پاک چین دوستی اور تجارت 

  پاک چین دوستی اور تجارت 

  

 ضیاء الحق سرحدی پشاور

ziaulhaqsarhadi@gmail.com

پاکستان اور چین کی دوستی ایک مضبوط دیوار کی مانند ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے ہر مشکل وقت میں چین نے پاکستان کا ساتھ دیاہے۔ پھر چاہئے بات پاکستان کی معاشی ترقی کی ہو یا پھر دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کی دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کے لئے اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔پاکستان اور چین کے درمیان باقاعدہ تعلقات کا آغاز1950ء میں ہوا۔پاکستان اسلامی دنیا کا پہلا اور غیر کمیونسٹ ممالک میں تیسرا ملک تھا۔جس نے1950ء کے تائیوان چین تنازے کے فوراًبعد چین کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔تاہم دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات 31مئی 1951ء میں قائم ہوئے۔دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں نمایاں گرم جوشی 1962ء کی چین بھارت سرحدی جنگ کے بعد پیداہوئی۔بھارت کو اپناروایتی دشمن سمجھنے والی پاکستانی قیادت نے چین سے تعلقات بڑھاتے ہوئے اسے خطے میں ایک متبادل طاقت کے طور پر ابھرنے میں مدد فراہم کی تاکہ بھارتی اثر ورسوخ کا راستہ روکا جا سکے1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران بھی چین نے پاکستان کو خاصی مدد فراہم کی جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور اقتصادی رابطوں میں مزید شدت آئی 1966ء میں فوجی تعاون کا آغاز ہوا۔چین پاکستان کو دفاعی پیداوار میں اپنے پاؤں پر کھڑا کر رہا ہے۔چین سے ملنے والااسلحہ سستا ہوتا ہے جو مغرب سے نہیں ملتا۔اگر کوئی چیز نہیں ملتی تو دونوں پاکستان اور چین مشترکہ طور پر تیار کرتے ہیں۔جس میں کچھ مغربی اور کچھ چین کی ٹیکنالوجی شامل ہوتی ہے۔اس کے مقابلے میں دونوں جنگوں میں چین نے بڑے بھائی کا قابل ستائش کردار ادا کیا۔پاکستان نے بھی ہمیشہ چین کی خیر سگالی کا مثبت جواب دیا۔پاکستان نے چین اور امریکہ کے مابین سفارتی تعلقات قائم کرنے اور اقوام متحدہ میں اس کی رکنیت بحالی کرنے کے لیے بھر پور سفارت کاری کی۔1970میں پاکستان کی انتھک کوششوں سے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کے خفیہ دورہ بیجنگ کے انتظامات ممکن ہوئے۔اس طرح چین اور مغربی دنیا کے درمیان براہِ راست رابطے ممکن ہو سکے اور پاکستان ہی کی بدولت 1972میں امریکی صدر چرڈنکسن نے چین کا سرکاری دورہ کیا۔1978میں چین اور پاکستان کے درمیان واحد زمینی راستے قراقرم ہائی وے کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔1984میں پاکستان اور چین کے درمیان جو ہری توانائی کے میدان میں تعاون کے سمجھوتے پر دستخط کیے گئے۔دونوں ممالک کی افواج کئی مشترکہ فوجی مشقیں بھی کر چکی ہیں۔جس کا مقصد انسداد دہشت گردی کے لیے باہمی تعاون کا فروغ قرار دیا گیا تھا۔2005اور2010میں دکھ کی گھڑی میں چین نے پاکستان میں آئے ہوئے سیلاب اور زلزلے کی تباہ کاریوں کے مداوے کے لیے 247ملین ڈالرز کی امداد کی تھی۔پاکستان اور چین ایک دوسرے کے بڑے اتحادی ہیں۔یہ اتحادی دفاعی پہلووں سمیت اقتصادی پہلووں کا احاطہ کرتا ہے۔پاکستان اور چین کے درمیان سیاسی بندھن اٹوٹ ہے۔یہی وجہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کاروباری تعلقات ہمیشہ نمودپزیر رہے ہیں۔پاکستان کے چین سے بڑھتے تعلقات اور پاکستان کی خوشحالی وترقی اس کے دشمنوں کے لیے کسی ڈراوے نے خواب سے کم نہیں۔چین کا شمار دنیا کے ان مضبوط ترین ممالک میں ہوتا ہے۔جو اقتصادی حوالے سے مستحکم ہیں۔جب کہ دوسریطرف پاکستان کا شمار ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے۔لیکن اس کے باوجود دونوں ملکوں کے مابین تعلقات ہمیشہ مثالی رہے ہیں۔پاک چین باہمی رشتے کو بہت زیادہ اہمیت حاصل رہی ہے۔ہر عہدے میں پاکستان اور چین نے اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کے اقدامات کیے ہیں۔بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں اس حقیقت کو رشک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان ایسے قریبی اور گہرے دوستانہ تعلقات موجود ہیں جو دونوں ممالک کے عوام کی زندگی کے بیشتر شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔اسی باعث یہ دوستی محض حکومت کی سطح پر نہیں بلکہ عوامی سطح پر استوار ہے۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ باہمی تجارت کا شعبہ اقتصادی اور معاشی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کا حامل تسلیم کیا جاتا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات نہایت نمایاں اور ثمر بار مشاہدہ کیے جاتے ہیں جن کو سی پیک ایسے ہمہ جہت منصوبے نے ایک نیا اعتبار دیا ہے۔اس تناظر میں یہ خبر ہر اعتبار سے مسرت انگیز تسلیم کی گئی کہ پاکستان اور چین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (FATA)دوئم پر مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔جس کے بعد چین آزاد تجارتی معاہدے دوئم سے متعلق پاکستان کے خدشات دور کرنے اور پاکستان کو آسیان ممالک کے مساوی رعایت دینے پر راضی ہو گیا۔علاوہ ازیں چین نے الیکٹرانک ڈیٹا تبادلے پر بھی رضامندی ظاہر کر دی ہے جس کے نتیجے میں انڈرانوائسنگ کے امکانات کم ہو جائیں گے۔پاکستان اور چین کے تجارتی تعلقات کا اجمالی جائزہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ چین کے ساتھ تجارت کے باب میں پاکستان کا خسارہ گزشتہ پانچ برسوں میں تین گنا بڑھ کر گزشتہ مالی سال میں 21بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گیاتھا۔چین سے کی جانے والی درآمدات کل ملکی درآمدات کا 29فیصد ہیں جبکہ برآمدات کے ضمن میں یہ شرح کل برآمدات کا 8.8فیصد ہے۔یہ وطن عزیزکی اس معیشت کے لیے ایک وسیع خلیج کی صورت اختیار کر چکی ہے جس کی کل بر آمدات چین کے ساتھ تجارتی خسارے کا دوگنا ہیں۔یہ تجارتی خسارہ عام طور پر تشویش کا باعث بنا ہواہے جس کی طرف توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔بعض اقتصادی وتجارتی ماہرین کی طرف سے اس دلیل کے ساتھ اصرار کیا جاتا ہے کہ اس وقت تک صبر وتحمل کے ساتھ انتظار کیا جائے جب تک برآمدات میں اضافہ اور حوصلہ افزائی کے لیے درآمدکی گئی کیپٹل گڈز کے قیام اور تنصیب کاکام مکمل نہ ہو جائے لیکن یہ بات یکسر نظر انداز کر دی جاتی ہے کہ کچھ ایسے ہی سبز باغ پرویز مشرف کے دور حکومت (2004ء)میں بھی دکھائے گئے تھے جب موجودہ خسارے میں اضافے کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔اس بنا پر باورکیا جا سکتا ہے کہ رائے عامہ مذکورہ دلیل اور جواز کو تسلیم نہیں کرتی۔اہل وطن چاہتے ہیں کہ پاک چین تعلقات کے سلسلے میں پہلے تو دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے اقتصادی روابط میں پاکستان کے مفادات کا تحفظ کیا جائے اور بعدازاں مذاکرات کی میز پر ان تعلقات کی برابری سطح پر بھر پور نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔واضح رہے کہ2006ء میں ایف ٹی اے پر دستخط ہوئے اور اس کے بعد 2015ء تک کے عرصے میں چین کے لیے پاکستان کی برآمدات میں 1.4بلین ڈالر کا اضافہ ہوا۔یہ صورتحال بجا طور پر اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ پاک چین تجارت کے ان پہلوؤں کی طرف خصوصی توجہ دی جائے جو وطن عزیز کے قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔یہ خیال بھی مدنظر رہے کہ چین کے ایماپر گزشتہ دنوں اس بارے اتفاق رائے ہوا کہ دوطرفہ تجارت کے سلسلے میں امریکی ڈالر کے بجائے چینی کرنسی کو بھی بروئے کار لایا جائے۔اس فیصلے اور اقدام کے دور رس نتائج کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ چینی کرنسی کو ابھی تک بین الاقومی منڈیوں اور مالیاتی اداروں میں امریکی ڈالر ایسی قدر اور قبولیت حاصل نہیں ہوئی تاہم چینی کرنسی کو مشرق بعید کے بعض ممالک میں پزیرائی حاصل ہو رہی ہے۔یہ حقیقت کوئی راز نہیں ہے کہ کسی بھی ملک کی اقتصادی اور معاشی حالت کو بہتر اور مضبوط بنانے کے ضمن میں اس کی درآمدات اور برآمدات کے درمیان توازن ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ پاک 

چین آزاد تجارتی معاہدے کو حقیقی معنوں میں مفید بنانے کے لیے ضروری ہے کہ تجارتی خسارے کو ختم کرنے کی طرف بھر پور توجہ دی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ قومی معیشت کے استحکام کی خاطرزمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے 

قومی مفادات کے تابع حقیقت پسندانہ پالیسیاں اختیار کی جائیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -