنڈ کے زےر اہتمام الہ ڈھنڈ ڈھےری مےں ادرےس خان کے رہائشگاہ پر منعقدہ آل پارٹےز کانفرنس سے جمعےت علماءاسلام کے مفتی کفاےت اللہ قوم پرست رہنما ادرےس خان اے اےن پی کے ضلعی صدر اعجاز علی خان مسلم لےگ ن کے صو بائی رہنما محمد نجےم خان علی محمد پےپلز پارٹی کے رہنما وسابقہ ضلعی کونسلر سکندر حےات محمد رسول مشوانی قو می وطن پارٹی کے ٹحےصل جنرل سےکرٹری وسابقہ ناظم گل نواب خان انجمن تاجران بٹ خےلہ کے صدر حاجی شاکر اللہ مسلم لےگ ن کے رہنما محمد شفےق پر اچہ نوےد خان اور جمعےت علماءاسلام ملا کنڈ کے سوشل مےڈےا انچارج فخر عالم اورندےم کا چو خےل نے خطاب کرتے ہو ئے کےا اس موقع پر آل پارٹےز کا نفرنس کے تمام سےاسی قاےدےن نے فےصلہ کےا کہ31 کتوبر کے آزادی مارچ مےں ہر صورت مےں شرکت کرےنگے اور آزادی مارچ کو کامےاب بنا ئےنگے اور وزےر اعظم عمران نےازی کو گھر بھےج کر ہی دم لےنگے اگر حکومت نے ہمارے پر امن مارچ مےں رکاوٹےں ڈالنے کی کو شش کی تو تمام سےاسی پارٹےوں کے ہزاروں کارکن بھر پور مزاحمت کرےنگے اگر انتظا مےہ نے آزادی مارچ کے قافلے جس جگہ پر روکے تو اسی ہی جگہ پر ہزاروں کارکن قو می شاہراہ پر دھرنا دےنے پر مجبور ہو نگے اور کسی بھی ناخوشگوار واقع کی تمام تر ذمہ داری حکو مت اور انتظا مےہ پر عائد ہو گی۔

پشاور(سٹی رپورٹر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اے این پی کارکنان اپنی ماضی کو مدنظر رکھتے ہوئے احتجاجی تحریک کے حوالے سے اپنے روایات کو دہرائیں گے،اے این پی خیبرپختونخوا کے کارکنان آج 11بجے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان کی قیادت میں اسلام آباد کا رخ کرینگے،اسی طرح پنجاب،سرائیکی،بلوچستان اور سندہ کی تنظیمیں راولپنڈی میں اسفندیار ولی خان کے قافلے کا استقبال کرینگے اور ایک ساتھ اسلام آباد کی طرف روانہ ہونگے۔آزادی پیغام کے حوالے سے جاری اپنے ویڈیو پیغام میں میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اے این پی کارکنان موجودہ سلیکٹڈ حکومت کے خلاف اپنے روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے آزادی مارچ کا حصہ بنیں گے۔اے این پی خیبرپختونخوا کے کارکنان ملی مشر اسفندیار ولی خان کی قیادت میں آزادی مارچ کا حصہ بنیں گے اسی طرح دیگر صوبوں اور یونٹس کے کارکنان راولپنڈی میں مرکزی قافلے میں شامل ہوتے ہوئے مارچ کا حصہ بنیں گے۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اسلام آباد میں دکانداروں کو ہدایات جاری کردیے گئے ہیں کہ وہ لوگوں میں اشیائے خوردنوش فروخت کرنا بند کردیں،حکومت کا خیال ہے کہ اگر لوگوں کو کھانے کیلئے کچھ نہیں ملے گا تو کارکنان مارچ کو ادھورا چھوڑ کر واپس آئیں گے،سلیکٹڈ کو یاد رکھنا چاہیے کہ اُس کا مقابلہ سیاسی کارکنان اور قوتوں سے ہے،اگر پورے اسلام آباد میں خوراک پر دفعہ144بھی نافذ کردی جائے تو سیاسی کارکنان اُس وقت تک اسلام آباد میں بیٹھے رہینگے جب تک اپوزیشن کے مطالبات پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ نوازشریف اور آصف علی زرداری کی جیل میں تشویشناک حالت بارے میاں افتخارحسین نے کہا کہ سابق وزیراعظم کو آٹھ ہفتے ریلیف دینا کافی نہیں۔ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ انہیں طبی بنیادوں پر تب تک رہائی دی جاتی جب تک وہ صحتیاب نہ ہوتے کیونکہ انہیں سیاسی مخالفت کی وجہ سے نشانہ بنایا جارہا ہے، دوسری جانب سابق صدر آصف علی زرداری کو بھی طبی سہولیات فراہم نہیں کی جارہی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سابق صدر کو جیل میں جلدازجلد سہولیات فراہم کی جائیں کیونکہ انکی صحت بارے تشویشناک اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ سلیکٹڈ بار بار یہ کہہ رہا ہے کہ این آر او کے حصول کیلئے تمام کرپٹ جماعتیں اکھٹی ہوئی ہیں،انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اُن کا مقابلہ تاریخی، سیاسی،جمہوری اور آئینی جماعتوں سے ہے۔سیاسی طریقے سے وہ اپنے مطالبات پر عملدرآمد کرتے ہوئے سلیکٹڈ کو گھر بھیجیں گے،سیلکٹڈ کا مقابلہ اُن سیاسی کارکنان سے ہے جو جمہوریت کی بحالی کیلئے جیل،لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے عادی ہیں،کپتان اس خوش فہمی میں بھی نہ رہے کہ حکومت تشدد کرے گی تو سیاسی کارکنان بھاگ جائینگے، تشدد اور ظلم کو سہتے ہوئے کپتان کا مقابلہ کرنے والے سیاسی کارکنا ن اپنا حق لے کر رہیں گ

