وزیر اعظم معیشت کو عام آدمی کی نظر سے دیکھیں

وزیر اعظم معیشت کو عام آدمی کی نظر سے دیکھیں

  



بزنس ایڈیشن

حامد ولید

پاکستان کی معیشت کو وزیر اعظم عمران خان جس طرح دیکھ رہے ہیں، ایک عام آدمی وہ نظر رکھنے سے قاصر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جس قدر معیشت کی بہتری کی باتیں کر رہے ہیں،عام آدمی اسی تیزی سے مہنگائی، بے روزگاری اور بے یقینی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ آپ جس طرف نکل جائیے بازاروں میں الو بول رہے ہیں، ہوٹلوں اور ریستورانوں کے ڈائننگ ایریاز خالی پڑے ہیں، بڑی بڑی کمپنیاں خسارے رپورٹ کر رہی ہیں، نوکریوں سے جواب اب روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر اگر مصر اور پیراگوئے کی اکانوی نہیں چل سکتی تو ہماری کیونکر چل سکتی ہے۔ اس وقت جب یہ تحریر لکھی جا رہی ہے صورت حال یہ ہے کہ تاجروں کی جانب سے اعلان کردہ ہڑتال جا ری ہے، مولانا فضل الرحمٰن کا آزادی مارچ اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہے، بے یقینی کے سائے گہرے ہو رہے ہیں اور وزیر اعظم ہیں کہ چین کی بانسری بجا رہے ہیں اور ملکی معیشت کو سدھارنے کے بجائے ایران اور سعودی عرب کے تنازعے پر فوکس کئے ہوئے ہیں۔

پاکستان کی معیشت بدستور نہ صرف مشکلات کا شکار ہے بلکہ اسے سنگین چیلنجز اور خطرات کا بھی سامنا ہے۔ موجودہ حکومت کے پہلے سال یعنی 2018-19 میں بیشتر اہم معاشی اہداف نہ صرف حاصل نہیں کئے جاسکے بلکہ بیشتر اہم معاشی اشاریوں میں مزید ابتری بھی آئی۔ پہلے سے یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ 2018-19اور2019-20میں معیشت کی شرح نمو سے بھی کم رہے گی جو گزشتہ حکومت کے دور میں میں حاصل کی گئی تھی۔ عالمی بینک کی جاری کردہ رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ موجودہ حکومت کے پہلے تین برسوں میں معیشت کی اوسط شرح نمو تین فیصد سے بھی کم رہے گی۔ عالمی اقتصادی فورم نے چند روز قبل جو رپورٹ جاری کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ عالمی مسابقت 2019ء کی درجہ بندی میں پاکستان کی تین درجے تنزلی کردی گئی ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی سالانہ رپورٹ 2018-19میں کہا ہے کہ ملکی معاشی نمو نو سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے جبکہ مہنگائی چار سال بعد اپنے ہدف سے زائد رہی، معاشی ترقی بھی کم رہی، رواں کھاتوں کے خسارے میں مزید کمی کا امکان ہے۔ آئندہ مالی سال کے آخری چھ ماہ میں مہنگائی میں کمی ہوگی۔ معاشی سست روی سے گھریلو اخراجات میں کٹوتی دیکھی گئی، دیہی اور شہری آمدنی میں کمی ہوئی جس کے باعث ٹیکس ہدف حاصل کرنا ایک چیلنج ہے۔ رواں مالی سال میں مہنگائی 12فیصد تک پہنچ جانے کا خدشہ ہے۔ بجلی، پٹرولیم مصنوعات اور ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہمارے ہاں مہنگائی کو مہمیز دیتا ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ علاوہ ازیں افراطِ زر میں پچھلے چند برس میں دو سے ڈھائی گنا اضافے نے گرانی کو بے لگام کردیا۔ ایک اور مذموم روش یہ بھی رہی کہ مذکورہ اشیاء کی گرانی کی آڑ میں ناجائز منافع خوروں نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں من چاہا اضافہ کردیا جس سے حالات مزید ابتر ہوگئے۔ کچھ روز قبل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو اس امر سے بھی آگاہ کیا گیا تھا کہ کثیر الجہتی اشاریوں کی بنیاد پر غربت کی شرح 38فیصد سے زائد ہے۔ ان حالات میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سالانہ رپورٹ تشویشناک ہی قرار پائے گی خاص طور پر اس حوالے سے کہ معاشی سست روی سے گھریلو اخراجات میں کٹوتی دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں معاشرے سماجی اور اخلاقی تنزلی کا شکار ہوجاتے ہیں، جرائم بڑھنے لگتے ہیں اور بییقینی معاشرے کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ حکومت کی کاوشوں سے انکار نہیں لیکن یہ امر بھی ناقابلِ تردید ہے کہ مہنگائی و غربت کو دور کرنے کے موثر اقدامات نہ کئے گئے تو حکومت کے باقی تمام کارنامے اپنی افادیت کھودیں گے۔ حکومت کو چاہئے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر مہنگائی کے تدارک کے لئے موثر اقدامات کرے۔

