ہم مقبوضہ کشمیر کھو چکے، ہمارا مسئلہ مظلوم کشمیری نہیں آزادی مارچ

ہم مقبوضہ کشمیر کھو چکے، ہمارا مسئلہ مظلوم کشمیری نہیں آزادی مارچ

  



تجزیہ؛ایثار رانا

مجھے کہنے دیجئے ہم سب کشمیریوں کے قاتل ہیں۔آپ ان جملوں سے ناراض ہولیں کہ وہاں بھارت جو بھی ظلم و ستم کررہاہے ہم اسکے برابر کے حصہ دار ہیں۔ہمارے کانوں میں بے حسی کا سیسہ ڈل چکا ہے۔اب وہاں ماؤں بہنوں کی عصمت دری پہ ہماری غیرت نہیں جاگتی، کیو نکہ کشمیر اور سسکتے مظلوم کشمیری ہمارا مسئلہ نہیں۔ہمارا مسئلہ آزادی مارچ جسے شاید خود نہیں پتہ کس سے آزادی لینے جارہا ہے۔میڈیا کی ترجیح بھی لانگ مارچ اور اس سے منسلک جزیات ہیں۔پیپلز پارٹی اور مسلم۔لیگ مجھے مارا میرے ماموں کو مار کے دکھا کہہ رہے ہیں۔اور ہاں حکومت اور اس سے منسلک ادارے اندرون خانہ اس مارچ سے اتنے خوفزدہ نہیں جتنے خوش ہیں۔اس مارچ کے سبب ان پہ قوم کی جانب سے کشمیریوں کیلئے آخری حد تک حتیٰ کہ جنگ کرنے کا مطالبہ بھی اپنی موت آپ مرچکا۔آج جموں و کشمیرو لداخ پر مودی کی براہ راست حکومت ہوجائے گی۔مقبوضہ وادی میں آرٹیکل 370 کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوگا۔یعنی اب دہلی براہ راست سرینگر کا مالک ہوگا۔مجھے بتائیں کیا حکومت نے پچھلے پندرہ دنوں میں اس نئی ہونیوالی ڈیویلپمنٹ پر کوئی وفد باہر بھیجا؟کسی انٹرنیشنل پلیٹ فارم پہ اس حوالے سے با ت کی؟کسی سیاستدان نے حکومتی خاموشی پر کوئی ایک بیان دیا؟قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے کوئی ایک قرارداد بحث کیلئے پیش کی؟کشمیر حکومت کا مسئلہ ہے نہ اپوزیشن کا اور نہ کسی ادارے کا۔یہ سب ملی بھگت ہے۔سب نے فضل الرحمن کے پیچھے کیموفلاج کرلیا ہے۔کشمیری بہنوں کی چیخیں گو عمران گو کے شور میں دب گئیں۔بھارتی فوج کے بھاری بوٹوں کی دھمک آزادی کنٹینر کے شور میں گم ہوگئی۔بھارت کے ہزا روں ٹارچر سیلوں میں دم توڑتے کشمیریوں کی نزاعی ہچکیاں حکومت اور اپوزیشن کی گالیوں میں کھوگئی۔۔۔یاد رکھیں ہم مقبوضہ کشمیر کھو چکے۔۔۔یہ بھی یاد رکھیں۔مجھے اور مجھ جیسے لوگوں کو اس بدبودار نظام سے اتنی نفرت نہیں۔جتنی وقت آنے پر مقبوضہ کشمیر کے عوام اس دھرتی اور بزدل و مجبور حکمرانوں،لالچی غیر ملکی ایجنڈوں اور دولت کی حرص میں حلقوم سے باہر نکلی زبانوں والے سیاستدانوں سے کرینگے۔۔۔رہے ہمارے ادارے تو انہیں۔۔۔کچھ کہنا ”شاید “ قبل از وقت ہے۔

تجزیہ ایثار رانا.

مزید : تجزیہ


loading...