منظم اور پرامن مارچ، کریڈٹ پنجاب حکومت اور جے یو آئی کو جاتا ہے

منظم اور پرامن مارچ، کریڈٹ پنجاب حکومت اور جے یو آئی کو جاتا ہے

  



تجزیہ:محسن گورایہ

آزادی مارچ لاہور سے پرامن طور پر اسلام آباد کیلئے روانہ ہو چکا ہے۔اس مارچ کے پنجاب میں پہنچنے،لاہور میں جلسے اور انتظامات اور اب تک پرامن رہنے کا کریڈٹ اگر مولانا فضل الرحمان اور جے یو ا?ئی کو جاتا ہے تو دوسری طرف پنجاب حکومت نے بھی اس سلسلے میں مثالی کام کیا ہے۔ حکومت کی طرف سے مارچ کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی بجائے اسے سہولتیں فراہم کی گئیں تاکہ ٹریفک چلتی رہے ماحول پرامن رہے۔میرے خیال میں یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ سیاسی اور انتظامی طور پر ایک اچھی میچیورٹی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔پنجاب کو اس سلسلے میں اس چیز کا فائدہ بھی ہے کہ چیف سیکرٹری یوسف نسیم کھوکھر پنجاب کے انتطامی معاملات کے ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ وفاق میں سیکرٹری داخلہ رہنے کا تجربہ بھی رکھتے ہیں یوں وہ انتظامی معاملات کے علاوہ لا اینڈ آرڈر کو ہینڈل کرنے میں بھی ماہر ہیں اور انہوں نے اس مارچ کیلئے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔پنجاب کے محکمہ داخلہ اور پولیس نے بھی اس مارچ کے حوالے سے زبردست انتظامات کئے۔کینٹینر لگائے گئے نہ ہی کسی جگہ معمول سے زیادہ پولیس نفری نظر آئی۔ جے یو آئی کی قیادت بالخصوص خود مولانا فضل الرحمان کو بھی اس کا کریڈٹ جاتا ہے کہ ان کے ورکرز اور خصو صی طور پر نظر آنے والی ڈنڈا فورس نے بھی مارچ کے انتظامی معاملات کو سنبھالنے کیلئے سینجیدگی کا مظاہرہ کیا اور یوں مارچ،جلسوں اور راہنماوں کے خطاب کے ساتھ ساتھ ٹریفک کا پہیہ بھی چلتا رہا۔پنجاب میں ابھی تک کے مارچ میں جے یو آئی کے ورکرز ہی چھائے رہے۔دونوں بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے ورکرز بہت کم نظر آئے۔کچھ مقامات پر مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی اور راہنماوں کی طرف سے کیمپ لگائے گئے جن میں انکی جماعت کے کارکنوں کی حاضری نہ ہونے کے برابر تھی۔ میں نے لاہور میں اس مارچ اور جلسے کا خود بھی مشاہدہ کیا اور یہ ایک بڑی سیاسی سرگرمی تھی مارچ کے شرکا مکمل طور پر ایکٹو اور چارج نظر آئے۔مارچ کی طوالت کے بارے میں ہمارے دوستوں کی مختلف آرا تھیں مگر ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ اکثر اوقات تین کلومیٹر کے قریب رہا اور اس میں اوسط پچیس ہزار کے قریب عوامی شرکت نظر آ رہی ہے۔اگر اس میں شامل کاروں،ویگنوں موٹر سائیکلوں،ٹرکوں،بسوں کی تعداد کی بات کی جائے تو یہ بھی خاصی زیادہ تھی اکثر وقت یہ ڈھائی تین ہزار رہی۔

تجزیہ محسن گورایہ

مزید : تجزیہ


loading...