ٹرین کے اندر عمومی طور پر کتنے گیس سلینڈرز ہوتے ہیں اور کہاں پر رکھے جاتے ہیں ؟ سینئر صحافی نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا

ٹرین کے اندر عمومی طور پر کتنے گیس سلینڈرز ہوتے ہیں اور کہاں پر رکھے جاتے ہیں ...
ٹرین کے اندر عمومی طور پر کتنے گیس سلینڈرز ہوتے ہیں اور کہاں پر رکھے جاتے ہیں ؟ سینئر صحافی نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )لیاقت پور کے قریب تلواری سٹیشن پر ٹرین کی تین بوگیوں میں سلینڈر پھٹنے سے آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں اب تک 62 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ درجنو ں زخمی ہو گئے ہیں جنہیں ہسپتال منتقل کیا جارہاہے ۔

نجی ٹی وی جیونیوز کے سینئر صحافی امین حفیظ نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ” شیخ رشید یا ریلوے کے کسی دوسرے حکام سے یہ پوچھیں کہ ریلوے کی جتنی ڈائننگ کاریں ہوتی ہیں جوکہ دوران سفر مسافروں کو چائے اور کھانا بنا کر دیتی ہیں ان کا چولہا کس پر چلتا ہے ، ان کا چولہا سلینڈر پر چلتا ہے اور ایک سلینڈر نہیں بلکہ اس میں چھ تک سلینڈر ہوتے ہیں ، چلتی ہوئی ٹرین پر سلینڈر کااستعمال نہایت ہی خطرناک ہے ۔

ڈی سی او نے بتا یا ہے کہ ٹرین کی تینوں بوگیوں میں مجموعی طور 207 مسافرسوار تھے اور ان میں سے زیادہ تر حیدرآباد سے ٹرین میں سوار ہوئے ، ٹرین کی بوگی نمبر تین اور چار ” امیر حسین اینڈ جماعت “ کے نام پر بک تھیں جبکہ بوگی نمبر پانچ بزنس کلا س تھی جس میں 54 افراد سوار تھے ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بزنس کلاس کی بوگی میں کچھ تبلیغی جماعت کے لوگ تھے جبکہ اس میں عام مسافر بھی سوار تھے ، بوگی نمبر پانچ کے مسافروں کا ڈیٹا موجود ہے تاہم بوگی نمبرتین اور چار کا ڈیٹا موجود نہیں وہ ایک ہی شخص کے نام پر بک ہیں ۔اکانومی کی ایک بوگی میں 77 اور دوسری میں 76 افراد سوار تھے ۔

نجی ٹی وی جیونیوز سے بات کرتے ہوئے سینئر صحافی امین حفیظ نے بتایا کہ اکانومی کلاس میں 80 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہو تی ہے لیکن عمومی طور پر اس میں کبھی کبھی رش ہونے کے باعث زیادہ بھی سوار ہو جاتے ہیں جبکہ اے سی ڈبے میں 45 سے 50افراد کی گنجائش ہوتی ہے ۔

مزید :

قومی -