تیز گام ایکسپریس میں آتشزدگی شارٹ سرکٹ کے باعث ہوئی، عینی شاہد

تیز گام ایکسپریس میں آتشزدگی شارٹ سرکٹ کے باعث ہوئی، عینی شاہد
تیز گام ایکسپریس میں آتشزدگی شارٹ سرکٹ کے باعث ہوئی، عینی شاہد

  

رحیم یا ر خان (ڈیلی پاکستان آن لائن) تیز گام ایکسپریس میں آتشزدگی سلنڈر دھماکے سے نہیں ہوابلکہ شارٹ سرکٹ سے ہوئی ہے،واقعہ انتظامیہ کی عدم توجہ کے باعث پیش آیا۔

نجی ٹی وی جی این این نے عینی شاہد کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ تیز گام ایکسپریس میں آتشزدگی سلنڈر دھماکے سے نہیں ہوابلکہ شارٹ سرکٹ سے ہوئی ہے،بوگیوں سے رات سے بدبو آ رہی تھی جس کے متعلق ریلوے انتظامیہ کو آگاہ کیا گیا تھا ،مسافروں کی شکایت پر ریلوے انتظامیہ نے شکایت کا کوئی نوٹس نہیں لیا تھا۔

یادر ہے کہ تلواری سٹیشن پر تیز گام ایکسپریس میں گیس سلنڈر دھماکے میں جا ں بحق افراد کی تعداد65 ہو گئی جبکہ زخمیوں میں متعدد افراد کی حالت تشویشناک ہے ۔ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر باقرحسین نے کہا ہے کہ ٹرین حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد65 ہو گئی ہے اور زیادہ ترلاشیں قابل شناخت نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے ،وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ٹرین حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تیز گام ایکسپریس کراچی سے پنڈی جارہی تھی ،ٹرین میں تبلیغی اجتماع پر جانے والے افراد سوار تھے، لیاقت پور کے قریب ٹرین میں ناشتہ بناتے ہوئے سلنڈر دھماکے سے پھٹ گیا جس سے مسافروں کے سامان میں موجود گھی ،آئل وغیرہ سے آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری بوگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، آگ مزید بڑھتے بڑھتے دوسری اور تیسری بوگی تک پہنچ گئی اور وہاں پرموجود سلنڈر بھی دھماکے سے پھٹ گئے۔

آتشزدگی واقعہ میں مسافر چلتی ٹرین سے کود گئے ،واقعہ میں جاں بحق افراد کی تعداد65 ہو گئی جبکہ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے،واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ، جاں بحق اور زخمیوں کو رحیم یار خان کے ہسپتال میں منتقل کردیا گیا،ہسپتال میں سہولیات ناکافی ہونے کی وجہ سے زخمیوں کو نشتر ہسپتال ملتان منتقل کیا جائے گا۔

ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر باقرحسین نے کہا ہے کہ کوئی بھی لاش قابل شناخت نہیں ہے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے ،آتشزدگی کا واقعہ صبح 6 بج کر 45 منٹ پر پیش آیا،فائر بریگیڈاور ریسکیو کے عملے نے کافی تک و دو کے آگ پر قابو پا لیا۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کا کہنا ہے کہ گاڑی میں آگ گیس کا چولہا پھٹنے سے لگی، آگ نے تین بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لیا، آگ کو بجھانے کیلئے امدادی کارروائیاں جاری ہیں، 2 گھنٹے میں ٹریک کھول دیں گے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا تبلیغی جماعت کے کچھ افراد سلنڈر پر ناشتہ بنا رہے تھے، مسافروں کو لیاقت پور پہنچا دیا گیا۔ آگ 3، 4 ،5 نمبر بوگی میں لگی، متاثرہ بوگیوں میں رائیونڈ تبلیغی اجتماع پر جانے والے افراد سوار تھے۔

ڈی سی او کے مطابق 2 بوگیاں امیر حسین اینڈ جماعت کے نام سے بک تھیں، متاثرہ تینوں بوگیوں میں 207 مسافر سوار تھے، ایک بوگی میں 77، دوسری میں 76 مسافر سوار تھے، متاثرہ تیسری بزنس کلاس کی بوگی میں 54 مسافر سوار تھے، زیادہ تر مسافر حیدرآباد سے سوار ہوئے۔

ایم ایس ندیم ضیا کے مطابق 42 زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، 18 لاشیں ناقابل شناخت ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق سرچنگ کے دوران بوگی سے 2 گیس سلنڈر ملے ہیں۔ سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر سخاوت کا کہنا ہے کہ متاثرہ بوگیوں میں زیادہ تر تبلیغی جماعت کے افراد تھے، زیادہ تر افراد کا تعلق حیدرآباد اور میرپور خاص سے تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے جوان مقامی انتظامیہ کیساتھ مل کر امدادی کارروائیاں میں مصروف ہیں، آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر بھی ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہا ہے، پاک فوج کے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس بھی امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

دنیا نیوز کے مطابق عینی شاہدین نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کوئی سلنڈر نہیں پھٹا، رات سے ہی بوگی نمبر 12 میں جلنے کی بو آ رہی تھی، سپارک سے متعلق انتظامیہ کو آگاہ کیا لیکن کچھ نہ کیا گیا، چلتی ٹرین سے چھلانگیں لگا کر جان بچائی۔

وزیراعظم نے رحیم یار خان کے قریب تیز گام ایکسپریس میں آتشزدگی کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا عمران خان نے غم زدہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی امداد دینے کی ہدایت کی۔

مزید :

قومی -علاقائی -پنجاب -رحیم یارخان -