ایک محتاط تخمینے کے مطابق گزشتہ 23برسوں میں صرف پاکستانی شہریوں نے (اداروں کے علاوہ) ملکی قوانین کے تحت 160ارب ڈالر سے زائد کی رقوم ملک سے باہر منتقل کیں۔ گزشتہ حکومت نے اس ضمن میں کچھ غیرموثر اقدامات اٹھائے تھے مگر موجودہ حکومت نے اب تک اس معاملے میں کچھ نہیں کیا۔ یہ بات نوٹ کرنا اہم ہے کہ 31جنوری2019کو پاکستان کے بیرونی قرضوں و ذمہ داریوں کا حجم تقریباً 101ارب ڈالر تھا۔ اگر ملکی قوانین کے تحت سوائے تعلیم اور علاج معالجے کے کسی اور مقصد کیلئے رقوم ملک سے باہر منتقل کرنے کی اجازت نہ ہوتی تو دو بڑے ڈیم تعمیر کرنے اور قدرت کے عطا کردہ معدنی وسائل سے بھرپور استفادہ کرنے، پیداواری مقاصد کیلئے بڑے پیمانے پر بیرونی قرضے لینے کے باوجود آج ہمارے بیرونی قرضوں کا حجم بہت کم ہوتا، معیشت 8-10فیصدسالانہ کی شرح سے بڑھ رہی ہوتی، جی ڈی پی کا حجم 300ارب ڈالر کے بجائے 1500ارب ڈالر ہوتا اور ہماری برآمدات 26ارب ڈالر سالانہ کے بجائے 150ارب ڈالر سالانہ ہوتیں۔

موجودہ حکومت کواونچا بجٹ اور جاری حسابات کا خسارہ ورثے میں ملا تھاان نے ان پر قابو پانے کے لئیاس نے اپنے منشور کے مطابق ٹیکسوں و توانائی کے شعبوں اور پیداوار بڑھانے کے لئے بنیادی نوعیت کی اصلاحات کرنے سے اجتناب کیا ہے کیونکہ ان اصلاحات سے طاقتور طبقوں کے ناجائز مفادات متاثر ہوتے ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے چند ہفتے قبل اعتراف کیا کہ بجٹ و جاری حسابات کے خسارے کوکنٹرول کرنے کے لئے روپے کی قدر گرنے دی گئی، ٹیکسوں (بالواسطہ) کا بوجھ عوام پر ڈالا گیا اور بجلی، گیس و پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ کیا گیا چنانچہ افراط زر میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ افر اط زر کو کنٹرول کرنے کے لئے اسٹیٹ بینک کو پالیسی ریٹ میں متعدد بار اضافہ کرناپڑا اور یہ کہ ان تمام اقدامات کے نتیجے میں معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ حکومت نے معیشت کی شرح نمو قربان کرکے اور عوام پر غیر ضروری بوجھ ڈ ال کر معیشت کو عارضی ”استحکام“ دینے کی جو پالیسی اپنائی ہے اس کے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں

ترقیاتی منصوبوں پر محض اپنے نام کی افتتاحی تختیاں لگانے کی دوڑ ماضی میں بھی اس بات کا لحاظ رکھے بغیر عجیب لگتی تھی کہ آیا منصوبہ اپنی تکمیل کے مراحل تک پہنچا یا فنڈز کی کمی یا اْن کے غلط استعمال کی وجہ سے کئی برسوں تک زیرِ تکمیل رہا، آج بھی ایسی ہی کیفیت کا نظر آنا بعض سوالات کا سبب بنتا ہے، دوسری طرف ایسے ادارے بھی موجود ہیں جو نہ صرف اپنے دئیے پیسوں کی پائی پائی کا حساب مانگتے ہیں بلکہ اْن کا قانون کے مطابق درست جگہ استعمال بھی یقینی بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ورلڈ بینک نے میٹرو پولیٹن کارپویشن لاہور کو دی جانے والی گرانٹ کے خلافِ قانون استعمال پر اپنے فنڈز روک لئے ہیں جس سے درجنوں ترقیاتی اسکیمیں ٹھپ ہو گئی ہیں۔ ورلڈ بینک کے قانون کے برعکس کارپوریشن افسر اسکیموں کی بندر بانٹ میں مصروف رہے جس کی وجہ سے ورلڈ بینک نے 17ترقیاتی اسکیموں پر اعتراض لگایا ہے کہ پرانی اسکیموں کی بحالی کے بجائے نئی ترقیاتی اسکیمیں کیوں بنائی گئیں؟ میٹروپولیٹن کارپوریشن نے فنڈز قانون کے برعکس

پبلک آفسز کے بجائے سرکاری افسروں کی رہائش گاہوں پر خرچ کر دیئے جبکہ ورلڈ بینک نے تکمیل کو پہنچنے والی سابقہ ترقیاتی اسکیموں کے معیار پر بھی اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ترقیاتی فنڈز کے غلط استعمال کی یہ داستان یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ جب بھی کوئی چھوٹا یا بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع ہوتا ہے تو کئی حصہ دار اپنا اپنا حصہ وصول کرنے پہنچ جاتے ہیں۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ ملکی و غیر ملکی فنڈز کا قانون کے مطابق درست استعمال یقینی بنانے کیلئے ایسی مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو پوری ایمانداری سے پائی پائی کا حساب رکھیں تاکہ ایسے منصوبے بلاتاخیر اپنی تکمیل کے مراحل تک پہنچ سکیں اور عوام اْن سے مستفید ہو سکیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیر اعظم معیشت کو عام آدمی کی نظر سے دیکھیں اور اس کے مسائل کے حل کے لئے ایسی پالیسیاں مرتب کروائیں جن سے اس کی زندگی آسان ہو سکے۔ محض لنگر خانوں اور شیلٹر ہوم کھولنے سے معیشت ترقی نہیں کرے گی۔

سرخیاں

لنگر خانوں اور شیلٹر ہوم کھولنے سے معیشت ترقی نہیں کرے گی

آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر اکانوی کیونکر چل سکتی ہے

بجلی، گیس و پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ کیا گیا

تصاویر

وزیر اعظم

آئی ایم ایف

سٹیٹ بینک

وزیر خزانہ

تاجروں کی ہڑتال

مزید : ایڈیشن 1