پشاور(سٹی رپورٹر)آج اسلام آباد میں ہونے والے آزادی مارچ میں قبائلی اضلاع سے لیگی کارکن ہر صورت میں شرکت کریں گے اور کارکن کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، قائدین کے حکم پر سروں پر کفن باندھ کر نکلیں گے،۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) قبائلی اضلاع کے سینئر رہنما سید ولی شاہ آفریدی ، الحاج بادشاہ آفریدی ، حاجی حضرت میر آفریدی اور کمین شاہ آفریدی نے مشترکہ بیان میں کہا کہ موجودہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے، گزشتہ 14 ماہ میں قوم کو بدترین مہنگائی، معاشی بدحالی اور بے روزگاری کے سواءکچھ نہیں دیا گیا، حکومت کی معاشی پالیسیاں ناکام ہوچکی ہیں، تاجر برادری، صنعتکار، ڈاکٹرز اور مزدوروں سمیت ہر مکتبہ فکر کے لوگ حکومت سے مایوس ہوچکے ہیں، حقیقی تبدیلی کے منتظر عوام کو مایوسی کے سواءکچھ نہیں ملا، کیونکہ بدترین مہنگائی کی وجہ سے عوام کی قوت خرید ختم ہوچکی ہے، اشیاءخورد و نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں، ذہنی اور جسمانی نشونماءکی باتیں کرنے والے سلیکٹڈ وزیر اعظم نے نوجوانوں کو ذہنی مفلوج کردیا ہے کیونکہ اس مہنگائی کے دور میں جسمانی اور ذہنی نشونما میں کارآمد پھل اور میوہ جات کی خرید اُن کی دسترس سے باہرہے۔جے یوآئی کے رُکن صوبائی اسمبلی حاجی انورحیات خان نے کہاہے کہ آج آزادی مارچ اسلام آبادمیںتحصیل نورنگ سے سینکڑوں گاڑیوں پرمشتمل قافلہ شرکت کرے گاآزادی مارچ اسلام آبادسے نااہل حکمرانوں سے اوسان خطاہوگئے ہیں‘ان خیالات کااظہاراُنہوں نے گذشتہ رویہاں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کیاانہوں نے حکومت کے دوغلی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مذاکرات اور دوسری طرف دھمکیاں دی جارہی ہے تاہم ان کے دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں جے یوآئی کے کارکن اور تمام اپوزیشن جماعتوں کے قائدین اور کارکنان متفقہ طور پر31اکتوبرکو ایک ساتھ اسلام آباد داخل ہوںگے اُنہوں نے جے یوآئی کے مرکزی رہنمامولاناحمداللہ کی شہریت کوختم کرنے کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ حکومت آزادی مارچ اسلام آبادسے نہ صرف جے یوآئی کے قائدین کوگرفتارکررہی ہے بلکہ اُن کی شہریت کوبھی ختم کردیتی ہے جس سے بیرونی دنیامیںپاکستان کی وقارپرمنفی اثرپڑرہاہے اُنہوں نے مزیدکہاکہ پاکستان کے عوام کی نظریں اس وقت صرف اور صرف جے یوآئی پر لگی ہوئی ہیں حکومت کی جانب سے ایک پر امن مارچ کو روکنے کے غلطی کی تو اس کا انجام برا ہوگا کارکنان جمعیت نے تحریک کو منطقی انجام تک پہنچانے کا عزم کیا ہے مرکزی قیادت کے فیصلوں کے مطابق اسلام آباد لاک ڈاون تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے گھرگھر مہم مکمل کی ہے اور اس سلسلے میں عوام بھی جے یوآئی کے ساتھ بڑھ چڑھ کر جعلی مینڈیٹ کے بل بوتے کٹھ پتلی حکومت کو ختم کرنے پر تلے ہیں اُنہوں نے مزیدکہاکہ جے یوآئی کے کارکن اس وقت تک اسلام آبادمیں موجودہوں گے جب تک اس ظالم اور غریب دشمن حکومت کا خاتمہ نہیں ہوتا تب تک اسلام آباد مکمل طور پر لاک ڈاون ہوگا۔ 

مزید :

صفحہ اول -