نوازشریف کی پرویز مشرف کا ٹرائل شروع کرنے کی کوشش لیکن پھر چوہدری نثار نے کیا کام کردیا؟ سینئر صحافی کا تہلکہ خیز انکشاف

نوازشریف کی پرویز مشرف کا ٹرائل شروع کرنے کی کوشش لیکن پھر چوہدری نثار نے کیا ...
نوازشریف کی پرویز مشرف کا ٹرائل شروع کرنے کی کوشش لیکن پھر چوہدری نثار نے کیا کام کردیا؟ سینئر صحافی کا تہلکہ خیز انکشاف

  



اسلام آباد(ویب ڈیسک) سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی زیر التوا ہے اور وہ علاج کے سلسلے میں بیرون ملک گئے اور تاحال وہیں موجود ہیں، اب اسی سلسلے میں سینئر صحافی حامد میر نے بھی روشنی ڈالی ہے ۔

روزنامہ جنگ میں اپنے کالم میں حامد میر نے لکھا کہ " جب نواز شریف وزیراعظم تھے اور انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے ٹرائل کا فیصلہ کیا۔ ٹرائل شروع کرنے سے قبل انہوں نے آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن سمیت اہم سیاستدانوں کو اعتماد میں لیا۔

نواز شریف کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان اس ٹرائل کے خلاف تھے۔ انہوں نے ایف آئی اے کے ذریعے آصف زرداری کے خلاف تحقیقات شروع کردیں۔ اب زرداری صاحب کو پیغامات ملنے لگے کہ آپ نواز شریف کا ساتھ چھوڑ دیں لیکن زرداری نے یہ پیغام نظر انداز کئے۔

جب ان پر دبائو بڑھا تو انہوں نے دبائو کم کرنے کے لئے اینٹ سے اینٹ بجانے والی تقریر کردی۔ اس تقریر سے اگلے دن ان کی نواز شریف کے ساتھ ملاقات طے تھی۔

نواز شریف نے یہ ملاقات منسوخ کردی۔ مولانا نے دونوں کے درمیان پل بننے کی کوشش کی لیکن زرداری صاحب کا دماغ الٹ چکا تھا۔ وہ علاج کے لئے بیرونِ ملک چلے گئے، انہیں پیغام بھیجا گیا کہ واپس مت آنا ورنہ برا انجام ہوگا۔

زرداری صاحب نے اپنے مختلف رابطے استعمال کئے اور جنرل راحیل شریف کو نیوٹرل کردیا۔ راحیل شریف کے ساتھ خاموش مفاہمت کے بعد وہ پاکستان واپس آگئے اور انہوں نے نواز شریف سے انتقام کی پالیسی پر عملدرآمد شروع کردیا۔

مولانا نے انہیں بہت روکا لیکن وہ نہیں رکے۔ پھر پاناما اسیکنڈل آگیا۔ نواز شریف مئی 2016میں علاج کے لئے بیرون ملک گئے تو انہیں کہا گیا واپس مت آنا انجام برا ہوگا۔ وہ واپس آگئے اور عدالت نے انہیں نااہل کردیا۔ اب مولانا فضل الرحمٰن کو احساس ہونے لگا کہ ان کے ساتھ بھی کچھ ہونے والا ہے"۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد